🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

523. ذِكْرُ مَنَاقِبِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ السَّجَّادِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5706
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو شَيْبة إبراهيم بن عُثمان، عن محمد بن عبد الرحمن مولى آل طَلْحة، عن عيسى بن طلحة، حدثتْني ظِئرٌ لمحمّد بن طَلْحة قالت: لما وُلِد محمّدُ بنُ طلحةَ أتينا به النبيَّ ﷺ، فقال:"ما سَمَّيتُموه؟" فقلنا: محمّدًا، فقال:"هذا سَمِيِّي، وكنيتُه أبو القاسم" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5606 - أبو شيبة واه
محمد بن طلحہ کی ایک دایہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب محمد بن طلحہ کی ولادت ہوئی تو ہم ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کا نام کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا: محمد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرا نام ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5706]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5707
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، قال: سمعتُ مُصعبًا الزُّبيري يقول: محمد بن طلحة بن عُبيد الله أمُّه حَمْنةُ بنت جَحْش (1) .
مصعب زبیری کہتے ہیں: محمد بن طلحہ بن عبیداللہ کی والدہ کا نام حمنہ بنت جحش ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5707]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5708
أخبرني الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا بَشّار بن موسى، حدثنا الحاطِبي، عن أبيه، عن جَدِّه محمد بن حاطِب، قال: لما فَرَغْنا من قتالِ الجَمَل قام عليٌّ والحَسَنُ (2) بن عليٍّ وعمّار بن ياسر وصَعصَعة بن صُوحان والأشْتَر ومحمد بن أبي بكر يَطُوفون في القتلى، فأبصَرَ الحسن بن عليٍّ قتيلًا مكبوبًا على وجهِه، فأكَبَّه على قَفاهُ، فقال: إنّا لله وإنّا إليه راجِعُونَ، فَرْخُ قُريشٍ واللهِ!! فقال له أبوه: ما هو يا بُنيّ؟ قال: محمدُ بنُ طلحة، فقال: إنّا الله وإنّا إليه راجِعُون، إن كان ما علِمتُه لشابًّا صالحًا، ثم قعد كَئيبًا حَزينًا (1) .
محمد بن حاطب فرماتے ہیں: جب ہم جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو سیدنا علی، سیدنا حسین بن علی، سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا صعصعہ بن صوحان، سیدنا اشتر، سیدنا محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہم مقتولین کا جائزہ لینے کے لئے نکلے۔ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نظر ایک مقتول پر پڑی جو کہ منہ کے بل گرے ہوئے تھے، انہوں نے ان کو سیدھا کیا تو بے ساختہ پڑھا انا للہ وانا الیہ راجعون خدا کی قسم یہ تو چمن قریش کا پھول ہے، ان کے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے پوچھا: کیا ہوا بیٹا! سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ محمد بن طلحہ (شہید ہوئے پڑے ہیں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون میں اس کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں یہ تو بہت نیک جوان تھا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ بہت غمزدہ ہو کر ان کے پاس بیٹھ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5708]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5709
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني محمد بن الضّحّاك بن عثمان الحِزَامي، عن أبيه: كان هَوَى محمد بن طَلْحة مع عليّ بن أبي طالب، ونَهى عليٌّ عن قَتْله، وقال: مَن رأى صاحبَ البُرنُس الأسودِ فلا يَقتُلْه؛ يعني محمدًا، فقال محمدٌ لعائشةَ يومئذٍ: يا أُمّاه، ما تأمُرِيني؟ قالت: أرى أن تكون كخَيرِ ابنَي آدمَ؛ أَن تَكُفَّ يدَك، فكفَّ يدَه، فقتَلَه رجلٌ من بني أسَد بن خُزيمة يقال له: طلحة بن مُدْلِج من بني مُنقِذ بن طَريف، ويقال: قتلَه شَدّاد بن معاوية العَبْسي (2) ، ويقال: بل قتله عِصام بن مُقشَعِرّ النَّصْري (3) ، وعليه كَثْرةُ الحديثِ، وهو الذي يقولُ في قَتْلِه: وأشعَثَ قَوّامٍ بآياتِ رَبِّهِ … قليلِ الأذَى فيما يَرى الناسُ مُسلِمِ دَلَفتُ له بالرُّمْحِ من تحتِ بَزِّهِ … فَخَرَّ صَرِيعًا لليَدَينِ وللفَمِ شَكَكْتُ إليه بالسِّنَانِ قَميصَهُ … فأردَيتُه من ظَهرِ طِرْفٍ مُسَوَّمِ أقمتُ له في دَفْعةِ الخيل صُلْبَهُ … بمِثلِ قُدامَى (1) النَّسْرِ حَرّانَ كَيْزَمِ يُذكَّرني (حاميمَ) لما طَعَنتُهُ … فهلّا تَلا (حاميمَ) قبلَ التَّقدُّمِ على غَيرِ شيءٍ غيرَ أنْ ليسَ تابِعًا … عليًّا ومَن لا يَنْبَعِ الحقَّ يَظلِمِ قال: فقال عليٌّ لما رآه صَريعًا: صَرَعَه هذا المَصرَعَ بِرُّ أبيه (2) .
ضحاک بن عثمان (خود اپنے بارے میں) فرماتے ہیں کہ وہ اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل سے منع فرمایا، اور فرمایا: جو شخص کسی کے سر پر سیاہ ٹوپی دیکھے تو اس کو قتل نہ کرے (یعنی محمد بن طلحہ کو) اس دن محمد نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے میری امی جان! آپ کا کیا مشورہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتی ہوں کہ تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے کی طرح ہو جاؤ اور اپنا ہاتھ روک لو، چنانچہ انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا، لیکن ان کو بنی اسد بن خزیمہ قبیلہ کے ایک آدمی نے شہید کر ڈالا جس کا نام طلحہ بن مدلج تھا اس کا تعلق بنی منقظ بن طریف سے تھا۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ ان کو شداد بن معاویہ عبسی نے شہید کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کو عصام بن مسعر بصری نے شہید کیا تھا۔ اور اس موقف کی حمایت میں کافی احادیث وارد ہیں، اور انہی کے قتل کے بارے میں شاعر نے یہ درج ذیل اشعار لکھے لیں۔ * پراگندہ بالوں والا، اپنے رب کی آیات کا ذمہ دار اور کفیل، لوگ جس کو مسلمان اور قلیل الاذیٰ یعنی لوگوں کو نہ ستانے والا سمجھتے ہیں۔ * میں نے اس کے ہتھیار کے نیچے سے بجلی کی چمک کی طرح نیزہ مارا تو وہ منہ کے بل زمین پر جا گرا۔ * گھوڑوں کی باری میں، میں نے اس کی صلب کو قائم رکھا جیسا کہ کیزم جانور کی اگلی جانب خوشبو کا مقام ہوتا ہے۔ * جب میں نے اس پر وار کیا تو وہ مجھے حم یاد دلاتا رہا، اس نے آنے سے پہلے حم کو کیوں نہیں یاد کیا۔ میرا سوائے اس کے اور کوئی گناہ نہیں ہے کہ میں علی کا تابع نہیں ہوں، اور جو حق کی پیروی نہیں کرتا وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مقتول پایا تو کہا: اس بے چارے کو سر کے بل گرا دیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5709]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5710
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا سعيد بن سليمان الواسِطيّ، حدثنا إسحاق بن يحيى بن طلحة، حدثني عمِّي عيسى بن طلحة، عن عائشة أم المؤمنين، قالت: قال أبو بكر الصِّدّيق: كنتُ أولَ مَن فاءَ إلى رسولِ الله ﷺ، ومعه طلحةُ بنُ عُبيد الله، وإذا طلحةُ قد غَلبَه البَرْدُ ورسولُ الله ﷺ أمثلُ بَلَلًا منه، فقال لنا رسول الله ﷺ:"عليكُم بصاحبِكُم" فتركناهُ وأقبلْنا عليه، وإذا مِغْفَرُه قد عَلِقَ بوَجْنتَيه، وبينَه وبين المَشرقِ رجلٌ أنا أقربُ إلى رسولِ الله ﷺ منه، فإذا هو أبو عُبيدة بن الجَرّاح، فذهبتُ لأَنزعَ المِغفَرَ، فقال أبو عُبيدة: أنشُدُكَ الله يا أبا بكر إلّا تَركْتَني؟ فتركتُه فجَذَبَها فانتُزِعَت ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة، قال: فذهبتُ لأنزِعَ الحَلْقةَ الأخرى، فقال لي أبو عُبيدة مثلَ ذلك، فانتزَعَ الحَلْقَةَ الأخرى، فانتُزع ثَنِيَّةُ أبي عُبيدة الأخرى، فقال رسول الله ﷺ:"أمَا إنَّ صَاحِبَكُم قد استَوجَبَ" أو"أوجَبَ طلحةُ" (1) . صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5610 - لا والله
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب لوٹا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ اچانک ان پر سردی کا غلبہ ہو گیا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی زیادہ سردی محسوس فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: اپنے ساتھی کا خیال کرو، ہم فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، ہم نے دیکھا کہ ان کے خود کی کڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبڑوں میں گھس چکی تھیں۔ ان کی مشرقی جانب ایک آدمی تھا (وہ ان کے اتنے فاصلے پر تھا کہ اس وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب ہوں۔ جب ہم نے ان کو (غور سے) دیکھا تو وہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود اتارنے کے لئے آگے بڑھا تو سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابوبکر! میں تمہیں قسم دے کر کہتا ہوں تم مجھے نہیں چھوڑنا، میں نے (خود اتارنے کا فیصلہ) ترک کر دیا، پھر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنے دانتوں سے پکڑ کر اس کو کھینچا، اس کی وجہ سے ان کے اگلے دو دانت ٹوٹ گئے۔ (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: میں پھر آگے بڑھا تاکہ وہ خود میں اتاروں، لیکن ابوعبیدہ نے دوبارہ اسی طرح مجھے قسم دے کر روک دیا اور خود اتارنے کے لئے آگے بڑھے، جب دوبارہ زور لگایا تو ان کے سامنے کے دوسرے دو دانت بھی ٹوٹ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھی نے جنت واجب کر لی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے ہی اس کو روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5710]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں