المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
575. طريق الغسل لدفع ضرر العين
نظرِ بد کے ضرر کو دور کرنے کے لیے غسل کا طریقہ
حدیث نمبر: 5848
كما حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بنُ وهب، أخبرني يونُس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عامرَ بنَ ربيعة مرّ على سهل بن حُنيف الأنصاري وهو يغتسل في الخَرّار، فقال: واللهِ ما رأيتُ كاليومِ قطُّ ولا جِلدَ مُخبّأةٍ، فلُبِطَ سهلٌ، فأُتي رسولُ الله ﷺ، فقيل له: يا رسول الله، هل لك في سهل بن حُنيف؟ فقال رسول الله ﷺ:"هل تَتَّهمون به من أَحدٍ؟" فقالوا: نعم، مرّ به عامرُ بن ربيعةَ، فتغيَّظَ عليه وقال:"ألا بَرَّكت؟! اعْتَسِلْ له"، فاغتسلَ له عامرٌ، فراحَ سهلٌ مع الرَّكْبِ (2) . قال الحاكم: فأما الجَرّاح بن المنهال فإنه أبو العَطُوف الجَزَري، وليس من شرط الصحيح، وإنما أخرجتُ هذا الحديثَ لشرح الغُسل كيف هُو، وهو غريبٌ جدًّا مسنَدًا عن رسول الله ﷺ (1) . وقد أتى عبدُ الله بن وهب على أثَر حديثه هذا بإسنادٍ آخر بزيادات فيه:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہی حدیث مختصراً بیان کی ہے۔ (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں: عامر بن ربیعہ کا سیدنا سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، اس وقت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ایک نہر میں نہا رہے تھے، ان کو دیکھ کر کہا: خدا کی قسم! میں نے آج تک اس جیسا خوبصورت نوجوان نہیں دیکھا، (ان کے یہ بات کہتے ہی) سیدنا سہل زمین پر گر گئے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نگاہ کرم کیجئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں کسی آدمی پر شک ہے؟ (جس نے ان کو نظر لگائی ہے) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے عامر بن ربیعہ کا گزر ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: تو نے اس کے لئے برکت کی دعا کیوں نہ کی؟ تو اس کے لئے غسل کر۔ چنانچہ عامر بن ربیعہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے لئے غسل کیا۔ (اس غسل کی برکت سے) سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ تندرست ہو کر قافلہ کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: جراح بن منہال ” ابوعطوف جزری “ ہیں۔ یہ بخاری شریف کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ میں نے یہ حدیث صرف اس لئے نقل کر دی ہے کہ اس میں غسل کی مفصل کیفیت کا ذکر موجود ہے۔ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسند ہونے کے حوالے سے بہت غریب ہے۔ سیدنا عبداللہ بن وہب نے ایک دوسری اسناد کے ہمراہ اس حدیث جیسی ایک اور حدیث بیان کی ہے، اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5848]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5848 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسلٌ كسابقه، فإنَّ أبا أُمامة ولد في حياة النبي ﷺ وهو الذي سمّاه ودعا له وبرَّك عليه، فيُعدُّ في كبار التابعين كما قال ابن عبد البر في ترجمته من "الاستيعاب". يونس: هو ابن يزيد الأَيلي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور اس سند کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ پچھلی سند کی طرح "مرسل" ہے۔ کیونکہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے، آپ ﷺ ہی نے ان کا نام رکھا، ان کے لیے دعا کی اور انہیں برکت کی دعا (تَحنیک وغیرہ) دی۔ لہٰذا انہیں کبار تابعین میں شمار کیا جاتا ہے، جیسا کہ ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" میں ان کے تعارف میں کہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یونس سے مراد ابن یزید الایلی ہیں۔
وهو في "الجامع" لعبد الله بن وهب (642 - تحقيق أبو الخير)، ومن طريقه أخرجه الطبراني في "الكبير" (5577)، والبيهقي في "الكبرى" 9/ 352.
📖 حوالہ / مصدر: یہ عبداللہ بن وہب کی "الجامع" (642 - تحقیق ابو الخیر) میں موجود ہے، اور وہیں سے طبرانی نے "المعجم الكبير" (5577) اور بیہقی نے "السنن الكبرى" (9/ 352) میں روایت کیا ہے۔
وأخرجه مالك في "الموطأ" 2/ 939، ومن طريقه ابن وهب في "الجامع" (642)، والنسائي (7572)، والطحاوي في "شرح مشكل الآثار" (2895)، والطبراني في "الكبير" (5575)، والبيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 163، وأبو محمد البغوي في "شرح السنة" (3245)، وأخرجه ابن ماجه (3509)، والنسائي (9965)، والطحاوي (2894)، والخرائطي في "مكارم الأخلاق" (1106)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (936)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 351، وفي "الآداب" (708) من طريق سفيان بن عيينة، والطحاوي (2898) من طريق عُقيل الأيلي، والطبراني في "الكبير" (5576) من طريق معاوية بن يحيى الصَّدَفي، وفي "مسند الشاميين" (3002) من طريق شعيب بن أبي حمزة، وأبو عبيد في "غريب الحديث" 2/ 112 من طريق ابن أبي ذئب، وأخرجه معمر بن راشد في "جامعه" (19766)، ومن طريقه الطبراني في "الكبير" (5574)، والبيهقي في "شعب الإيمان" (10710)، كلهم (مالك وابن عيينة وعُقيل وشعيب ومعمر وابن أبي ذئب ومعاوية الصدفي) عن الزهري، عن أبي أمامة بن سهل مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مالک نے "الموطأ" (2/ 939) میں، اور ان کے طریق سے ابن وہب نے "الجامع" (642)، نسائی (7572)، طحاوی نے "شرح مشكل الآثار" (2895)، طبرانی نے "المعجم الكبير" (5575)، بیہقی نے "دلائل النبوة" (6/ 163) اور ابو محمد البغوی نے "شرح السنة" (3245) میں؛ اور اسے ابن ماجہ (3509)، نسائی (9965)، طحاوی (2894)، خرائطی نے "مکارم الأخلاق" (1106)، ابو نعیم نے "معرفة الصحابة" (936)، بیہقی نے "السنن الكبرى" (9/ 351) اور "الآداب" (708) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے؛ طحاوی (2898) نے عقیل الایلی کے طریق سے؛ طبرانی نے "المعجم الكبير" (5576) میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی کے طریق سے اور "مسند الشاميين" (3002) میں شعیب بن ابی حمزہ کے طریق سے؛ ابو عبید نے "غريب الحديث" (2/ 112) میں ابن ابی ذئب کے طریق سے؛ اور معمر بن راشد نے "الجامع" (19766) میں اور ان کے طریق سے طبرانی نے "المعجم الكبير" (5574) اور بیہقی نے "شعب الإيمان" (10710) میں روایت کیا ہے۔ یہ سب (مالک، ابن عیینہ، عقیل، شعیب، معمر، ابن ابی ذئب اور معاویہ الصدفی) زہری سے اور وہ ابو امامہ بن سہل سے "مرسل" روایت کرتے ہیں۔
وقد وصله بعضهم كما تقدم في الطريق التي قبل هذه، والذين أرسلوه أجلُّ وأحفظ من غيرهم، والله تعالى أعلم، وعلى كلٍّ فمثل هذا المرسل حجّةٌ.
📌 اہم نکتہ: بعض راویوں نے اسے "موصول" بھی کیا ہے (یعنی سہل بن حنیف کا واسطہ ذکر کیا ہے) جیسا کہ پچھلی سند میں گزرا، لیکن جنہوں نے اسے "مرسل" روایت کیا ہے وہ دوسروں سے زیادہ جلیل القدر اور بڑے حافظ ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہرحال، اس جیسا مرسل بھی "حجت" (دلیل) ہوتا ہے۔
(1) قد ذكرنا في الطريق السابقة أنَّ شرح الغُسل من قول الزهري، وإنما أدرجه الجراح بن المنهال في الخبر، وهو ضعيف جدًّا متروك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہم پچھلی سند میں ذکر کر چکے ہیں کہ غسل کے طریقے کی وضاحت زہری کا قول ہے، جسے جراح بن المنہال نے حدیث میں "ادرج" (شامل) کر دیا تھا، اور جراح سخت ضعیف اور "متروک" راوی ہیں۔