🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
523. ذكر مناقب محمد بن طلحة بن عبيد الله السجاد رضي الله عنهما
سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5708
أخبرني الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا بَشّار بن موسى، حدثنا الحاطِبي، عن أبيه، عن جَدِّه محمد بن حاطِب، قال: لما فَرَغْنا من قتالِ الجَمَل قام عليٌّ والحَسَنُ (2) بن عليٍّ وعمّار بن ياسر وصَعصَعة بن صُوحان والأشْتَر ومحمد بن أبي بكر يَطُوفون في القتلى، فأبصَرَ الحسن بن عليٍّ قتيلًا مكبوبًا على وجهِه، فأكَبَّه على قَفاهُ، فقال: إنّا لله وإنّا إليه راجِعُونَ، فَرْخُ قُريشٍ واللهِ!! فقال له أبوه: ما هو يا بُنيّ؟ قال: محمدُ بنُ طلحة، فقال: إنّا الله وإنّا إليه راجِعُون، إن كان ما علِمتُه لشابًّا صالحًا، ثم قعد كَئيبًا حَزينًا (1) .
محمد بن حاطب فرماتے ہیں: جب ہم جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو سیدنا علی، سیدنا حسین بن علی، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا صعصعہ بن صوحان، سیدنا اشتر، سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم مقتولین کا جائزہ لینے کے لئے نکلے۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نظر ایک مقتول پر پڑی جو کہ منہ کے بل گرے ہوئے تھے، انہوں نے ان کو سیدھا کیا تو بے ساختہ پڑھا انا للہ وانا الیہ راجعون خدا کی قسم یہ تو چمن قریش کا پھول ہے، ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: کیا ہوا بیٹا! سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ محمد بن طلحہ (شہید ہوئے پڑے ہیں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون میں اس کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں یہ تو بہت نیک جوان تھا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ بہت غمزدہ ہو کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5708]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5708 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الحسين، والتصويب من هذه الرواية نفسها، حيث سيأتي ذكره الحسن بعد سطر على الصواب في أصولنا، وفاقًا للرواية السالفة للخبر برقم (4607).
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے، تصحیح اسی روایت سے کی گئی ہے، جہاں ایک سطر بعد ہمارے اصول میں صحیح طور پر "الحسن" کا ذکر آئے گا، جو خبر کی گزشتہ روایت نمبر (4607) کے موافق ہے۔
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف كما تقدَّم بيانه عند رواية الخبر السالفة برقم (4607).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ خبر صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے جیسا کہ خبر کی گزشتہ روایت نمبر (4607) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔