المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
565. ذِكْرُ لِقَاءِ أُوَيْسٍ الْقَرَنِيِّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی اویس قرنی سے ملاقات اور نبی ﷺ کی طرف سے ان کی پہچان کا بیان — حاکم کہتے ہیں: اس روایت کی صحت امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ تک ثابت ہے
حدیث نمبر: 5823
أخبرني أحمد بن كامل القاضي ببغداد، حدثنا عبد الله بن رَوح المدائني، حدثني عُبيد الله بن محمد العَيْشي، حدثني إسماعيل بن عمرو البَجَلي، عن حِبّان بن علي العَنَزِي، عن سعد بن طَرِيف، عن الأصبَغ بن نُباتة، قال: شهدتُ عليًّا يومَ صِفّين، وهو يقول: من يُبايعُني على الموت - أو قال: على القَتل - فبايعَه تسعٌ وتسعون، قال: فقال: أين التَّمّامُ؟ أين الذي وُعِدتُ به؟ قال: فجاء رجلٌ عليه أطمارُ صُوفٍ مَحلوقُ الرأس، فبايعَه على الموت والقَتْل، قال: فقيل: هذا أُوَيسٌ القَرَني، فما زال يحاربُ بين يدَيه حتى قُتِل ﵁ (2) . قال الحاكم: وقد صحتِ الروايةُ بذلك عن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب ﵁ عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5718 - سنده ضعيف
اصبع بن نباتہ فرماتے ہیں: میں جنگ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ کہہ رہے تھے: کون کون شخص موت پر میری بیعت کرے گا؟ (راوی کو شک ہے کہ یہاں پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے موت کا لفظ بولا یا قتال کا)۔ 99 آدمیوں نے ان کی بیعت کی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمام کہاں ہے؟ وہ شخص کہاں ہے جس کے بارے میں مجھ سے وعدہ کیا گیا تھا، اس کے بعد منڈے ہوئے سر والا، بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس ایک آدمی ان کے پاس آیا، اس نے موت اور قتل پر ان کی بیعت کی۔ راوی کہتے ہیں۔ وہ سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ تھے۔ اس دن سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ مسلسل جنگ کرتے رہے حتی کہ شہید ہو گئے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس بارے میں امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح احادیث موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5823]
حدیث نمبر: 5824
أخبرَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن زُرَارة بن أوفَى، عن أُسَير بن جابر، قال: كان أمير المؤمنين عمر بن الخطاب إذا أتت عليه أمدادُ اليمن سألَهم: أفيكُم أُويسُ بن عامر؟ حتى أتى عليه أويسٌ، فقال: أنت أويسُ بن عامر، قال نعم، قال: مِن مراد ثم قَرَنٍ؟ قال: نعم، قال: كان بك بَرَضٌ فَبَرَأتَ منه إلَّا موضعَ درهم، قال: نعم، قال: ألك والدةٌ؟ قال: نعم، فقال عمر: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ اليمَن، من مُراد ثم من فَرَن، كان به بَرَص فبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأَبَرّه، فإن استطعتَ أن يَستغفرَ لك فافعلْ"، قال: فاستغفرْ لي، فاستغفَرَ له، ثم قال عمر: أين تريدُ؟ قال: الكوفةَ، قال: ألا أكتُبُ لك إلى عُمّالها فيستَوصُوا بك خيرًا؟ فقال: لأَن أكونَ في غَبْراءِ الناس أحبُّ إليَّ. فلما كان في العام المُقبل حجّ رجلٌ من أشرافِهم، فسأل عمرُ عن أُويس، كيف تركْتَه؟ فقال: تركتُه رثَّ البيت، قليلَ المَتاع، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"يأتي عليكم أويسُ بن عامر مع أمدادِ أهل اليمن، من مُراد ثم من قَرَن، كان به بَرَصٌ فَبَرَأَ منه إلَّا موضعَ درهم، له والدةٌ هو بها بَرٌّ، لو أقسمَ على الله لأبَرَّه، فإن استطعتَ أن يستغِفَر لك فافعلْ"، فلما قدم الرجلُ أتى أُويسًا، فقال: استغِفرْ لي، فقال: أنتَ أحدثُ الناس بسفرٍ صالح، فاستغفِرْ لي، فقال: لقيتَ عمرَ بن الخطاب؟ فقال: نعم، قال: فاستغَفَر له، قال: ففَطِنَ له الناسُ، فانطلقَ على وجهه. قال أُسَيرٌ: فَكَسَوتُه بُردًا، فكان إذا رآه عليه إنسانٌ قال: مِن أين لأُويسٍ هذا؟ (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5719 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5719 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یمن کے امدادی مجاہدین آئے تو امیرالمومنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان سے دریافت کرنے لگے کہ کیا تمہارے درمیان کوئی اویس بن عامر نامی شخص موجود ہے؟ (یہ سلسلہ چلتا رہا حتیٰ کہ آخرکار سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی باری آ گئی) جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو ان کا سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ درج ذیل مکالمہ ہوا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: آپ اویس بن عامر ہیں؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ مراد قبیلے اور قرن سے تعلق رکھتے ہیں؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ برص کی بیماری میں مبتلا ہوئے تھے، پھر تندرست بھی ہو گئے تھے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: کیا آپ نے اپنی والدہ کو پایا؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یمن کی ایک جماعت کے ہمراہ ایک اویس بن عامر نامی شخص تمہارے پاس آئے گا، جس کا تعلق قبیلہ مراد سے ہو گا اور وہ قرن کا باشندہ ہو گا، وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو کر صحت یاب ہو چکا ہو گا، البتہ ایک درہم جتنا، اس کے جسم پر سفید نشان باقی ہو گا، اس کو (اپنی) والدہ کی صحبت میسر آئی ہو گی اور وہ اپنی ماں کا فرمانبردار ہو گا۔ (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کا مقام یہ ہو گا کہ) اگر وہ (کسی کام کے لئے) اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو ضرور پورا کرے گا۔ اگر ہو سکے تو تم اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا، (پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے) مغفرت کی دعا مانگنے کی درخواست کی، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے مغفرت کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ انہوں نے جواباً کہا: کوفہ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں وہاں کے گورنر کے نام آپ کے لئے ایک خط نہ لکھ دوں، جس کی وجہ سے وہ آپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رہنے دیجئے، کیونکہ مجھے غبار آلود اور مٹی میں اٹے ہوئے لوگوں میں رہنا اچھا لگتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) اگلے سال سرکاری عمائدین میں سے ایک صاحب حج کرنے کے لئے آیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے بتایا کہ میں ان کو اس حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ ایک چھوٹے سے شکستہ گھر میں رہتے ہیں۔ اس کے پاس سامان بہت کم ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے پاس یمنی لوگوں کی کسی جماعت کے ہمراہ اویس بن عامر رضی اللہ عنہ آئے گا، اس کا تعلق قبیلہ مراد سے ہو گا اور وہ قرن کا رہنے والا ہو گا۔ وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو کر صحت یاب ہو چکا ہو گا، جبکہ ایک درہم جتنی جگہ پر نشان باقی ہو گا، وہ اپنی والدہ کا فرمانبرار اور خدمت گزار ہو گا، (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے مقام کا حامل ہو گا کہ) اگر اللہ تعالیٰ کا نام لے کر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دے گا۔ اگر ہو سکے تو اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروا لینا، (راوی کہتے ہیں) وہ صاحب (حج سے واپس لوٹا تو) کوفہ میں سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور ان سے دعائے مغفرت کرنے کی درخواست کی، سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ تو خود ابھی ابھی ایک مبارک سفر سے تشریف لائے ہیں، آپ میرے لئے دعا کریں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: کیا تمہاری ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوئی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ تب کوفہ کے لوگوں کو آپ کے مقام اور مرتبہ کا پتا چلا، تو سیدنا اویس قرنی رضی اللہ عنہ (کوفہ چھوڑ کر کہیں اور) چلے گئے۔ سیدنا اسیر فرماتے ہیں: میں نے ان کی خدمت میں ایک چادر پیش کی تھی (وہ اتنی عمدہ تھی کہ) جو بھی وہ چادر سیدنا اویس کے پاس دیکھتا تو وہ یہی دریافت کرتا کہ اویس کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی؟ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5824]
حدیث نمبر: 5825
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا الحُسين بن الفضل البَجَلي ومحمد بن غالب الضَّبِّي، قالا: حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سعيدٍ الجُرَيري، عن أبي نَضْرة، عن أُسَير بن جابر، قال: لما أقبل أهلُ اليمن جعل عمرُ يستقري الرِّفاقَ، فيقول: هل فيكم أحدٌ من قَرَن؟ حتى أتى على قَرَن، فقال: من أنتم؟ قالوا: قَرَنٌ، فرَفَع عمرُ بزمام - أو زمامَ - أُويسٍ فناولَه عمرُ، فعرفَه عمرُ بالنَّعْت، فقال له عمرُ: ما اسمُك؟ قال: أنا أُويسٌ، قال: هل كانت لك والدةٌ؟ قال: نعم، قال: هل بك من البَيَاض شيءٌ؟ قال: نعم، دعوتُ الله فأذهبَه عنّي إِلَّا موضعَ الدرهمِ من سُرَّتي، لأذكُرَ به ربّي، فقال له عمر: استغفِرْ لي، قال: أنت أحقُّ أن تستغفرَ لي، أنت صاحبُ رسول الله ﷺ، فقال عمر: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إنَّ خير التابعينَ رجلٌ يُقال له: أُويسٌ القَرَنيُّ، وله والدةٌ، وكان به بياضٌ فدعا ربَّه فأذهبَه عنه إِلَّا موضعَ الدرهم في سُرّته"، قال: فاستغفَرَ له، قال: ثم دخل في غُمارِ الناسِ، فلم يُدرَ أين وَقَعَ. قال: ثم قَدِمَ الكوفة، فكنا نجتمعُ في حَلْقَةٍ فنذكرُ الله، وكان يجلسُ معنا، فكان إذ ذَكَّرهم وَقَعَ حديثُه من قلوبنا مَوقعًا لا يقعُ حديثُ غيرِه، ففقدتُه يومًا، فقلت لجليسٍ لنا: ما فَعَل الرجلُ الذي كان يَقعُد إلينا؟ لعلّه اشتكى، فقال رجلٌ: مَن هو؟ فقلتُ: مَن هو؟! قال: ذاك أُويسٌ القَرَني، فدُلِلتُ على منزله، فأتيته، فقلتُ: يرحمُك اللهُ، أين كنتَ؟ ولِمَ تتركُنا؟ فقال: لم يكن لي رداءٌ، فهو الذي مَنعَني من إتيانِكُم، قال: فألقَيتُ إليه رِدائي، فقَذَفَه إليَّ، قال: فتجانبتُه (1) ساعةً، ثم قال: لو أني أخذتُ رداءَك هذا فلبستُه فرآه عليَّ قومي قالوا انظروا إلى هذا المُرائي، لم يَزَل في الرجُل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءَه، فلم أزَلْ به حتى أخذَه، فقلت: انطَلِقْ حتى أسمعَ ما يقولون، فلبسَه فخرَجْنا، فمرّ بمجلسِ قومِه، فقالوا: انظُروا إلى هذا المرائي، لم يَزَل بالرجل حتى خَدَعَه وأخذَ رِداءه، فأقبلتُ عليهم، فقلتُ: ألا تستحْيُون لمَ تُؤذُونه؟! والله لقد عَرضتُه عليه فأبى أن يَقبَلَه. قال: فوَفَدَتْ وُفُودٌ من قبائل العرب إلى عمر، فوَفَدَ فيهم سيِّدُ قومِه، فقال لهم عمر بن الخطاب: أفيكم أحدٌ من قَرَن؟ فقال له سيِّدُهم: نعم، أنا، فقال له: هل تعرف رجلًا من أهل قَرَن يقال له: أويسٌ، من أمره كذا ومن أمره كذا؟ فقال: يا أمير المؤمنين، ما تذكُر من شأن ذاك؟ ومَن ذاك؟ فقال له عمر: هَبِلَتْك أمُّك، أدرِكْه! مرتين أو ثلاثًا، ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ قال لنا:"إنَّ رجلًا يقال له: أويسٌ، مِن قَرَنٍ، من أمرِه كذا ومن أمرِه كذا". فلما قَدِمَ الرجلُ لم يبدأْ بأحدٍ قبلَه، فدخل عليه، فقال: استغفِرْ لي، فقال: ما بَدَا لك؟ قال: إنَّ عمر قال لي: كذا وكذا، قال: ما أنا بمستغفرٍ لك حتى تجعلَ لي ثلاثًا، قال: وما هُنَّ؟ قال: لا تُؤذيني فيما بَقِي، ولا تُخبِرُ بما قال لك عمرُ أحدًا من الناس، ونَسِيَ الثالثةَ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5720 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5720 - على شرط مسلم
سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یمن کے لوگ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان جماعتوں کی مہمان نوازی کی۔ (جب بھی کوئی جماعت آپ کے پاس آتی تو) آپ ان سے پوچھتے: کیا تمہارے اندر قرن کا رہنے والا کوئی شخص موجود ہے؟ پھر قرن کے رہنے والے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے پوچھا: تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم قرن کے رہنے والے ہیں۔ پھر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے جانور کی لگام ان کی جانب بڑھائی گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ لگام تھام لی اور ان کے اوصاف کی بناء پر ان کو پہچان لیا۔ اور ان کے درمیان درج ذیل مکالمہ ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: آپ کا نام کیا ہے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: میرا نام ” اویس “ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا تم نے اپنی والدہ کی صحبت پائی؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: کیا آپ کے جسم پر کوئی سفید نشان موجود ہے؟ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: جی ہاں۔ میں نے دعا مانگی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دے دی، مگر ناف کے قریب ایک درہم جتنی جگہ پر سفید نشان اب بھی موجود ہے۔ یہ اس لئے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کو یاد رکھوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: آپ میرے لئے دعائے مغفرت فرمائیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ: آپ کو چاہیے کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعا کریں، کیونکہ آپ تو خود صحابی رسول ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تابعین میں سب سے افضل ایک اویس نامی شخص ہو گا، وہ قرن کا رہنے والا ہو گا۔ وہ اپنی والدہ کو پائے گا، (اور اس کا فرمانبردار ہو گا) وہ برص کی بیماری میں مبتلا ہو گا، پھر وہ اپنے رب کی بارگاہ میں دعا مانگے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو شفا دے گا مگر اس کی ناف پر ایک سفید نشان باقی رہ جائے گا۔ پھر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے دعائے مغفرت فرمائی۔ اس کے بعد وہ لوگوں کی جماعت میں شامل ہو گئے، پھر یہ پتا نہ چلا کہ انہوں نے کہاں پر قیام کیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ کوفہ میں آ گئے، ہم لوگ ایک حلقہ ذکر میں شریک ہوا کرتے تھے وہاں پر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ بھی آتے تھے، جب آپ لوگوں کو وعظ کہتے تو آپ کی بات دل میں ایسے اثر کرتی کہ کسی دوسرے کی بات اس طرح اثر نہیں کرتی تھی۔ ایک دن سیدنا اویس رضی اللہ عنہ اس حلقہ ذکر میں نہ آئے، میں نے اپنے ساتھی سے ان کے بارے میں پوچھا: اس آدمی کو کیا ہوا، جو ہمارے ساتھ بیٹھا کرتا تھا، وہ کہیں بیمار تو نہیں ہو گیا؟ اس آدمی نے پوچھا: وہ کون ہے؟ میں نے کہا: وہ اویس قرنی ہے۔ میں نے ان کے گھر کا پتا معلوم کیا اور ان کے گھر آ گیا، میں نے ان سے کہا: اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، آپ کہاں تھے؟ اور آپ نے ہمیں کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے کہا: میرے پاس اوڑھنے کے لئے کوئی چادر نہ تھی، بس اسی وجہ سے میں تمہارے حلقہ میں نہیں آ سکا۔ میں نے اپنی چادر ان کو پیش کی، لیکن انہوں نے وہ چادر مجھے لوٹا دی، میں کچھ دیر تو کھڑا سوچتا رہا، پھر انہوں نے کہا: اگر میں نے تمہاری چادر قبول کر لی اور اس کو اوڑھ کر باہر نکلا اور لوگوں نے اس کو دیکھ لیا تو لوگ کہیں گے: اس ریاکار کو دیکھو یہ ایک آدمی کے پیچھے پڑا رہا حتی کہ اس کو دھوکہ دے کر یہ چادر اس سے ہتھیا لی، لیکن میں بھی اصرار کرتا رہا، بالآخر وہ میری چادر لینے پر راضی ہو گئے، میں نے ان سے کہا: آپ چلئے، میں دیکھتا ہوں کون شخص آپ کو باتیں کرتا ہے۔ انہوں نے چادر اوڑھ لی اور ہم لوگ وہاں سے نکل آئے، انہی کی قوم کی ایک مجلس کے پاس سے ہمارا گزر ہوا تو انہوں نے کہا: اس ریاکار کو دیکھو، یہ ایک آدمی کے پیچھے پڑا رہا، حتیٰ کہ دھوکے سے اس کی چادر حاصل کر لی ہے۔ میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: تمہیں حیا نہیں آتی، تم اس شخص کو کیوں ستا رہے ہو؟ خدا کی قسم! میں نے یہ چادر خود اپنے طور پر ان کو پیش کی ہے، پھر بھی انہوں نے انکار کر دیا تھا، میں نے زبردستی ان کو اوڑھائی ہے۔ راوی کہتے ہیں: عرب کے قبائل کے وفود (میں سے ایک وفد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں آیا، ایک وفد میں ان کی قوم کا سردار بھی موجود تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: کیا تمہارے اندر کوئی شخص قرن کا رہنے والا بھی موجود ہے؟ ان کے سردار نے کہا: جی ہاں۔ میں قرن کا ہی رہنے والا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو مخصوص نشانیاں بتا کر پوچھا: کیا آپ ان نشانیوں کے حامل کسی اویس نامی شخص کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا: اے امیرالمومنین! آپ کس شخص کی بات کر رہے ہیں؟ اور یہ شخص کون ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری ماں تجھے روئے دو تین مرتبہ ان سے ملاقات کر لو، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہمیں مخصوص نشانیاں بتا کر) فرمایا: قرن کا رہنے والا ایک اویس نامی شخص ہے جو کہ فلاں فلاں صفات کا حامل ہے۔ جب وہ شخص واپس گیا تو سب سے پہلے سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ میرے لئے بخشش کی دعا کر دیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں کیسے پتا چلا (مجھ سے دعا کروانے میں کوئی فضیلت ہے) اس نے بتا دیا کہ مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں یہ یہ باتیں بتائی ہیں۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس وقت تک تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا جب تک تم مجھے تین چیزوں کی گارنٹی نہ دو۔ اس نے پوچھا: وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: (1) آج کے بعد تم مجھے تکلیف نہیں دو گے۔ (2) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ تمہیں میرے بارے میں بتایا ہے وہ تم کسی سے نہیں کہو گے۔ (3) تیسری بات راوی کو بھول گئی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5825]