🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

575. طَرِيقُ الْغَسْلِ لِدَفْعِ ضَرَرِ الْعَيْنِ
نظرِ بد کے ضرر کو دور کرنے کے لیے غسل کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5846
حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيدٍ (3) الحافظُ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا أبو اليَمَان، أخبرني شعيبٌ، عن الزُّهْري، أخبرني أبو أُمامة بن سهْل بن حُنيف، وكان من كُبَراء الأنصار، وآباؤهم الذين شهدوا بدرًا مع رسول الله ﷺ (1) . صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5739 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں: سیدنا سہل بن حنیف، ان کبار صحابہ کرام میں سے تھے، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ بدر میں شرکت کی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5846]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5847
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزِي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحَاظي، حدثنا الجَرّاح بن المِنهال، عن الزُّهري، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عامرَ بن رَبيعة - رجلٌ من بني عَدِيّ بن كعب - رأى سهلَ بن حُنيف مع رسولِ الله ﷺ يغتسل بالخَرّار، فقال: واللهِ ما رأيتُ كاليومِ قطُّ ولا جِلدَ مُخبّأة، فلُبِطَ سهلٌ وسَقَط، فقيل: يا رسول الله، هل لك في سهْل بن حُنيف؟ فدعا رسولُ الله ﷺ عامرَ بنَ ربيعة، فتغيَّظ عليه، وقال:"لِمَ يقتُلُ أحدُكم أخاهُ - أو صاحبَه - ألا يدعو بالبَرَكة؟! اعْتَسِل له" فاغتَسل له عامرٌ، فراحَ سهلٌ وليس به بأسٌ. والغَسلُ أن يُؤتى بقَدَح فيه ماءُ؛ فيُدخِلُ يدَيه في القدح جميعًا، ويُهرِيقُ على وجهه من القَدَح، ثم يغسلُ فيه يدَه اليُمنى، ويَغسِل مِن فِيه في القَدَح، ويُدخِل يدَه فيَغسِل ظَهْرَه، ثم يأخُذ بيده اليَسار فيفعلُ مثلَ ذلك، ثم يَغسِل صدْرَه في القَدَح، ثم يَغسِل ركبتَه اليُمنى في القَدَح وأطرافَ أصابعِه، ويفعلُ ذلك بالرِّجل اليُسرى، ويُدخِلُ داخِلةَ (1) إزاره، ثم يُغطِّي القَدَح قبل أن يضعَه على الأرض، فيَحسُو منه ويتمضمض، ويُهرِيقُ على وجهِه، ثم يَصُبُّ على رأسِه (2) ، ثم يُلقي القَدَحَ من وَرائِه (3) قد اتفق الشيخان ﵄ على إخراج هذا الحديثِ مختصرًا (1) .
ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں: بنی عدی بن کعب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص عامر بن ربیعہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مدینے میں ایک مقام پر (کسی نہر وغیرہ میں) نہاتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگے: میں نے آج تک اس جیسا خوبصورت نوجوان کبھی نہیں دیکھا، سیدنا سہل وہیں پر لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گر گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن ربیعہ کو بلا کر ان پر اظہار ناراضگی فرمایا، پھر ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا ساتھی کو قتل کیوں کرتا ہے؟ وہ اس کے لئے برکت کی دعا کیوں نہیں کرتا۔ اس کے لئے غسل کرو، عامر بن ربیعہ نے ان کے لئے غسل کیا تو سیدنا سہل بن حنیف شام کے وقت بالکل ٹھیک ہو چکے تھے۔ (نظر اتارنے کے لئے) غسل کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ٹب میں پانی لیں اور جس کی نظر لگی ہے وہ اپنے دونوں ہاتھ اس ٹب میں ڈالے اور ٹب کے اندر اپنا چہرہ دھوئے، پھر اس ٹب میں اپنا دایاں ہاتھ دھوئے، پھر اپنا منہ دھوئے، اور اپنے ہاتھ کی پشت کو دھوئے، پھر بایاں ہاتھ پانی میں ڈالے، اس کو دھوئے، پھر اپنا دایاں گھٹنا اور پاؤں کی انگلیوں کے پورے اسی ٹب میں دھوئے، اسی طرح بایاں گھٹنا اور بائیں پاؤں کی انگلیوں کے پورے دھوئے، پھر اپنا سینہ دھوئے، پھر اپنے تہبند (یا شلوار جو بھی ستر کے لئے پہن رکھا ہے اس) کی اندرونی جانب پانی میں ڈبوئے، پھر وہ ٹب زمین پر رکھنے سے پہلے اس ٹب کو ڈھانپ دے (اکثر روایت میں ہے کہ پھر وہ ٹب متاثر شخص کو تھما دے) وہ اس میں سے ایک دو گھونٹ پانی پئے اور کلی بھی کرے، پھر غسل کرنے والا وہ پانی اپنے چہرے پر متاثرہ آدمی کے چہرے پر ڈالے، پھر اس کو اپنے سر پر انڈیل لے اور وہ ٹب سر کے اوپر سے اپنی پچھلی جانب پھینک دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5847]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5848
كما حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بنُ وهب، أخبرني يونُس، عن ابن شِهاب، قال: أخبرني أبو أُمامة بن سهل بن حُنيف: أنَّ عامرَ بنَ ربيعة مرّ على سهل بن حُنيف الأنصاري وهو يغتسل في الخَرّار، فقال: واللهِ ما رأيتُ كاليومِ قطُّ ولا جِلدَ مُخبّأةٍ، فلُبِطَ سهلٌ، فأُتي رسولُ الله ﷺ، فقيل له: يا رسول الله، هل لك في سهل بن حُنيف؟ فقال رسول الله ﷺ:"هل تَتَّهمون به من أَحدٍ؟" فقالوا: نعم، مرّ به عامرُ بن ربيعةَ، فتغيَّظَ عليه وقال:"ألا بَرَّكت؟! اعْتَسِلْ له"، فاغتسلَ له عامرٌ، فراحَ سهلٌ مع الرَّكْبِ (2) . قال الحاكم: فأما الجَرّاح بن المنهال فإنه أبو العَطُوف الجَزَري، وليس من شرط الصحيح، وإنما أخرجتُ هذا الحديثَ لشرح الغُسل كيف هُو، وهو غريبٌ جدًّا مسنَدًا عن رسول الله ﷺ (1) . وقد أتى عبدُ الله بن وهب على أثَر حديثه هذا بإسنادٍ آخر بزيادات فيه:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یہی حدیث مختصراً بیان کی ہے۔ (ان کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے)۔ ابوامامہ بن سہل بن حنیف فرماتے ہیں: عامر بن ربیعہ کا سیدنا سہل بن حنیف انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزر ہوا، اس وقت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ایک نہر میں نہا رہے تھے، ان کو دیکھ کر کہا: خدا کی قسم! میں نے آج تک اس جیسا خوبصورت نوجوان نہیں دیکھا، (ان کے یہ بات کہتے ہی) سیدنا سہل زمین پر گر گئے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نگاہ کرم کیجئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں کسی آدمی پر شک ہے؟ (جس نے ان کو نظر لگائی ہے) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے عامر بن ربیعہ کا گزر ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا: تو نے اس کے لئے برکت کی دعا کیوں نہ کی؟ تو اس کے لئے غسل کر۔ چنانچہ عامر بن ربیعہ نے سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کے لئے غسل کیا۔ (اس غسل کی برکت سے) سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ تندرست ہو کر قافلہ کے ہمراہ روانہ ہو گئے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: جراح بن منہال ابوعطوف جزری ہیں۔ یہ بخاری شریف کے معیار کے راوی نہیں ہیں۔ میں نے یہ حدیث صرف اس لئے نقل کر دی ہے کہ اس میں غسل کی مفصل کیفیت کا ذکر موجود ہے۔ یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسند ہونے کے حوالے سے بہت غریب ہے۔ سیدنا عبداللہ بن وہب نے ایک دوسری اسناد کے ہمراہ اس حدیث جیسی ایک اور حدیث بیان کی ہے، اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ بھی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5848]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5849
حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا ابن وهب، أخبرني يوسف بن طَهْمانَ، عن محمد بن أبي أُمامة بن سهل بن حُنيف، أنه سمع أباه يقول: اغتسَل أبي سهلُ بن حُنيف فنزَع جُبّةً كانت عليه يومَ خيبر حين هَزم اللهُ العدوَّ، وعامر بن ربيعة يَنظُر - قال: وكان سهلٌ رجلًا أبيض حسنَ الخَلْق - فقال له عامر بن ربيعة: ما رأيتُ كاليومِ قطُّ - ونَظَر إليه فأعجبَه حُسنُه حين طَرَح جبته، فقال: - ولا جاريةً في سِتْرها بأحسنَ جسدًا من جَسَد سهل بن حُنيف، فوُعِكَ سهلٌ مكانَه، واشتَدّ وَعْكُه، فأُتي رسولُ الله ﷺ فأخبروه أنَّ سهلًا وُعِك، وأنه غيرُ رائحٍ معك، فأتاه رسولُ الله ﷺ، فأخبره بالذي كان من شأن عامر، فقال رسول الله ﷺ:"على ما يَقتُلُ أحدكم أخاهُ؟! ألا بَرَّكتَ، إنَّ العينَ حقٌّ، توضّأْ له" ثم قال رسول الله ﷺ:"إذا رأى أحدُكم شيئًا يُعجِبُه فليُبِّرك؛ فإنَّ العينَ حَقٌّ" (1) . هذه الزياداتُ في الحديثَين جميعًا ممّا لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5742 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
محمد بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد ابوامامہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) میرے والد سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگ حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو بھگا دیا، اس موقع پر سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے نہانے کے لئے اپنا جبہ اتار دیا، عامر بن ربیعہ ان کو دیکھ رہا تھا۔ سیدنا سہل بن حنیف بہت خوبصورت نوجوان تھے، عامر بن ربیعہ ان کو دیکھ کر کہنے لگا: میں نے آج تک ان جیسا حسین نوجوان نہیں دیکھا، بلکہ کسی لڑکی میں بھی میں نے ایسا حسن نہیں دیکھا۔ (ان کے یہ کہتے ہی) سیدنا سہل بن حنیف کو شدید بخار ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، یہاں پر صحابہ کرام نے ربیعہ بن عامر کے ان کو دیکھنے والی بات سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے؟ ان کو دیکھ کر برکت کی دعا کیوں نہ مانگی؟ بے شک نظر برحق ہے۔ اس کے لئے وضو کرو، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایسی چیز دیکھے جو اس کو بہت اچھی لگے، اس کو چاہیے کہ وہ برکت کی دعا مانگے، کیونکہ نظر برحق ہے۔ ٭٭ مذکورہ دونوں حدیثوں میں جو اضافہ ہے، وہ امام بخاری اور امام مسلم نے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 5849]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں