🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

534. ذِكْرُ وَفَاةِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ وَوَصِيَّتُهُ لِدَفْنِهِ
سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کی تدفین سے متعلق وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5740
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَديّ، حدثنا علي بن عَيّاش، حدثنا شُعيب بن أبي حَمْزة، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفَل، عن عبد الله بن خَبّاب، عن أبيه خَبّاب مولى بني زُهْرة، وكان قد شهِد بدرًا مع رسول الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5640 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
عبداللہ بن خباب، بنی زہرہ کے آزاد کردہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5740]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5741
حدثنا علي بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّورِيّ، حدثنا طَلْق بن غَنَّامِ النَّخَعي، حدثنا محمد بن عِكرمة، عن أبيه، حدثني عبد الله بن خَبّاب بن الأرَتّ، قال: كان الناسُ يَدفِنُون مَوتاهُم بالكوفة، حتى جاء خَبَّابًا سَهمٌ، فلما ثَقُلَ قال لي: يا بُنيّ، ادفِنّي بالظَّهْر، فإنك لو دَفَنْتَني بالظَّهْر قيل: دُفِنَ رجلٌ من أصحابِ رسول الله ﷺ، فلما ماتَ خبَّاب دُفِن بالظَّهْر، فكان أولَ مَدفُونٍ دُفِن بالظَّهر، فدَفَنَ الناسُ مَوتاهُم بالظَّهْر (2) .
سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ اپنے فوت شدگان کو کوفہ میں دفن کیا کرتے تھے۔ جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ وہاں آئے، جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: اے میرے پیارے بیٹے مجھے کوفہ سے باہر قبرستان میں دفن کرنا (کوفے کے لوگ اپنے مردوں کو وہاں دفن نہیں کرتے تھے)، کیونکہ اگر تم مجھے وہاں دفن کرو گے تو لوگ یوں کہا کریں گے ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کو وہاں پر دفن کیا گیا ہے (اس طرح لوگ اپنے مردوں کو وہاں دفن کرنے لگ جائیں گے)۔ پھر جب سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو ان کو کوفہ سے باہر دفن کیا گیا، وہاں پر دفن ہونے والے یہ پہلے صحابی رسول ہیں، اس کے بعد لوگ اپنے فوت شدگان کو وہاں دفن کرنا شروع ہو گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5741]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5742
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحَسن بن الجَهْم، حدثنا الحُسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، قال: خَبّاب بن الأرَتِّ بن جَنْدَلة بن سعْد بن خُزيمة بن كَعْب بن سعد من بني سعد بن زيدِ مَناةَ، وكان فيما ذُكِر أنه سُبِيَ بمكةَ، فاشتَرتْه أمُّ أنمارٍ بنت سِبَاعٍ الخُزَاعيّة، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين خبّابٍ وبين جُبير بن عَتِيك، وشهد خبّابٌ بدرًا وأحدًا والخندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ، وتُوفي خبّاب سنة سبع وثلاثين وهو يومئذٍ ابن ثلاثٍ وسبعينَ سنةً (1) .
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے خباب بن ارت بن جندلہ بن سعد بن خزیمہ بن کعب بن سعد بنی سعد بن زید سے تعلق رکھتے تھے، ان کو مکہ میں قید کر لیا گیا تھا، پھر ان کو ام انمار سباع الخزاعیہ نے خریدا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ اور سیدنا جبر بن عتیک رضی اللہ عنہ کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا تھا۔ سیدنا خباب جنگ بدر، احد، خندق اور تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک ہوئے۔ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سن 37 ہجری میں فوت ہوئے، اور وفات کے وقت ان کی عمر 37 برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5742]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5743
حدثنا عبد الباقي بن قانِع، حدثنا إبراهيم بن أحمد بن عُمر الوَكِيعي، [حدثنا الأزرق بن علي] حدثنا حسان بن إبراهيم، حدثنا محمد بن سَلَمة (2) بن كُهيل [عن أبيه] (3) عن المغيرة بن عبد الله اليَشْكُري، عن قيس بن أبي حازم، عن خَبّاب، قال: أتيتُ رسولَ الله ﷺ وهو مُضطَجِعٌ تحت شجرةٍ واضعٌ يدَه تحت رأسِه، فقلتُ: يا رسولَ الله، ألا تدعُو الله على هؤلاء القومِ الذين قد خَشِينا أن يَرُدُّونا عن دِيننا؟ فصَرَف عنّي وجهَه ثلاثَ مَرّاتٍ، كلَّ ذلك أقولُ له فيصرِفُ وجهَه عني، فجلَس في الثالثة، فقال:"أيُّها الناسُ، اتقُوا الله واصبِرُوا؛ فوالله إن كان الرجلُ من المؤمنين قبلَكم لَيُوضَعُ المِنشارُ على رأسِه، فيُشَقُّ باثنتَين، وما يَرتدُّ عن دِينِه، اتقُوا الله، فإنَّ الله فاتحٌ لكم وصانعٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5643 - صحيح
سیدنا خباب رضی اللہ عنہ خود اپنے بارے میں فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت آپ ایک درخت کے نیچے، اپنا ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھ کر لیٹے ہوئے تھے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس قوم کے خلاف بددعا کیوں نہیں فرماتے؟ جن کے بارے میں ہمیں خدشہ ہے کہ وہ ہمیں اپنے دین سے بہکا دیں گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔ میں نے دوبارہ یہی عرض کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار بھی چہرہ پھیر لیا۔ پھر تیسری مرتبہ میں نے وہی عرض کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار بھی چہرہ پھیر لیا، پھر میرے تیسری مرتبہ سوال کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اور صبر اختیار کرو، خدا کی قسم! تم سے پہلے لوگوں پر ایسی مصیبتیں آتی تھیں کہ کسی کے سر پر آرا پھر کر اس کو دو ٹکڑے کر دیا جاتا لیکن وہ اپنے دین سے نہ پھرتا، تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تمہارا االلہ ہی تمہارے لئے فاتح ہے اور وہی صانع ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5743]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں