🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
534. ذكر وفاة خباب بن الأرت ووصيته لدفنه
سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی تدفین سے متعلق وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5741
حدثنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيّ، حدثنا طَلْق بن غَنَّامِ النَّخَعي، حدثنا محمد بن عِكرمة، عن أبيه، حدثني عبد الله بن خَبّاب بن الأرَتّ، قال: كان الناسُ يَدفِنُون مَوتاهُم بالكوفة، حتى جاء خَبَّابًا سَهمٌ، فلما ثَقُلَ قال لي: يا بُنيّ، ادفِنّي بالظَّهْر، فإنك لو دَفَنْتَني بالظَّهْر قيل: دُفِنَ رجلٌ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فلما ماتَ خبَّاب دُفِن بالظَّهْر، فكان أولَ مَدفُونٍ دُفِن بالظَّهر، فدَفَنَ الناسُ مَوتاهُم بالظَّهْر (2) .
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ اپنے فوت شدگان کو کوفہ میں دفن کیا کرتے تھے۔ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ وہاں آئے، جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے مجھے کوفہ سے باہر قبرستان میں دفن کرنا (کوفے کے لوگ اپنے مردوں کو وہاں دفن نہیں کرتے تھے)، کیونکہ اگر تم مجھے وہاں دفن کرو گے تو لوگ یوں کہا کریں گے ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کو وہاں پر دفن کیا گیا ہے (اس طرح لوگ اپنے مردوں کو وہاں دفن کرنے لگ جائیں گے)۔ پھر جب سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ان کو کوفہ سے باہر دفن کیا گیا، وہاں پر دفن ہونے والے یہ پہلے صحابی رسول ہیں، اس کے بعد لوگ اپنے فوت شدگان کو وہاں دفن کرنا شروع ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5741]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5741 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة محمد بن عكرمة - وهو ابن قيس بن الأحنف النخعي - وجهالة أبيه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ محمد بن عکرمہ (جو ابن قیس بن احنف النخعی ہیں) کی جہالت اور ان کے والد کی جہالت (عدم شناخت) ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "طبقاته" 3/ 153 - وعنه البَلاذُري في "أنساب الأشراف" 1/ 179 - عن طَلْق بن غَنَّام النَّخَعي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 153) میں اور ان سے بلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 179) میں طلق بن غنام النخعی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔