🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
523. ذكر مناقب محمد بن طلحة بن عبيد الله السجاد رضي الله عنهما
سیدنا محمد بن طلحہ بن عبید اللہ السجّاد رضی اللہ عنہما کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5709
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، حدثني محمد بن الضّحّاك بن عثمان الحِزَامي، عن أبيه: كان هَوَى محمد بن طَلْحة مع عليّ بن أبي طالب، ونَهى عليٌّ عن قَتْله، وقال: مَن رأى صاحبَ البُرنُس الأسودِ فلا يَقتُلْه؛ يعني محمدًا، فقال محمدٌ لعائشةَ يومئذٍ: يا أُمّاه، ما تأمُرِيني؟ قالت: أرى أن تكون كخَيرِ ابنَي آدمَ؛ أَن تَكُفَّ يدَك، فكفَّ يدَه، فقتَلَه رجلٌ من بني أسَد بن خُزيمة يقال له: طلحة بن مُدْلِج من بني مُنقِذ بن طَريف، ويقال: قتلَه شَدّاد بن معاوية العَبْسي (2) ، ويقال: بل قتله عِصام بن مُقشَعِرّ النَّصْري (3) ، وعليه كَثْرةُ الحديثِ، وهو الذي يقولُ في قَتْلِه: وأشعَثَ قَوّامٍ بآياتِ رَبِّهِ … قليلِ الأذَى فيما يَرى الناسُ مُسلِمِ دَلَفتُ له بالرُّمْحِ من تحتِ بَزِّهِ … فَخَرَّ صَرِيعًا لليَدَينِ وللفَمِ شَكَكْتُ إليه بالسِّنَانِ قَميصَهُ … فأردَيتُه من ظَهرِ طِرْفٍ مُسَوَّمِ أقمتُ له في دَفْعةِ الخيل صُلْبَهُ … بمِثلِ قُدامَى (1) النَّسْرِ حَرّانَ كَيْزَمِ يُذكَّرني (حاميمَ) لما طَعَنتُهُ … فهلّا تَلا (حاميمَ) قبلَ التَّقدُّمِ على غَيرِ شيءٍ غيرَ أنْ ليسَ تابِعًا … عليًّا ومَن لا يَنْبَعِ الحقَّ يَظلِمِ قال: فقال عليٌّ لما رآه صَريعًا: صَرَعَه هذا المَصرَعَ بِرُّ أبيه (2) .
ضحاک بن عثمان (خود اپنے بارے میں) فرماتے ہیں کہ وہ اور محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے قتل سے منع فرمایا، اور فرمایا: جو شخص کسی کے سر پر سیاہ ٹوپی دیکھے تو اس کو قتل نہ کرے (یعنی محمد بن طلحہ کو) اس دن محمد نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اے میری امی جان! آپ کا کیا مشورہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں یہ سمجھتی ہوں کہ تم آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے کی طرح ہو جاؤ اور اپنا ہاتھ روک لو، چنانچہ انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا، لیکن ان کو بنی اسد بن خزیمہ قبیلہ کے ایک آدمی نے شہید کر ڈالا جس کا نام طلحہ بن مدلج تھا اس کا تعلق بنی منقظ بن طریف سے تھا۔ ایک موقف یہ بھی ہے کہ ان کو شداد بن معاویہ عبسی نے شہید کیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کو عصام بن مسعر بصری نے شہید کیا تھا۔ اور اس موقف کی حمایت میں کافی احادیث وارد ہیں، اور انہی کے قتل کے بارے میں شاعر نے یہ درج ذیل اشعار لکھے لیں۔ * پراگندہ بالوں والا، اپنے رب کی آیات کا ذمہ دار اور کفیل، لوگ جس کو مسلمان اور قلیل الاذیٰ یعنی لوگوں کو نہ ستانے والا سمجھتے ہیں۔ * میں نے اس کے ہتھیار کے نیچے سے بجلی کی چمک کی طرح نیزہ مارا تو وہ منہ کے بل زمین پر جا گرا۔ * گھوڑوں کی باری میں، میں نے اس کی صلب کو قائم رکھا جیسا کہ کیزم جانور کی اگلی جانب خوشبو کا مقام ہوتا ہے۔ * جب میں نے اس پر وار کیا تو وہ مجھے حم یاد دلاتا رہا، اس نے آنے سے پہلے حم کو کیوں نہیں یاد کیا۔ میرا سوائے اس کے اور کوئی گناہ نہیں ہے کہ میں علی کا تابع نہیں ہوں، اور جو حق کی پیروی نہیں کرتا وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو مقتول پایا تو کہا: اس بے چارے کو سر کے بل گرا دیا گیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5709]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5709 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تصحَّف في (ز) و (ب) إلى: العيشي، وفي (ص) و (م) إلى: القيسي، والصواب ما أثبتناه وفاقًا لسائر المصادر التي أوردت هذا الخبر.
📝 نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تصحیف ہو کر "العیشی" اور نسخہ (ص) اور (م) میں "القیسی" بن گیا ہے۔ درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے، جو اس خبر کو روایت کرنے والے دیگر تمام مصادر کے موافق ہے۔
(3) في (ز) و (ب): البصري، بالباء الموحدة، نسبة إلى البصرة. وأهملت هذه النسبة في (ص) و (م)، وجاء في المصادر المعتمدة التي ذكرت هذا الخبر في مقتل محمد بن طلحة نسبةُ عصام هذا بالنَّصري، بالنون بدل الباء الموحدة، ومنها "طبقات ابن سعد" 7/ 59، و"الأنساب" للبلاذُري 3/ 40، و"الاستيعاب" لابن عبد البر ص 648، و"أسد الغابة" لعز الدين بن الأثير 4/ 323، فيغلب على ظننا أنه الصواب، إذ لم يشتهر في تلك الطبقة النسبةُ إلى البلاد بعدُ. والنَّصْري نسبة إلى نصر بن معاوية بن بكر بن هوازن.
📝 نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ز) اور (ب) میں "البصری" (باء کے ساتھ) ہے، جو بصرہ کی طرف نسبت ہے۔ اور نسخہ (ص) اور (م) میں اس نسبت کو مہمل چھوڑ دیا گیا ہے۔ جبکہ مستند مصادر جنہوں نے محمد بن طلحہ کے قتل کی خبر ذکر کی ہے، ان میں اس عصام کی نسبت "النَّصری" (باء کے بجائے نون کے ساتھ) آئی ہے۔ ان مصادر میں "طبقات ابن سعد" 7/ 59، بلاذری کی "الانساب" 3/ 40، ابن عبد البر کی "الاستیعاب" ص 648، اور عز الدین بن الاثیر کی "اسد الغابہ" 4/ 323 شامل ہیں۔ لہذا غالب گمان یہی ہے کہ "النصری" ہی صحیح ہے، کیونکہ اس دور (طبقہ) میں شہروں کی طرف نسبت ابھی مشہور نہیں ہوئی تھی۔ "النصری" نصر بن معاویہ بن بکر بن ہوازن کی طرف نسبت ہے۔
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: قدام، والتصويب من "الاستيعاب"، و"تاريخ دمشق" 23/ 4، و"مختصره" لابن منظور 10/ 292. وقُدامى النَّسْر: أربع أو عشر ريشات في مُقدَّم الجناح.
📝 نوٹ / توضیح: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "قدام" بن گیا ہے۔ تصحیح "الاستیعاب"، "تاریخ دمشق" 23/ 4 اور ابن منظور کے "مختصر" 10/ 292 سے کی گئی ہے۔ "قُدامیٰ النسر" سے مراد پرندے (نسر) کے پروں کے اگلے حصے کے چار یا دس پر (feathers) ہیں۔
(2) رجاله لا بأس بهم غير أنه مرسلٌ، فلم يدرك الضحاك بن عثمان أيام الجمل، ومحمد بن عمر - وهو الواقدي - متابع، لكن روي خبر محمد بن طلحة هذا يوم الجمل من غير وجه.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ یہ "مرسل" ہے، کیونکہ ضحاک بن عثمان نے جنگ جمل کا زمانہ نہیں پایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمر (واقدی) متابع ہیں، لیکن محمد بن طلحہ کی جنگ جمل والی یہ خبر کئی دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔
وقد ذكر ابن سعد في "طبقاته" 7/ 58 هذا الخبر عن محمد بن عمر الواقدي مصدّرًا إياه بقوله: قالوا.
📖 حوالہ / مصدر: ابن سعد نے "طبقات" 7/ 58 میں یہ خبر محمد بن عمر الواقدی سے ذکر کی ہے اور اس کا آغاز "قالوا" (انہوں نے کہا) سے کیا ہے۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 23/ 3 - 4 من طريق الزبير بن بكار، عن محمد بن الضحاك، عن أبيه. غير أنه سمى الرجل الأسدي الذي قيل إنه قتل محمد بن طلحة: كعب بن مدلج.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 23/ 3 - 4 میں زبیر بن بکار کے طریق سے، انہوں نے محمد بن ضحاک سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سوائے اس کے کہ انہوں نے اس اسدی شخص کا نام (جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس نے محمد بن طلحہ کو قتل کیا) "کعب بن مدلج" بتایا ہے۔
وأخرج منه نهي علي بن أبي طالب عن قتل محمد بن طلحة: يعقوب بن سفيان في "المعرفة" 2/ 670 عن عمار الدُّهني مرسلًا. ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: اس میں سے حضرت علی بن ابی طالب کا محمد بن طلحہ کو قتل کرنے سے منع کرنے والا حصہ یعقوب بن سفیان نے "المعرفہ" 2/ 670 میں عمار الدہنی سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔
وأخرج منه قصة محمد بن طلحة مع عائشة: البخاري في "تاريخه الأوسط" 1/ 577، وأبو القاسم البغوي فيما نقله ابن حجر في "الإصابة" 6/ 18 من طريق أبي جميلة الطَّهَوي، وكان صاحب راية عليٍّ. وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اس میں سے محمد بن طلحہ کا حضرت عائشہ کے ساتھ قصہ بخاری نے "تاریخ اوسط" 1/ 577 میں، اور ابو القاسم البغوی نے (جیسا کہ ابن حجر نے "الاصابہ" 6/ 18 میں نقل کیا ہے) ابو جمیلہ الطہوی کے طریق سے روایت کیا ہے، جو حضرت علی کے علمبردار تھے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرج هذه القصة أيضًا ابن أبي شيبة 15/ 282 عن مجاهد مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: یہ قصہ ابن ابی شیبہ 15/ 282 نے مجاہد سے "مرسلاً" بھی روایت کیا ہے۔
وهذا الشِّعر الذي قاله قاتل محمد بن طلحة ورد ذكره في "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 281، وفي "المعارف" لابن قتيبة ص 231، و"تاريخ دمشق" لابن عساكر 23/ 5، غير أنه لم يروه بهذا التمام غير الضحاك بن عثمان الحِزامي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ شعر جو محمد بن طلحہ کے قاتل نے کہا تھا، اس کا ذکر مصعب زبیری کی "نسب قریش" ص 281، ابن قتیبہ کی "المعارف" ص 231، اور ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" 23/ 5 میں آیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اسے اس طرح مکمل (تمام) کے ساتھ ضحاک بن عثمان الحزامی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
قوله: بَزِّه، أي: ثوبه.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "بَزِّہ" کا معنی ہے: اس کا لباس/کپڑا۔
وقوله: فخرّ صريعًا لِلْيَدين ولِلْفَم، أي: علي اليدين والفم.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "للیدین وللفم" کا مطلب ہے: ہاتھوں اور منہ کے بل (گرا)۔
والطِّرْف، بكسر الطاء: الكريم من الخيل العتيق.
📝 نوٹ / توضیح: "الطِّرْف" (طاء کے نیچے زیر کے ساتھ) سے مراد عمدہ اور اصیل گھوڑا ہے۔