🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
565. ذكر لقاء أويس القرني عمر رضى الله عنه
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات اور نبی ﷺ کی طرف سے ان کی پہچان کا بیان — حاکم کہتے ہیں: اس روایت کی صحت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ تک ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5825
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا الحُسين بن الفضل البَجَلي ومحمد بن غالب الضَّبِّي، قالا: حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سعيدٍ الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أُسَير بن جابر، قال: لما أقبل أهلُ اليمن جعل عمرُ يستقري الرِّفاقَ، فيقول: هل فيكم أحدٌ من قَرَن؟ حتى أتى على قَرَن، فقال: من أنتم؟ قالوا: قَرَنٌ، فرَفَع عمرُ بزمام - أو زمامَ - أُويسٍ فناولَه عمرُ، فعرفَه عمرُ بالنَّعْت، فقال له عمرُ: ما اسمُك؟ قال: أنا أُويسٌ، قال: هل كانت لك والدةٌ؟ قال: نعم، قال: هل بك من البَيَاض شيءٌ؟ قال: نعم، دعوتُ الله فأذهبَه عنّي إِلَّا موضعَ الدرهمِ من سُرَّتي، لأذكُرَ به ربّي، فقال له عمر: استغفِرْ لي، قال: أنت أحقُّ أن تستغفرَ لي، أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، فقال عمر: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ خير التابعينَ رجلٌ يُقال له: أُويسٌ القَرَنيُّ، وله والدةٌ، وكان به بياضٌ فدعا ربَّه فأذهبَه عنه إِلَّا موضعَ الدرهم في سُرّته"، قال: فاستغفَرَ له، قال: ثم دخل في غُمارِ الناسِ، فلم يُدرَ أين وَقَعَ. قال: ثم قَدِمَ الكوفة، فكنا نجتمعُ في حَلْقَةٍ فنذكرُ الله، وكان يجلسُ معنا، فكان إذ ذَكَّرهم وَقَعَ حديثُه من قلوبنا مَوقعًا لا يقعُ حديثُ غيرِه، ففقدتُه يومًا، فقلت لجليسٍ لنا: ما فَعَل الرجلُ الذي كان يَقعُد إلينا؟ لعلّه اشتكى، فقال رجلٌ: مَن هو؟ فقلتُ: مَن هو؟! قال: ذاك أُويسٌ القَرَني، فدُلِلتُ على منزله، فأتيته، فقلتُ: يرحمُك اللهُ، أين كنتَ؟ ولِمَ تتركُنا؟ فقال: لم يكن لي رداءٌ، فهو الذي مَنعَني من إتيانِكُم، قال: فألقَيتُ إليه رِدائي، فقَذَفَه إليَّ، قال: فتجانبتُه (1) ساعةً، ثم قال: لو أني أخذتُ رداءَك هذا فلبستُه فرآه عليَّ قومي قالوا انظروا إلى هذا المُرائي، لم يَزَل في الرجُل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءَه، فلم أزَلْ به حتى أخذَه، فقلت: انطَلِقْ حتى أسمعَ ما يقولون، فلبسَه فخرَجْنا، فمرّ بمجلسِ قومِه، فقالوا: انظُروا إلى هذا المرائي، لم يَزَل بالرجل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءه، فأقبلتُ عليهم، فقلتُ: ألا تستحْيُون لمَ تُؤذُونه؟! والله لقد عَرضتُه عليه فأبى أن يَقبَلَه. قال: فوَفَدَتْ وُفُودٌ من قبائل العرب إلى عمر، فوَفَدَ فيهم سيِّدُ قومِه، فقال لهم عمر بن الخطاب: أفيكم أحدٌ من قَرَن؟ فقال له سيِّدُهم: نعم، أنا، فقال له: هل تعرف رجلًا من أهل قَرَن يقال له: أويسٌ، من أمره كذا ومن أمره كذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين، ما تذكُر من شأن ذاك؟ ومَن ذاك؟ فقال له عمر: هَبِلَتْك أمُّك، أدرِكْه! مرتين أو ثلاثًا، ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا:"إنَّ رجلًا يقال له: أويسٌ، مِن قَرَنٍ، من أمرِه كذا ومن أمرِه كذا". فلما قَدِمَ الرجلُ لم يبدأْ بأحدٍ قبلَه، فدخل عليه، فقال: استغفِرْ لي، فقال: ما بَدَا لك؟ قال: إنَّ عمر قال لي: كذا وكذا، قال: ما أنا بمستغفرٍ لك حتى تجعلَ لي ثلاثًا، قال: وما هُنَّ؟ قال: لا تُؤذيني فيما بَقِي، ولا تُخبِرُ بما قال لك عمرُ أحدًا من الناس، ونَسِيَ الثالثةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5720 - على شرط مسلم
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یمن کے لوگ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان جماعتوں کی مہمان نوازی کی۔ (جب بھی کوئی جماعت آپ کے پاس آتی تو) آپ ان سے پوچھتے: کیا تمہارے اندر قرن کا رہنے والا کوئی شخص موجود ہے؟ پھر قرن کے رہنے والے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے پوچھا: تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم قرن کے رہنے والے ہیں۔ پھر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے جانور کی لگام ان کی جانب بڑھائی گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لگام تھام لی اور ان کے اوصاف کی بناء پر ان کو پہچان لیا۔ اور ان کے درمیان درج ذیل مکالمہ ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: آپ کا نام کیا ہے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: میرا نام اویس ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا تم نے اپنی والدہ کی صحبت پائی؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ کے جسم پر کوئی سفید نشان موجود ہے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ میں نے دعا مانگی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی، مگر ناف کے قریب ایک درہم جتنی جگہ پر سفید نشان اب بھی موجود ہے۔ یہ اس لئے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: آپ کو چاہیے کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعا کریں، کیونکہ آپ تو خود صحابی رسول ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے افضل ایک اویس نامی شخص ہو گا، وہ قرن کا رہنے والا ہو گا۔ وہ اپنی والدہ کو پائے گا، (اور اس کا فرمانبردار ہو گا) وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو گا، پھر وہ اپنے رب کی بارگاہ میں دعا مانگے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے گا مگر اس کی ناف پر ایک سفید نشان باقی رہ جائے گا۔ پھر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ اس کے بعد وہ لوگوں کی جماعت میں شامل ہو گئے، پھر یہ پتا نہ چلا کہ انہوں نے کہاں پر قیام کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ کوفہ میں آ گئے، ہم لوگ ایک حلقہ ذکر میں شریک ہوا کرتے تھے وہاں پر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ بھی آتے تھے، جب آپ لوگوں کو وعظ کہتے تو آپ کی بات دل میں ایسے اثر کرتی کہ کسی دوسرے کی بات اس طرح اثر نہیں کرتی تھی۔ ایک دن سیدنا اویس رضی اللہ عنہ اس حلقہ ذکر میں نہ آئے، میں نے اپنے ساتھی سے ان کے بارے میں پوچھا: اس آدمی کو کیا ہوا، جو ہمارے ساتھ بیٹھا کرتا تھا، وہ کہیں بیمار تو نہیں ہو گیا؟ اس آدمی نے پوچھا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: وہ اویس قرنی ہے۔ میں نے ان کے گھر کا پتا معلوم کیا اور ان کے گھر آ گیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ کہاں تھے؟ اور آپ نے ہمیں کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے کہا: میرے پاس اوڑھنے کے لئے کوئی چادر نہ تھی، بس اسی وجہ سے میں تمہارے حلقہ میں نہیں آ سکا۔ میں نے اپنی چادر ان کو پیش کی، لیکن انہوں نے وہ چادر مجھے لوٹا دی، میں کچھ دیر تو کھڑا سوچتا رہا، پھر انہوں نے کہا: اگر میں نے تمہاری چادر قبول کر لی اور اس کو اوڑھ کر باہر نکلا اور لوگوں نے اس کو دیکھ لیا تو لوگ کہیں گے: اس ریاکار کو دیکھو یہ ایک آدمی کے پیچھے پڑا رہا حتی کہ اس کو دھوکہ دے کر یہ چادر اس سے ہتھیا لی، لیکن میں بھی اصرار کرتا رہا، بالآخر وہ میری چادر لینے پر راضی ہو گئے، میں نے ان سے کہا: آپ چلئے، میں دیکھتا ہوں کون شخص آپ کو باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے چادر اوڑھ لی اور ہم لوگ وہاں سے نکل آئے، انہی کی قوم کی ایک مجلس کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو انہوں نے کہا: اس ریاکار کو دیکھو، یہ ایک آدمی کے پیچھے پڑا رہا، حتیٰ کہ دھوکے سے اس کی چادر حاصل کر لی ہے۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: تمہیں حیا نہیں آتی، تم اس شخص کو کیوں ستا رہے ہو؟ خدا کی قسم! میں نے یہ چادر خود اپنے طور پر ان کو پیش کی ہے، پھر بھی انہوں نے انکار کر دیا تھا، میں نے زبردستی ان کو اوڑھائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: عرب کے قبائل کے وفود (میں سے ایک وفد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں آیا، ایک وفد میں ان کی قوم کا سردار بھی موجود تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے اندر کوئی شخص قرن کا رہنے والا بھی موجود ہے؟ ان کے سردار نے کہا: جی ہاں۔ میں قرن کا ہی رہنے والا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مخصوص نشانیاں بتا کر پوچھا: کیا آپ ان نشانیوں کے حامل کسی اویس نامی شخص کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ کس شخص کی بات کر رہے ہیں؟ اور یہ شخص کون ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں تجھے روئے دو تین مرتبہ ان سے ملاقات کر لو، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمیں مخصوص نشانیاں بتا کر) فرمایا: قرن کا رہنے والا ایک اویس نامی شخص ہے جو کہ فلاں فلاں صفات کا حامل ہے۔ جب وہ شخص واپس گیا تو سب سے پہلے سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ میرے لئے بخشش کی دعا کر دیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں کیسے پتا چلا (مجھ سے دعا کروانے میں کوئی فضیلت ہے) اس نے بتا دیا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں یہ یہ باتیں بتائی ہیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا جب تک تم مجھے تین چیزوں کی گارنٹی نہ دو۔ اس نے پوچھا: وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: (1) آج کے بعد تم مجھے تکلیف نہیں دو گے۔ (2) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ تمہیں میرے بارے میں بتایا ہے وہ تم کسی سے نہیں کہو گے۔ (3) تیسری بات راوی کو بھول گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5825]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5825 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) جاء في (ز): فتحالبته، وفي "تلخيص المستدرك" للذهبي: فتحاليته، وكذلك رُسمت في (ص) و (م) و (ب) لكنها أهملت فيها، ولم يسُق أحدٌ هذا الخبر بتمامه غير المصنف، فلم نستطع تبيُّن ضبط هذه اللفظة وإعجامها، غير أنَّ سياق القصة يدل على أنَّ أُسيرًا لما رأى ردّة فعل أويس الشديدة التي عبر عنها بقذف الرداء تجانبه أُسَير ساعةً ليذهب عن أويس ما وجده في نفسِه، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں لفظ "فتحالبته" آیا ہے، جبکہ ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں "فتحاليته" ہے۔ نسخہ (ص)، (م) اور (ب) میں بھی اسی طرح لکھا گیا ہے لیکن وہاں نقطے نہیں لگائے گئے۔ چونکہ مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی نے یہ پوری خبر روایت نہیں کی، اس لیے ہم اس لفظ کے درست تلفظ اور نقطوں کا تعین نہیں کر سکے۔ البتہ قصے کا سیاق و سباق بتاتا ہے کہ جب اُسیر نے اویس کا شدید ردعمل دیکھا (جب انہوں نے چادر پھینک دی)، تو اُسیر کچھ دیر کے لیے ان سے ہٹ گئے تاکہ اویس کے دل کا غبار (غصہ/تکلیف) دور ہو جائے۔ واللہ اعلم۔
(1) إسناده صحيح سعيد الجُرَيري: هو ابن إياس، وأبو نَضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة العَبْدي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید الجریری سے مراد ابن ایاس ہیں، اور ابو نضرہ سے مراد منذر بن مالک بن قطعہ العبدی ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (266)، ومسلم (2542) (224) من طريق عفان، بهذا الإسناد. ولم يسُق أحمد ومسلم لفظ الحديث بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (1/ 266) اور مسلم (2542/ 224) نے عفان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ البتہ احمد اور مسلم نے حدیث کے مکمل الفاظ نقل نہیں کیے۔
وأخرجه كذلك مختصرًا مسلم (2542) (223) من طريق سليمان بن المغيرة، عن سعيد الجُريري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2542/ 223) نے مختصراً سلیمان بن مغیرہ کے طریق سے، سعید الجریری سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (267) من طريق قيس أو ابن قيس رجل من جُعفي، عن عمر بن الخطاب. قال أحمد: فذكر نحو حديث عفان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (267) نے قیس یا ابن قیس (جو جعفی کا ایک شخص ہے) کے طریق سے عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں: پھر اس نے عفان کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
وقوله في هذا الخبر: "خير التابعين رجل يقال له: أويس" تقدم من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى عن رجل من الصحابة برقم (5822).
📝 نوٹ / توضیح: اس خبر میں آپ ﷺ کا یہ فرمانا: "تابعین میں سب سے بہترین ایک شخص ہے جسے اویس کہا جاتا ہے"، یہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث سے (جو ایک صحابی سے مروی ہے) پیچھے نمبر (5822) پر گزر چکا ہے۔
قوله: يستقري، أي: يتتبّع.
📝 نوٹ / توضیح: قولہ "یستقری" کا مطلب ہے: تلاش کرتا ہے، پیچھا کرتا ہے۔
وغُمار الناس، بضم الغين وفتحها: الزَّحْمة.
📝 نوٹ / توضیح: "غُمار الناس" (غین کے پیش یا زبر کے ساتھ) کا مطلب ہے: لوگوں کا ہجوم/بھیڑ۔