🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
545. دوروا مع كتاب الله حيثما دار
قرآنِ مجید کے ساتھ رہو جدھر وہ رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5781
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا عُبيد الله بن مُعاذ العَنْبري، حدثنا أبي، حدثنا ابن عَون، عن الحَسن، قال: قال عَمرو بن العاص: إني لأرجُو أن لا يكونَ رسولُ الله ﷺ ماتَ يومَ ماتَ وهو يُحِبُّ رجلًا يَدخُلَ النارَ أبدًا، قالوا: إنا كنا نَراه يُحبُّك ويَستعِينُ بك ويَستعمِلُك، فقال: واللهُ أعلمُ بحُبِّي، ولكن كَفَى به، وكنا نَراهُ يُحبُّ رجلًا، قالوا: ومَن ذاكَ؟ قال: عمارُ بنُ ياسر، قالوا: فذاك قَتِيلُكم يومَ صِفِّينَ (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، إن كان الحسنُ بن أبي الحسن سمعه من عَمرو بن العاص، فإنه أدركه بالبصرة بلا شَكّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5677 - لكنه مرسل
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں یہ امید رکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری دم تک جس سے محبت کرتے رہے وہ کبھی بھی دوزخ میں نہیں جائے گا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم یہ دیکھا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت بھی کرتے تھے، تم سے معاونت بھی حاصل کرتے تھے اور تمہیں ذمہ داریاں بھی عطا فرمائیں۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ میری محبت کو جانتا ہے اور وہ مجھے کافی ہے۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا) لیکن ہم یہ بھی تو دیکھا کرتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک (دوسرے) آدمی سے (بھی تو) بہت محبت کرتے تھے، انہوں نے پوچھا: کون؟ لوگوں نے کہا: عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ جو کہ جنگ صفین میں تمہارے ہی ہاتھوں قتل ہوئے۔ ٭ اگر حسن ابن ابی حسن نے عمرو بن العاص سے سماع کیا ہے (کیونکہ بلاشک و شبہ بصرہ کے اندر ان دونوں کی ملاقات ثابت ہے) تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5781]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5781 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) رجاله ثقات لكنه مرسلٌ كما قال الذهبي في "تلخيصه". معاذ العَنْبري: هو ابن معاذ، وابن عون: هو عبد الله بن عون بن أَرْطَبان، والحسن: هو ابن أبي الحسن البصري، ولم يسمع من عمرو بن العاص. وأخرجه النسائي (8216) من طريق عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن، عن معاذ بن معاذ العَنْبري بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں، لیکن یہ "مرسل" ہے، جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: معاذ العنبری سے مراد ابن معاذ ہیں، ابن عون سے مراد عبداللہ بن عون بن ارطبان ہیں، اور حسن سے مراد حسن بصری ہیں جنہوں نے عمرو بن العاص سے سماع نہیں کیا (یعنی ملاقات ثابت نہیں)۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (8216) نے عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن کے واسطے سے معاذ بن معاذ العنبری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 29/ (17807) من طريق جرير بن حازم، عن الحسن البصري. لكنه ذكر في روايته أنَّ عمرو بن العاص ذكر عمار بن ياسر وابن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسی جیسی روایت احمد (29/ 17807) نے جریر بن حازم کے طریق سے حسن بصری سے روایت کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: لیکن انہوں نے اپنی روایت میں ذکر کیا کہ عمرو بن العاص نے عمار بن یاسر اور ابن مسعود دونوں کا ذکر کیا۔
وأخرج نحوه كذلك أحمد (7781) من طريق أبي نوفل بن أبي عقرب، قال: جزع عمرو بن العاص عند الموت جزعًا شديدًا، فلما رأى ذلك ابنُه عبد الله بن عمرو، قال: يا أبا عبد الله، ما هذا الجزع، وقد كان رسول الله ﷺ يُدنيك ويستعملك … ثم ذكر نحوه، وذكر عمارًا وابن مسعود.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح احمد (7781) نے ابو نوفل بن ابی عقرب کے طریق سے روایت کی ہے کہ: عمرو بن العاص موت کے وقت سخت گھبرا گئے (جزع فزع کیا)، جب ان کے بیٹے عبداللہ بن عمرو نے یہ دیکھا تو کہا: اے ابو عبداللہ! یہ گھبراہٹ کیسی؟ حالانکہ رسول اللہ ﷺ آپ کو اپنے قریب رکھتے تھے اور آپ کو ذمہ داریاں سونپتے تھے... پھر اسی طرح ذکر کیا اور اس میں عمار اور ابن مسعود کا تذکرہ بھی ہے۔