المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
523. ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ السَّجَّادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5708
أخبرني الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا بَشّار بن موسى، حدثنا الحاطِبي، عن أبيه، عن جَدِّه محمد بن حاطِب، قال: لما فَرَغْنا من قتالِ الجَمَل قام عليٌّ والحَسَنُ (2) بن عليٍّ وعمّار بن ياسر وصَعصَعة بن صُوحان والأشْتَر ومحمد بن أبي بكر يَطُوفون في القتلى، فأبصَرَ الحسن بن عليٍّ قتيلًا مكبوبًا على وجهِه، فأكَبَّه على قَفاهُ، فقال: إنّا لله وإنّا إليه راجِعُونَ، فَرْخُ قُريشٍ واللهِ!! فقال له أبوه: ما هو يا بُنيّ؟ قال: محمدُ بنُ طلحة، فقال: إنّا الله وإنّا إليه راجِعُون، إن كان ما علِمتُه لشابًّا صالحًا، ثم قعد كَئيبًا حَزينًا (1) .
سیدنا محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم جنگ جمل کے معرکے سے فارغ ہوئے تو سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا صعصعہ بن صوحان، سیدنا اشتر اور سیدنا محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہم مقتولین کے درمیان چکر لگانے لگے، اچانک سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نظر ایک ایسے مقتول پر پڑی جو چہرے کے بل گرا ہوا تھا، انہوں نے اسے پیٹھ کے بل سیدھا کیا اور فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ [سورة البقرة: 156] ، اللہ کی قسم! یہ تو قریش کا شہزادہ اور ان کا چشم و چراغ ہے، ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے دریافت فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! یہ کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یہ محمد بن طلحہ ہیں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (بھی) فرمایا: ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ [سورة البقرة: 156] ، اللہ کی قسم! میرے علم کے مطابق یہ ایک انتہائی صالح اور نیک نوجوان تھا، پھر آپ رنج و ملال کی کیفیت میں وہیں بیٹھ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5708]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف كما تقدَّم بيانه عند رواية الخبر السالفة برقم (4607).» [ترقيم الرساله 5708] [ترقيم الشركة 5654]
الحكم على الحديث:
خبر صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5708 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الحسين، والتصويب من هذه الرواية نفسها، حيث سيأتي ذكره الحسن بعد سطر على الصواب في أصولنا، وفاقًا للرواية السالفة للخبر برقم (4607).
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الحسین" بن گیا ہے، تصحیح اسی روایت سے کی گئی ہے، جہاں ایک سطر بعد ہمارے اصول میں صحیح طور پر "الحسن" کا ذکر آئے گا، جو خبر کی گزشتہ روایت نمبر (4607) کے موافق ہے۔
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف كما تقدَّم بيانه عند رواية الخبر السالفة برقم (4607).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ خبر صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے جیسا کہ خبر کی گزشتہ روایت نمبر (4607) کے تحت بیان گزر چکا ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5708 in Urdu