🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
520. بيعة طلحة على يد أصحاب على رضى الله عنه
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ پر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5699
أخبرني الحسن بن محمد بن إسحاق الأزهري، حدثنا محمد بن زكريا الغَلَابي، حدثنا العباس بن بَكَّار، حدثنا سُهيل بن أبي سُهيل التَّمِيمي، عن أبيه، قال: مَرَّ عليُّ بن أبي طالب بطلحةَ بن عُبيد الله وهو مَقتُول، فوقف عليه وقال: هذا واللهِ كما قال الشاعرُ: فتًى كان يُدنِيهِ الغِنى مِن صَديقِهِ … إذا ما هو استَغْنى ويُبعِدُه الفقرُ كأنَّ الثُريَّا عُلِّقَت في جَبينِهِ … وفي خَدِّه الشِّعْرى، وفي الآخَرِ البَدْرُ (1)
سہیل بن ابی سہیل تمیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، اس وقت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مقتول پڑے ہوئے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہوئے اور کہنے لگے۔ یہ تو وہی بات ہوئی جیسے شاعر نے کہا ہے۔ وہ ایسا جوان ہے کہ اس کے دولتمند دوست اس کے قریب رہتے ہیں، جب وہ حالت استغناء میں ہوتے ہیں اور فقر ان کو دور کر دیتا ہے۔ گویا کہ ثریا ان کی پیشانی پر لٹک رہی ہے اس کے ایک رخسار میں شعری ہے اور دوسرے رخسار میں چودہویں رات کا چاند ہے۔ (شعری اس ستارے کو کہتے ہیں جو سخت گرمی میں طلوع ہوتا ہے۔ شفیق) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5699]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5699 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده تالفٌ بمرّة من أجل محمد بن زكريا الغَلَابي وشيخه العباس بن بكار، فهما متروكان واتُّهما بالوضع، ولا يُدرى من هو سُهيل ولا أبوه.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند یکسر "تالف" (برباد) ہے محمد بن زکریا الغلابی اور ان کے شیخ عباس بن بکار کی وجہ سے؛ وہ دونوں "متروک" ہیں اور ان پر وضع (حدیث گھڑنے) کا الزام ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور سہیل اور ان کے والد کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں۔
وأخرج نحوه الطبري في "تهذيب الآثار" في قسم مسند عمر 2/ 669 عن محمد بن حميد الرازي، عن يحيى بن واضح، عن مُطهَّر، عن رجل من أهل مصر، قال: مرَّ عليٌّ … ومُطهَّر هذا لا يُدرَى مَن هو، وشيخُه مبهم، ومحمد بن حميد الرازي ضعيف بمرَّة.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے "تہذیب الآثار" (قسم مسند عمر 2/ 669) میں محمد بن حمید رازی سے، انہوں نے یحییٰ بن واضح سے، انہوں نے مطہر سے، انہوں نے مصر کے ایک شخص سے روایت کیا ہے کہ: علی گزرے... 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ "مطہر" نامعلوم ہے کہ کون ہے، اور اس کا شیخ "مبہم" ہے، اور محمد بن حمید رازی یکسر "ضعیف" ہے۔