المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
529. ذكر مناقب حذيفة بن اليمان رضى الله عنه
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5723
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عُمر، قال: حُذيفة بن حُسَيل بن جابر بن رَبيعة بن عَمرو بن جِرْوة، وجِرْوه هو اليمانُ الذي من ولدِه حذيفةُ، وإنما قيل له: اليَمانُ، لأنه أصابَ في قومِه دَمًا فهَرَب إلى المدينة، فحالف بني عبد الأشْهَل، فسمّاه قومُه اليَمَانَ لأنه حالف اليَمانِيَةَ، شهد حذيفةُ وأبوه حُسَيلٌ وأخوه صفوانُ أُحُدًا، فأما أبوه فقَتَله بعضُ المسلمين يومَئذٍ وهو يَحسَبُه من المشركين، فتصدَّق حذيفةُ بدِيَتهِ على المسلمين، وأما حذيفةُ فشَهِدَ مع رسولِ الله ﷺ مَشاهِدَه بعد بدر، وعاش إلى أول خلافة عليٍّ سنة ستٍّ وثلاثين، وزعم بعضُهم أنه مات بالمدائن سنة خَمس وثلاثين بعد مَقتَل عُثمانَ بأربَعينَ ليلةً (1) .
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” حذیفہ بن حسیل بن جابر بن ربیعہ بن عمرو بن جروہ “ اور جروہ اسی یمان ہی کو کہتے ہیں جن کے ہاں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے، ان کو یمان اس لئے کہتے ہیں کہ ان سے اپنی قوم میں ایک قتل ہو گیا تھا، تو یہ مدینہ منورہ میں چلے آئے اور بنی عبدالاشہل کے ساتھ عہد کر لیا۔ تو ان کی قوم نے ان کا نام یمان رکھ دیا تھا، کیونکہ انہوں نے ایک یمانی آدمی کے ساتھ عہد کیا تھا۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حسیل رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی صفوان رضی اللہ عنہ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے، اس دن ان کے والد کو کسی مسلمان نے مشرک سمجھ کر شہید کر دیا تھا، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیٹے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے والد کی دیت یعنی خوب بہا بھی دلوایا تھا لیکن) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے وہ دیت مسلمانوں پر صدقہ کر دی تھی، اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر کے بعد تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شرکت کی ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے اوائل (یعنی 36 ہجری) تک زندہ رہے، بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ وہ سن 35 ہجری میں مدائن میں تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس روز بعد ان کی وفات ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5723]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5723 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) انظر "مغازي محمد بن عُمر الواقدي" 1/ 233 - 234، و "الطبقات الكبرى" لابن سعد 9/ 319. وممّن قال: مات حذيفة سنة خمس وثلاثين أبو حفص عمرو بن علي الفلّاس، لكن الجمهور على أنَّ حذيفة مات سنة ست وثلاثين. انظر "تاريخ دمشق" لابن عساكر 12/ 300 - 301 و"بغية الطلب في تاريخ حلب" لابن العَديم 5/ 2157 - 2159.
📖 حوالہ / مصدر: (1) دیکھیے "مغازی الواقدی" 1/ 233 - 234 اور "الطبقات الکبریٰ" لابن سعد 9/ 319۔ ابو حفص عمرو بن علی الفلاس نے کہا: حذیفہ 35 ہجری میں فوت ہوئے، لیکن جمہور کا کہنا ہے کہ حذیفہ 36 ہجری میں فوت ہوئے۔ دیکھیے "تاریخ دمشق" 12/ 300 - 301 اور "بغیۃ الطلب" 5/ 2157 - 2159۔