🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

565. ذِكْرُ لِقَاءِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات اور نبی ﷺ کی طرف سے ان کی پہچان کا بیان — حاکم کہتے ہیں: اس روایت کی صحت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ تک ثابت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5824
أخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن أُسَير بن جابر، قال: كان أمير المؤمنين عمر بن الخطاب إذا أتت عليه أمدادُ اليمن سألَهم: أفيكُم أُويسُ بن عامر؟ حتى أتى عليه أويسٌ، فقال: أنت أويسُ بن عامر، قال نعم، قال: مِن مراد ثم قَرَنٍ؟ قال: نعم، قال: كان بك بَرَضٌ فَبَرَأتَ منه إلَّا موضعَ درهم، قال: نعم، قال: ألك والدةٌ؟ قال: نعم، فقال عمر: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ اليمَن، من مُراد ثم من فَرَن، كان به بَرَص فبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأَبَرّه، فإن استطعتَ أن يَستغفرَ لك فافعلْ"، قال: فاستغفرْ لي، فاستغفَرَ له، ثم قال عمر: أين تريدُ؟ قال: الكوفةَ، قال: ألا أكتُبُ لك إلى عُمّالها فيستَوصُوا بك خيرًا؟ فقال: لأَن أكونَ في غَبْراءِ الناس أحبُّ إليَّ. فلما كان في العام المُقبل حجّ رجلٌ من أشرافِهم، فسأل عمرُ عن أُويس، كيف تركْتَه؟ فقال: تركتُه رثَّ البيت، قليلَ المَتاع، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ أهل اليمن، من مُراد ثم من قَرَن، كان به بَرَصٌ فَبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأبَرَّه، فإن استطعتَ أن يستغِفَر لك فافعلْ"، فلما قدم الرجلُ أتى أُويسًا، فقال: استغِفرْ لي، فقال: أنتَ أحدثُ الناس بسفرٍ صالح، فاستغفِرْ لي، فقال: لقيتَ عمرَ بن الخطاب؟ فقال: نعم، قال: فاستغَفَر له، قال: ففَطِنَ له الناسُ، فانطلقَ على وجهه. قال أُسَيرٌ: فَكَسَوتُه بُردًا، فكان إذا رآه عليه إنسانٌ قال: مِن أين لأُويسٍ هذا؟ (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5719 - على شرط البخاري ومسلم
اسیر بن جابر سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب بھی یمن سے امدادی دستے آتے تو وہ ان سے دریافت فرماتے: کیا تمہارے درمیان اویس بن عامر موجود ہیں؟ یہاں تک کہ (ایک بار) اویس خود ان کے پاس آ گئے، آپ نے پوچھا: کیا تم اویس بن عامر ہو؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: قبیلہ مراد اور پھر اس کی شاخ قرن سے تعلق ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تمہیں برص (سفید داغ) کی بیماری تھی جو ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ باقی سب ٹھیک ہو گئی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ بقیدِ حیات ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تمہارے پاس اہل یمن کے امدادی دستوں کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے، جن کا تعلق مراد اور پھر قرن سے ہوگا، انہیں برص کی بیماری تھی جو ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ باقی شفایاب ہو گئی، ان کی ایک والدہ ہیں جن کے وہ نہایت خدمت گزار ہیں، وہ اگر اللہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم ضرور پوری فرما دے، پس اگر تم سے ہو سکے کہ وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں تو ضرور ایسا کرنا، (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: پس میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، چنانچہ انہوں نے ان کے لیے دعا فرمائی، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: کوفہ کا، آپ نے فرمایا: کیا میں تمہارے لیے وہاں کے حکام کے نام سفارشی خط نہ لکھ دوں کہ وہ تمہارے ساتھ بہتر سلوک کریں؟ انہوں نے عرض کیا: گمنام اور عام لوگوں میں رہنا مجھے زیادہ پسند ہے، پھر جب اگلا سال آیا تو کوفہ کے اشراف میں سے ایک شخص نے حج کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کے بارے میں دریافت فرمایا کہ تم نے انہیں کس حال میں چھوڑا؟ اس نے عرض کیا: میں نے انہیں اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر کی حالت ابتر اور سامانِ زندگی نہایت مختصر تھا، تب آپ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تمہارے پاس اہل یمن کے امدادی دستوں کے ساتھ اویس بن عامر آئیں گے... (وہی الفاظ دہرائے)، چنانچہ جب وہ شخص (حج سے) واپس پہنچا تو سیدنا اویس کے پاس آیا اور کہا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، اویس نے فرمایا: تم ابھی ایک نیک سفر سے ہو کر آئے ہو، تم میرے لیے دعا کرو، اس نے پھر اصرار کیا تو اویس نے پوچھا: کیا تم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، تب اویس نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی، راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں کو ان کی عظمت کا علم ہو گیا تو وہ وہاں سے (گمنامی کی خاطر) کہیں اور نکل گئے، اسیر کہتے ہیں: میں نے انہیں ایک چادر (برد) پہنائی تھی، جب بھی کوئی شخص انہیں وہ چادر پہنے دیکھتا تو (حیرت سے) کہتا: اویس کے پاس یہ قیمتی چادر کہاں سے آئی؟
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5824]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،هشام: هو ابن أبي عبد الله الدَّستُوائي. وأخرجه مسلم (2542) (225) من طرق عن معاذ بن هشام، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.» [ترقيم الرساله 5824] [ترقيم الشركة 5770] [ترقيم العلميه 5719]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5825
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا الحُسين بن الفضل البَجَلي ومحمد بن غالب الضَّبِّي، قالا: حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سعيدٍ الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أُسَير بن جابر، قال: لما أقبل أهلُ اليمن جعل عمرُ يستقري الرِّفاقَ، فيقول: هل فيكم أحدٌ من قَرَن؟ حتى أتى على قَرَن، فقال: من أنتم؟ قالوا: قَرَنٌ، فرَفَع عمرُ بزمام - أو زمامَ - أُويسٍ فناولَه عمرُ، فعرفَه عمرُ بالنَّعْت، فقال له عمرُ: ما اسمُك؟ قال: أنا أُويسٌ، قال: هل كانت لك والدةٌ؟ قال: نعم، قال: هل بك من البَيَاض شيءٌ؟ قال: نعم، دعوتُ الله فأذهبَه عنّي إِلَّا موضعَ الدرهمِ من سُرَّتي، لأذكُرَ به ربّي، فقال له عمر: استغفِرْ لي، قال: أنت أحقُّ أن تستغفرَ لي، أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، فقال عمر: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ خير التابعينَ رجلٌ يُقال له: أُويسٌ القَرَنيُّ، وله والدةٌ، وكان به بياضٌ فدعا ربَّه فأذهبَه عنه إِلَّا موضعَ الدرهم في سُرّته"، قال: فاستغفَرَ له، قال: ثم دخل في غُمارِ الناسِ، فلم يُدرَ أين وَقَعَ. قال: ثم قَدِمَ الكوفة، فكنا نجتمعُ في حَلْقَةٍ فنذكرُ الله، وكان يجلسُ معنا، فكان إذ ذَكَّرهم وَقَعَ حديثُه من قلوبنا مَوقعًا لا يقعُ حديثُ غيرِه، ففقدتُه يومًا، فقلت لجليسٍ لنا: ما فَعَل الرجلُ الذي كان يَقعُد إلينا؟ لعلّه اشتكى، فقال رجلٌ: مَن هو؟ فقلتُ: مَن هو؟! قال: ذاك أُويسٌ القَرَني، فدُلِلتُ على منزله، فأتيته، فقلتُ: يرحمُك اللهُ، أين كنتَ؟ ولِمَ تتركُنا؟ فقال: لم يكن لي رداءٌ، فهو الذي مَنعَني من إتيانِكُم، قال: فألقَيتُ إليه رِدائي، فقَذَفَه إليَّ، قال: فتجانبتُه (1) ساعةً، ثم قال: لو أني أخذتُ رداءَك هذا فلبستُه فرآه عليَّ قومي قالوا انظروا إلى هذا المُرائي، لم يَزَل في الرجُل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءَه، فلم أزَلْ به حتى أخذَه، فقلت: انطَلِقْ حتى أسمعَ ما يقولون، فلبسَه فخرَجْنا، فمرّ بمجلسِ قومِه، فقالوا: انظُروا إلى هذا المرائي، لم يَزَل بالرجل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءه، فأقبلتُ عليهم، فقلتُ: ألا تستحْيُون لمَ تُؤذُونه؟! والله لقد عَرضتُه عليه فأبى أن يَقبَلَه. قال: فوَفَدَتْ وُفُودٌ من قبائل العرب إلى عمر، فوَفَدَ فيهم سيِّدُ قومِه، فقال لهم عمر بن الخطاب: أفيكم أحدٌ من قَرَن؟ فقال له سيِّدُهم: نعم، أنا، فقال له: هل تعرف رجلًا من أهل قَرَن يقال له: أويسٌ، من أمره كذا ومن أمره كذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين، ما تذكُر من شأن ذاك؟ ومَن ذاك؟ فقال له عمر: هَبِلَتْك أمُّك، أدرِكْه! مرتين أو ثلاثًا، ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا:"إنَّ رجلًا يقال له: أويسٌ، مِن قَرَنٍ، من أمرِه كذا ومن أمرِه كذا". فلما قَدِمَ الرجلُ لم يبدأْ بأحدٍ قبلَه، فدخل عليه، فقال: استغفِرْ لي، فقال: ما بَدَا لك؟ قال: إنَّ عمر قال لي: كذا وكذا، قال: ما أنا بمستغفرٍ لك حتى تجعلَ لي ثلاثًا، قال: وما هُنَّ؟ قال: لا تُؤذيني فيما بَقِي، ولا تُخبِرُ بما قال لك عمرُ أحدًا من الناس، ونَسِيَ الثالثةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5720 - على شرط مسلم
اسیر بن جابر سے روایت ہے کہ جب اہل یمن آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے قافلوں میں (اویس قرنی کو) تلاش کرنے لگے اور پوچھتے: کیا تم میں قبیلہ قرن کا کوئی شخص ہے؟ یہاں تک کہ آپ کا گزر قبیلہ قرن کے لوگوں پر ہوا، آپ نے پوچھا: تم کون ہو؟ انہوں نے کہا: ہم قرن سے ہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اویس کی سواری کی لگام تھامی اور آپ نے انہیں ان کے اوصاف سے پہچان لیا، آپ نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں اویس ہوں، آپ نے پوچھا: کیا تمہاری والدہ حیات ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے جسم پر کہیں سفیدی (برص کا نشان) ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے اللہ سے دعا کی تھی تو اس نے میری ناف کے پاس ایک درہم کے برابر جگہ کے سوا باقی سب ختم کر دیا تاکہ میں اس کے ذریعے اپنے رب کو یاد رکھوں، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، انہوں نے عرض کیا: آپ مجھ سے زیادہ اس بات کے حقدار ہیں کہ میرے لیے دعا کریں کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: یقیناً بہترین تابعی ایک شخص ہے جسے اویس قرنی کہا جاتا ہے، اس کی والدہ ہے اور اس کے جسم پر سفیدی تھی تو اس نے اپنے رب سے دعا کی اور اللہ نے اس کی ناف کے پاس ایک درہم کے برابر جگہ کے علاوہ باقی سب ختم کر دیا، راوی کہتے ہیں: چنانچہ اویس نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، پھر وہ عام لوگوں کے ہجوم میں شامل ہو گئے اور کسی کو پتا نہ چلا کہ وہ کہاں گئے، اسیر کہتے ہیں: پھر وہ کوفہ آئے، ہم ذکرِ الٰہی کے ایک حلقے میں جمع ہوتے تھے اور وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے، جب وہ ہمیں نصیحت کرتے تو ان کی گفتگو ہمارے دلوں پر اس طرح اثر کرتی کہ کسی اور کی گفتگو کا وہ مقام نہ ہوتا، پھر ایک دن وہ نہ آئے تو میں نے اپنے ایک ساتھی سے پوچھا: وہ شخص جو ہمارے پاس بیٹھتا تھا اس کا کیا ہوا؟ شاید وہ بیمار ہو گیا ہے، ایک آدمی نے پوچھا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: وہ کون ہے (تم نہیں جانتے؟) اس نے کہا: وہ اویس قرنی ہیں، چنانچہ مجھے ان کے گھر کا پتا بتایا گیا، میں ان کے پاس آیا اور کہا: اللہ تم پر رحم کرے، تم کہاں تھے اور ہمیں کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے جواب دیا: میرے پاس پہننے کے لیے چادر نہیں تھی، اسی وجہ سے میں تمہارے پاس نہ آ سکا، اسیر کہتے ہیں: میں نے اپنی چادر ان کی طرف بڑھائی تو انہوں نے وہ میری طرف واپس پھینک دی، میں تھوڑی دیر ایک طرف رہا پھر انہوں نے کہا: اگر میں تمہاری یہ چادر لے کر پہن لوں اور میری قوم کے لوگ مجھے اسے پہنے ہوئے دیکھ لیں تو وہ کہیں گے کہ دیکھو اس ریاکار کو، اس نے اس شخص کو اپنی باتوں میں الجھایا اور اس سے اس کی چادر ہتھیا لی، اسیر کہتے ہیں: میں مسلسل اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے وہ چادر لے لی، میں نے کہا: چلو میرے ساتھ تاکہ میں سنوں کہ وہ کیا کہتے ہیں، انہوں نے وہ چادر پہنی اور ہم باہر نکلے، جب ان کی قوم کی مجلس کے پاس سے گزرے تو لوگ کہنے لگے: دیکھو اس ریاکار کو، اس نے اس شخص کو دھوکا دے کر اس کی چادر لے لی، میں ان کی طرف بڑھا اور کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی؟ تم اسے کیوں تکلیف دیتے ہو؟ اللہ کی قسم میں نے خود یہ چادر انہیں پیش کی تھی مگر انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا تھا، راوی کہتے ہیں: پھر عرب قبائل کے وفود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جن میں ان کی قوم کا سردار بھی شامل تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تم میں قبیلہ قرن کا کوئی شخص ہے؟ ان کے سردار نے کہا: جی ہاں، میں ہوں، آپ نے پوچھا: کیا تم قرن کے ایک شخص اویس کو جانتے ہو جس کا حال ایسا اور ایسا ہے؟ اس نے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ اس کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں؟ وہ تو ایک معمولی شخص ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں تجھے روئے! (یعنی افسوس ہے تم پر) اسے تلاش کرو! آپ نے یہ بات دو یا تین بار کہی، پھر فرمایا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ہے کہ: قرن کا ایک شخص ہے جسے اویس کہا جاتا ہے، اس کی شان ایسی اور ایسی ہے، چنانچہ جب وہ سردار (کوفہ) واپس آیا تو اس نے کسی اور سے ملنے سے پہلے اویس سے ملاقات کی اور ان سے کہا: میرے لیے مغفرت کی دعا کیجیے، انہوں نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا (اچانک یہ طلب کیسے پیدا ہوئی)؟ اس نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے تمہارے بارے میں یہ اور یہ باتیں کہی ہیں، اویس نے کہا: میں تمہارے لیے اس وقت تک دعا نہیں کروں گا جب تک تم مجھ سے تین وعدے نہ کر لو، اس نے پوچھا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: پہلا یہ کہ آئندہ مجھے تکلیف نہیں دو گے، دوسرا یہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے جو کہا وہ کسی اور کو نہیں بتاؤ گے، اور وہ تیسری بات بھول گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5825]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح سعيد الجُرَيري: هو ابن إياس، وأبو نَضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة العَبْدي.» [ترقيم الرساله 5825] [ترقيم الشركة 5771] [ترقيم العلميه 5720]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح سعيد الجُرَيري: هو ابن إياس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5826
حدثنا أبو العباس أحمد بن زياد الفقيه بالدامَغَان، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن هشام، عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"يَدخُل الجنة بشفاعةِ رجلٍ من أمّتي أكثرُ من رَبيعةَ ومُضرَ" (1) . قال هشامٌ: فأخبرني حَوشَبٌ، عن الحسن: أنه أُويسٌ القَرَني. قال أبو بكر بن عيّاش: فقلتُ لرجلٍ من قومه: أويسٌ بأيِّ شيءٍ بلغَ هذا؟ قال: فضلُ الله يؤتيه من يشاء.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5721 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے ایک شخص کی سفارش (شفاعت) سے ربیعہ اور مضر (جیسے بڑے قبائل کی مجموعی تعداد) سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ ہشام کہتے ہیں کہ مجھے حوشب نے حسن بصری کے حوالے سے بتایا کہ وہ شخص سیدنا اویس قرنی ہیں۔ ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں کہ میں نے ان کی قوم کے ایک شخص سے پوچھا کہ اویس اس بلند مقام تک کس عمل کی وجہ سے پہنچے؟ تو اس نے جواب دیا کہ یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5826]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإرساله؛ الحسن هو ابن أبي الحسن البصري، وهشام: هو ابن حسان القُردوسي، ومحمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس الرازي.» [ترقيم الرساله 5826] [ترقيم الشركة 5772] [ترقيم العلميه 5721]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں