🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
565. ذكر لقاء أويس القرني عمر رضى الله عنه
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات اور نبی ﷺ کی طرف سے ان کی پہچان کا بیان — حاکم کہتے ہیں: اس روایت کی صحت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ تک ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5824
أخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن أُسَير بن جابر، قال: كان أمير المؤمنين عمر بن الخطاب إذا أتت عليه أمدادُ اليمن سألَهم: أفيكُم أُويسُ بن عامر؟ حتى أتى عليه أويسٌ، فقال: أنت أويسُ بن عامر، قال نعم، قال: مِن مراد ثم قَرَنٍ؟ قال: نعم، قال: كان بك بَرَضٌ فَبَرَأتَ منه إلَّا موضعَ درهم، قال: نعم، قال: ألك والدةٌ؟ قال: نعم، فقال عمر: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ اليمَن، من مُراد ثم من فَرَن، كان به بَرَص فبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأَبَرّه، فإن استطعتَ أن يَستغفرَ لك فافعلْ"، قال: فاستغفرْ لي، فاستغفَرَ له، ثم قال عمر: أين تريدُ؟ قال: الكوفةَ، قال: ألا أكتُبُ لك إلى عُمّالها فيستَوصُوا بك خيرًا؟ فقال: لأَن أكونَ في غَبْراءِ الناس أحبُّ إليَّ. فلما كان في العام المُقبل حجّ رجلٌ من أشرافِهم، فسأل عمرُ عن أُويس، كيف تركْتَه؟ فقال: تركتُه رثَّ البيت، قليلَ المَتاع، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ أهل اليمن، من مُراد ثم من قَرَن، كان به بَرَصٌ فَبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأبَرَّه، فإن استطعتَ أن يستغِفَر لك فافعلْ"، فلما قدم الرجلُ أتى أُويسًا، فقال: استغِفرْ لي، فقال: أنتَ أحدثُ الناس بسفرٍ صالح، فاستغفِرْ لي، فقال: لقيتَ عمرَ بن الخطاب؟ فقال: نعم، قال: فاستغَفَر له، قال: ففَطِنَ له الناسُ، فانطلقَ على وجهه. قال أُسَيرٌ: فَكَسَوتُه بُردًا، فكان إذا رآه عليه إنسانٌ قال: مِن أين لأُويسٍ هذا؟ (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5719 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یمن کے امدادی مجاہدین آئے تو امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان سے دریافت کرنے لگے کہ کیا تمہارے درمیان کوئی اویس بن عامر نامی شخص موجود ہے؟ (یہ سلسلہ چلتا رہا حتیٰ کہ آخرکار سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی باری آ گئی) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کا سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ درج ذیل مکالمہ ہوا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: آپ اویس بن عامر ہیں؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ مراد قبیلے اور قرن سے تعلق رکھتے ہیں؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ برص کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے، پھر تندرست بھی ہو گئے تھے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: کیا آپ نے اپنی والدہ کو پایا؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یمن کی ایک جماعت کے ہمراہ ایک اویس بن عامر نامی شخص تمہارے پاس آئے گا، جس کا تعلق قبیلہ مراد سے ہو گا اور وہ قرن کا باشندہ ہو گا، وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو کر صحت یاب ہو چکا ہو گا، البتہ ایک درہم جتنا، اس کے جسم پر سفید نشان باقی ہو گا، اس کو (اپنی) والدہ کی صحبت میسر آئی ہو گی اور وہ اپنی ماں کا فرمانبردار ہو گا۔ (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا مقام یہ ہو گا کہ) اگر وہ (کسی کام کے لئے) اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو ضرور پورا کرے گا۔ اگر ہو سکے تو تم اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا، (پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے) مغفرت کی دعا مانگنے کی درخواست کی، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: کوفہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں وہاں کے گورنر کے نام آپ کے لئے ایک خط نہ لکھ دوں، جس کی وجہ سے وہ آپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رہنے دیجئے، کیونکہ مجھے غبار آلود اور مٹی میں اٹے ہوئے لوگوں میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اگلے سال سرکاری عمائدین میں سے ایک صاحب حج کرنے کے لئے آیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتایا کہ میں ان کو اس حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ ایک چھوٹے سے شکستہ گھر میں رہتے ہیں۔ اس کے پاس سامان بہت کم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے پاس یمنی لوگوں کی کسی جماعت کے ہمراہ اویس بن عامر رضی اللہ عنہ آئے گا، اس کا تعلق قبیلہ مراد سے ہو گا اور وہ قرن کا رہنے والا ہو گا۔ وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو کر صحت یاب ہو چکا ہو گا، جبکہ ایک درہم جتنی جگہ پر نشان باقی ہو گا، وہ اپنی والدہ کا فرمانبرار اور خدمت گزار ہو گا، (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے مقام کا حامل ہو گا کہ) اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دے گا۔ اگر ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروا لینا، (راوی کہتے ہیں) وہ صاحب (حج سے واپس لوٹا تو) کوفہ میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے دعائے مغفرت کرنے کی درخواست کی، سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ تو خود ابھی ابھی ایک مبارک سفر سے تشریف لائے ہیں، آپ میرے لئے دعا کریں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تب کوفہ کے لوگوں کو آپ کے مقام اور مرتبہ کا پتا چلا، تو سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ (کوفہ چھوڑ کر کہیں اور) چلے گئے۔ سیدنا اسیر فرماتے ہیں: میں نے ان کی خدمت میں ایک چادر پیش کی تھی (وہ اتنی عمدہ تھی کہ) جو بھی وہ چادر سیدنا اویس کے پاس دیکھتا تو وہ یہی دریافت کرتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5824]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5824 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي. وأخرجه مسلم (2542) (225) من طرق عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہشام سے مراد ابن ابی عبداللہ الدستوائی ہیں۔ اسے مسلم (2542/ 225) نے معاذ بن ہشام کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اس حدیث کا استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے (کیونکہ یہ تو مسلم میں موجود ہے)۔