🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

514. إِخْبَارُ الرَّاهِبِ بِخُرُوجِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ایک راہب کی طرف سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5685
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر، حدثنا محمد بن فُليح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهاب، قال: قَدِمَ طلحةُ بن عُبيد الله بن عثمان بن عمرو بن كعب بن سعد بن تَيْم (1) بن مُرّة من الشام بعدما رجع النبيُّ ﷺ من بدرٍ، فكَلَّم النبيَّ ﷺ: في سَهْمِه، فقال له النبيُّ ﷺ:"لك سَهمُك" قال: وأَجري يا رسولَ الله؟ قال:"ولكَ أجرُك" (2) .
ابن شہاب کہتے ہیں: سیدنا طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگ بدر سے واپس آنے کے بعد ملک شام سے واپس آ گئے تھے، اور آ کر انہوں نے اپنا جنگ بدر کا حصہ مانگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حصہ عطا فرمایا۔ پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا اجر و ثواب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں تمہیں اجر بھی ملے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5685]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5686
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة، حدثنا الحسن بن جَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، عن الضحاك بن عثمان، حدَّثه مَخْرمةُ بن سُليمان الوالِبيّ، عن إبراهيم بن محمد بن طلحة، قال: قال طلحة بن عُبيد الله: حضرتُ سوقَ بُصْرى، فإذا راهبٌ في صَومعَتِه يقول: سَلُوا أهلَ هذا المَوسِم: أفيهم أحدٌ من أهلِ الحَرَم؟ قال طلحةُ: قلتُ: نعم، أنا، فقال: هل ظهَرَ أحمدُ بعدُ؟ قال قلتُ: ومن أحمدُ؟ قال: ابن عبد الله بن عبد المطّلب، هذا شَهرُه الذي يَخرُج فيه، وهو آخِرُ الأنبياء، مَخرَجُه من الحَرَم ومُهاجَرُه إلى نَخْل وحَرّةٍ وسِباخٍ، فإياكَ أَن تُسبَقَ إليه، قال طلحةُ: فوَقَع في قَلْبي ما قال، فخرجتُ سريعًا حتى قَدِمتُ مكةَ، فقلت: هل كان من حَدَثٍ؟ قالوا: نعم، محمد بن عبد الله الأمينُ تَنبّأ وقد تَبِعَه ابن أَبِي قُحَافَة، قال: فخرجتُ حتى دخلتُ على أبي بكر، فقلتُ: اتّبعتَ هذا الرجلَ؟ قال: نعم، فانطَلِقْ إليه فادخُل عليه فاتَّبِعْه، فإنه يَدعُو إلى الحقِّ، فأخبَرَه طلحةُ بما قال الراهبُ، فخرج أبو بكر بطلحةَ، فدخَلَ به على رسول الله ﷺ، فأسلَمَ، طلحةُ، وأخبرَ رسولَ الله ﷺ بما قال الراهبُ، فسُرَّ رسولُ الله ﷺ، فلما أسلمَ أبو بكر وطلحةُ أخذَهما نوفلُ بن خُوَيلد بن العَدَوية فشدَّهُما في حَبْلٍ واحدٍ، ولم يَمنَعْهما بنو تَيْم، وكان نوفلُ بن خُوَيلد يُدعَى أسَدَ قُريش، فلذلك سُمِّي أبو بكر وطلحة القَرِينَين. ولم يشهد طلحةُ بن عُبيد الله بدرًا، وذلك أنَّ رسولَ الله ﷺ كان وجَّهَه وسعيدَ بن زيد يتحَسّسان خَبرَ العِيرِ، فانصرَفا وقد فَرَغَ رسولُ الله ﷺ مِن قتالِ مَن لَقيَه من المُشركين، فلَقِيَاه بتُرْبان (1) فيما بين مَلَلٍ (2) وسَيَالةَ على المَحبَّة مُنصرِفًا من بدر، ولكنه شهد أُحدًا وغيرَ ذلك من المشاهِد مع رسولِ الله ﷺ، وكان ممَّن ثَبَتَ مع رسول الله ﷺ يومَ أُحُد حين وَلّى الناسُ وبايَعَه على الموتِ، ورَمَى مالكُ بنُ زُهَير رسولَ الله ﷺ يومَئذٍ فاتَّقى طلحةُ بيدِه وجْهَ رسول الله ﷺ فأصابَ خِنْصَرَه فَشَلَّتْ، فقال: حَسِّ حَسِّ، حين أصابتْه الرَّمْية، فذُكِر أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"لو قال: باسمِ الله، لدَخَل الجنةَ والناسُ يَنظُرون"، وضُرِبَ طلحةُ يومَئِذٍ في رأسِه المُصلَّبةَ (1) ، ضَرَبه رجلٌ من المشركين ضربَتين: ضربةً وهو مُقبِل، وضربةً وهو مُعرِض عنه، وكان ضِرارُ بن الخَطّاب الفِهْريُّ يقول: أنا واللهِ ضربتُه يومئذٍ (2) .
ابراہیم بن محمد بن طلحہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے طلحہ بن عبداللہ نے بتایا کہ میں ایک دفعہ بصری کے بازار میں گیا۔ وہاں ایک راہب اپنی عبادت گاہ میں لوگوں سے کہہ رہا تھا: اس موسم میں لوگوں سے پوچھو کہ کیا ان میں کوئی حرم کا باسی ہے؟ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، میں ہوں اہل حرم میں سے۔ اس نے پوچھا: کیا احمد نام کا کوئی شخص ظاہر ہوا ہے؟ میں نے کہا: کون احمد؟ اس نے کہا: عبداللہ بن عبدالمطلب کا بیٹا، یہ مہینہ اس کے ظہور کا مہینہ ہے، وہ آخری نبی ہو گا۔ وہ مکہ میں پیدا ہو گا اور نخل، حرہ اور سباح کی جانب ہجرت کرے گا۔ تم اس کی طرف جانے میں کسی کو اپنے سے آگے نہ بڑھنے دینا۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس راہب کی بات میرے دل میں گھر کر گئی، میں بہت جلدی وہاں سے نکلا اور مکہ مکرمہ میں آ گیا۔ میں نے پوچھا: کیا کوئی نیا واقعہ پیش آیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہاں، محمد بن عبداللہ نے نبوت کا دعویٰ کر دیا ہے اور ابوقحافہ کا بیٹا ان کے پیچھے لگ گیا ہے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا۔ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے اس آدمی کی پیروی اختیار کر لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تم بھی ان کے پاس چلو، ان کی بارگاہ میں حاضر ہو، کیونکہ وہ حق کی طرف بلاتے ہیں۔ سیدنا طلحہ نے ان کو راہب کی بات بتائی۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو اپنے ہمراہ لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو راہب والی بات سنائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خوش ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5686]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5686M1
فقال ابن عُمر: وكان طلحةُ يُكنى أبا محمد، وأمُّه الصعبةُ ابنةُ عبد الله الحَضْرمي، وقُتل طلحةُ يومَ الجَمَل، قَتَله مَروانُ بن الحَكَم، وكان له ابنٌ يقال له: محمدٌ، وهو الذي يُدعَى السَّجَّادَ، وبه كان طلحةُ يُكنى، قُتِل مع أبيه طلحةَ يومَ الجَمَل، وكان طلحةُ قديمَ الإسلام (3) .
جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اسلام لے آئے تو نوفل بن خویلد بن عدویہ نے ان دونوں کو پکڑ کر ایک ہی رسی کے ساتھ باندھ دیا اور بنو تیم ان کا دفاع نہ کر سکے۔ نوفل بن خویلد کو قریش کا سب سے سخت گیر سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو قرینین (ساتھی) کہا جاتا تھا۔ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور سیدنا سعید بن زید کو قافلے کی جاسوسی کے لئے بھیجا تھا۔ یہ واپس آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ بدر سے فارغ ہو کر واپس آ رہے تھے مقام ظلل اور سبالہ کے درمیان مجبہ کے مقام پر ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5686M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5686M2
قال ابن عمر: فحدَّثني إسحاقُ بن يحيى، عن جَدّته سُعْدَى بنت عَوف المُرِّيَّة أمِّ يحيى بن طلحة، قالت: قُتل طلحةُ بنُ عُبيد الله وفي يدِ خازِنِه ألفُ ألفِ دِرهم ومئتا ألفِ دِرهم، وقُوِّمت أصولُه وعَقَارُه بثلاثين ألفَ ألفِ دِرهم (1) ، وكان فيما ذُكر جَوَادًا بالمالِ واللِّبْسِ والطعامِ، وقُتِل يومَ قُتِل وهو ابن اثنتَين وسِتِّين سنةً (2) .
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5686M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5686M3
قال ابن عمر: وحدَّثنا أسدُ بن إبراهيم بن محمد بن طلحة، عن محمد بن زيد بن المُهاجِر، قال: كان طلحةُ يومَ قُتل ابنَ أربعٍ وستين سنةً (3) .
0 [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5686M3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5687
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا الزُّبير بن بَكّار، حدثني إبراهيم بن المُنذر (4) ، عن عبد العزيز بن عِمران، حدثني إسحاق بن يحيى بن طلحة، عن عمِّه موسى بن طلحة، قال: كان طلحةُ بن عُبيد الله أبيضَ يَضرِبُ إلى الحُمْرة، مَربُوعًا هو إلى القِصَر أقربُ، رَحْبَ الصَّدرِ، عَرِيضَ المَنكِبَين، إذا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جميعًا، ضَخْمَ القَدَمين، حَسَنَ الوَجْهِ، دَقِيقَ العِرْنِينِ، إذا مشى أسرَعَ، وكان لا يُغيِّر شَعْرَه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5588 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
موسیٰ بن طلحہ فرماتے ہیں: طلحہ بن عبیداللہ کا رنگ سرخی مائل سفید تھا، خوش طبع تھے، (قد درمیانہ تھا بلکہ) تقریباً چھوٹا ہی قد تھا، سینہ چوڑا تھا، کندھے کشادہ تھے، کسی جانب متوجہ ہوتے تو مکمل طور پر اسی طرف دیکھتے، پاؤں بھرے ہوئے تھے، چہرہ خوبصورت تھا، ناک پتلی تھی، چلنے میں تیزی کرتے تھے، آپ بالوں کو (مہندی وغیرہ کے ساتھ) نہیں رنگتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5687]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5688
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقَفي، حدثنا عباد بن الوليد الغُبَري (2) ، حدثنا حَبّان، حدثنا شريك بن الخَطّاب (3) ، حدثني عُتْبة بن صَعْصَعةَ بن الأحْنَف، عن عِكْراشٍ، قال: كنا نُقاتل عليًّا مع طلحةَ ومعنا مَروانُ، قال: فانهزَمْنا، قال: فقال مَروانُ: لا أُدرِكُ بثَأْري بعد هذا اليوم من طلحةَ، قال: فرَمَاهُ بسهمٍ فقَتَله (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5589 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عکراش کہتے ہیں: ہم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کر رہے تھے، ہمارے ساتھ مروان بھی تھا، عکراش کہتے ہیں: ہمیں شکست ہو گئی، تو مروان نے کہا: آج کے بعد مجھے طلحہ رضی اللہ عنہ سے بدلہ لینے کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ کہہ کر اس نے تیر مارا جس کی وجہ سے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5688]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں