المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
588. مذمة حب المال
مال کی محبت کی مذمت
حدیث نمبر: 5880
قال ابن عمر: وحدثنا أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن المِسْوَر بن رِفاعة، عن عبد الله بن مَكْنَف. وحدثنا أفلحُ بن سعيد، عن سعيد (1) بن عبد الرحمن بن رُقَيش، عن أبي البَدّاح بن عاصم بن عَدِيّ: أَنَّ رسول الله ﷺ لما أراد الخُروجَ إلى بدر خَلّف عاصمَ بنَ عَدِيّ على قُباءٍ وأهل العاليَة، لشيءٍ بلغَه عنهم، فضَرَب له بسَهْمِه وأجرِه، فكان كمن شهدها (2) .
عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ) بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا، تو عاصم بن عدی کو قباء اور اہل عالیہ (مدینہ کا بالائی حصہ) پر اپنا نائب مقرر فرمایا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع ملی تھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مالِ غنیمت میں) ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا اور انہیں (جہاد کا) اجر بھی ملا“۔ پس ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5880]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5880 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: عبد الله، وهو خطأ، والتصويب من "مغازي الواقدي" 1/ 160، و "طبقات ابن سعد" 3/ 432.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "عبداللہ" لکھا ہے جو کہ غلطی ہے۔ درست نام "مغازي الواقدي" (1/ 160) اور "طبقات ابن سعد" (3/ 432) سے لیا گیا ہے۔
(2) الإسناد الأول ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة، فقد اتهمه أحمد بوضع الحديث، ثم هو مرسل، وثاني الإسنادين رجالُه لا بأس بهم لكنه مرسل، غير أنه وإن كان كذلك هو من رواية أبي البدَّاح بن عاصم بن عدي يحكي فيها قصة لأبيه، وهو أعلمُ به، وابنُ عمر - وهو الواقدي - متكلَّم فيه.
⚖️ درجۂ حدیث: پہلی سند ابوبکر بن ابی سبرہ کی وجہ سے سخت ضعیف (ضعیف جداً) ہے، کیونکہ امام احمد نے ان پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا ہے، پھر یہ "مرسل" بھی ہے۔ دوسری سند کے رجال میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بھی "مرسل" ہے۔ البتہ یہ ابو البداح بن عاصم بن عدی کی روایت ہے جو اپنے والد کا قصہ بیان کر رہے ہیں اور وہ ان کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔ اور ابن عمر (واقدی) پر کلام (جرح) کی گئی ہے۔
وهو في "مغازي الواقدي" 1/ 160 بإسناده الثاني.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "مغازي الواقدي" (1/ 160) میں ان کی دوسری سند کے ساتھ موجود ہے۔
وهو في "طبقات ابن سعد" 3/ 432 عن محمد بن عمر الواقدي بإسناديه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "طبقات ابن سعد" (3/ 432) میں محمد بن عمر الواقدی سے ان کی دونوں اسانید کے ساتھ موجود ہے۔
حدیث نمبر: 5880M
قال ابن عُمر: وشهد عاصم بن عدي أُحدًا والخَندق والمَشاهِدَ كلَّها مع رسولِ الله ﷺ، وكان عاصمٌ إلى القِصَر ما هو، ومات سنة خمس وأربعين في خلافة معاوية، وهو ابن خمسَ عشرةَ ومئة.
ابن عمر (الواقدی) بیان کرتے ہیں کہ: عاصم بن عدی (رضی اللہ عنہ) غزوہ احد، خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک رہے۔ عاصم پست قامت (مختصر قد) کے مالک تھے، اور ان کی وفات امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کے دوران سن 45 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر ایک سو پندرہ (115) برس تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5880M]