المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
542. ما خير عمار بين أمرين إلا اختار أرشدهما
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو جب دو باتوں میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے زیادہ ہدایت والی بات کو اختیار کیا
حدیث نمبر: 5767
أخبرنا أبو سهل أحمد بن محمد النَّحْوي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا قَبِيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاقَ، عن حارثة بن مُضَرِّب، قال: كتبَ إلينا عمرُ بن الخطاب: إني قد بعثتُ إليكم عمارَ بن ياسرٍ أميرًا، وعبدَ الله بنَ مَسعُود مُعلِّمًا ووزيرًا، وهما من النُّجَباء من أصحاب محمدٍ ﷺ، من أهل بدرٍ فاسمَعُوا، وقد جعلتُ ابنَ مَسعُود على بيتِ مالِكُم؛ فاسمَعُوا فتعلَّمُوا منهما، واقتَدُوا بهما، وقد آثرتُكم بعبدِ الله على نَفْسى (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5663 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہماری جانب خط لکھا کہ میں تمہاری جانب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو امیر بنا کر اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بنا کر بھیج رہا ہوں یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نجباء صحابہ میں سے ہیں، دونوں بدری صحابی ہیں۔ تم ان کی اطاعت کرو، میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو تمہارے بیت المال کی ذمہ داری دی ہے، ان کی بھی اطاعت کرنا، ان سے قرآن کی تعلیم بھی حاصل کرو، ان اقتداء کرو، میں نے تمہارے لئے اپنے آپ پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ترجیح دی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5767]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5767 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان: هو الثوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "سفیان" سے مراد سفیان ثوری ہیں اور "ابو اسحاق" سے مراد عمرو بن عبداللہ السبیعی ہیں۔
وأخرجه ابن سعد 8/ 131، ويعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/ 533، والبيهقي في "المدخل إلى "السنن (101)، وابن عساكر 33/ 129 و 147 من طريق قبيصة بن عقبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن سعد (8/ 131)، یعقوب بن سفیان نے "المعرفة والتاريخ" (2/ 533)، بیہقی نے "المدخل إلى السنن" (101) اور ابن عساکر (33/ 129 اور 147) نے قبیصہ بن عقبہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وأخرجه ابن سعد 3/ 235 و 1318، وابن أبي شيبة في "مصنفه" 12/ 116، وأحمد بن حنبل في "فضائل الصحابة" (1547)، ويعقوب في "المعرفة" 2/ 533، والبَلاذُري في "أنساب الأشراف" 1/ 163، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (246)، وابن أبي خيثمة في السفر الثالث من "تاريخه" (3546)، والطبراني في "الكبير" (8478)، وابن عساكر 33/ 129 و 147 و 43/ 437، والضياء المقدسي في "المختارة" 1/ (108) و (109) من طريقين آخرين عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (3/ 235 اور 1318)، ابن ابی شیبہ نے "المصنف" (12/ 116)، احمد بن حنبل نے "فضائل الصحابة" (1547)، یعقوب نے "المعرفہ" (2/ 533)، بلاذری نے "أنساب الأشراف" (1/ 163)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (246)، ابن ابی خیثمہ نے اپنی تاریخ کے تیسرے سفر (3546) میں، طبرانی نے "المعجم الكبير" (8478)، ابن عساکر (33/ 129، 147 اور 43/ 437) اور ضیاء المقدسی نے "المختارة" (1/ 108 اور 109) میں سفیان ثوری سے دو دیگر طرق (اسانید) کے ذریعے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد 8/ 130، والطحاوي في "مشكل الآثار" 7/ 200، والضياء (110)، وابن عساكر 33/ 146 - 147 و 43/ 437 من طرق عن أبي إسحاق السَّبيعي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابن سعد (8/ 130)، طحاوی نے "مشكل الآثار" (7/ 200)، ضیاء (110) اور ابن عساکر (33/ 146-147 اور 43/ 437) نے ابو اسحاق السبیعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔
وانظر ما تقدم برقم (5464).
📝 نوٹ / توضیح: وہ روایت دیکھیں جو پیچھے نمبر (5464) پر گزر چکی ہے۔