🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. يغتسل من أربع من الجنابة ويوم الجمعة ومن غسل الميت والحجامة
چار چیزوں سے غسل کیا جاتا ہے: جنابت، جمعہ کے دن، میت کو غسل دینے کے بعد اور حجامہ کے بعد۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا يحيى بن سُلَيم، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس قال: دَخَلَت فاطمةُ على رسول الله ﷺ وهي تبكي، فقال:"يا بُنيَّةُ، ما يُبكيكِ؟" قالت: يا أبتِ، ما لي لا أبكي وهؤلاءِ الملأُ من قريش في الحِجْر يتعاقدون باللات والعزَّى ومَنَاة الثالثة الأخرى، لو قد رأَوك لقاموا إليك فيقتلونك، وليس منهم رجل إلّا وقد عَرَفَ نصيبَه من دمك، فقال:"يا بنيةُ، ائتِني بوَضُوءٍ" فتوضأ رسولُ الله ﷺ ثم خرج إلى المسجد، فلما رأَوه قالوا: ها هو ذا، فطأطؤوا رؤوسَهم وسقطت أذقانهم تراب فحَصَبَهم بها، وقال:"شاهَتِ الوجوهُ"، فما أصاب رجلًا منهم حَصَاةٌ من بين ثُدِيِّهم فلم يرفعوا أبصارَهم، فتناوَلَ رسولُ الله ﷺ قبضةً من حصاته إلّا قُتِلَ يوم بدر كافرًا (1) .
هذا حديث صحيح، فقد احتجَّا جميعًا بيحيى بن سُلَيم، واحتجَّ مسلم بعبد الله بن عثمان بن خُثَيم، ولم يُخرجاه، ولا أعرف له عِلةً، وأهل السُّنة من أحوج الناس لمعارَضة ما قيل: إِنَّ الوضوء لم يكن قبل نزول المائدة، ولا خلافَ بين أصحاب التواريخ أنَّ هذا الوضوءَ في ابتداء الإسلام قبلَ نزول المائدة، وإنما نزولُ المائدة في حَجَّة الوداع والنبيُّ ﷺ بعَرَفات. وله شاهد صحيح ناطِقٌ بأنَّ النَّبِيّ ﷺ كان يتوضَّأُ ويأمر بالوضوء قبل الهِجْرة، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 583 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روتے ہوئے آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے میری بیٹی! تمہیں کس چیز نے رلایا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اے میرے ابا جان! میں کیوں نہ روؤں جبکہ قریش کے یہ سردار حطیم میں لات، عزیٰ اور منات کی قسمیں کھا کر آپ کو قتل کرنے کا معاہدہ کر رہے ہیں، اگر وہ آپ کو دیکھ لیں تو آپ پر ٹوٹ پڑیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹی! میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور مسجد کی طرف نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو ان کے سر جھک گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں اٹھا کر ان کی طرف پھینکیں اور فرمایا: یہ چہرے بگڑ جائیں، جنہیں وہ کنکریاں لگیں وہ سب جنگِ بدر میں کافر ہو کر مارے گئے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور امام بخاری و مسلم کی شرط پر ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وضو کا حکم اسلام کے آغاز ہی میں موجود تھا قبل اس کے کہ سورہ مائدہ نازل ہوتی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 592]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 592 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث قوي، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن سليم: وهو الطائفي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث قوی ہے، البتہ یہ سند یحییٰ بن سلیم الطائفی کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2762) عن إسحاق بن عيسى، عن يحيى بن سليم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (4/ 2762) میں اسحاق بن عیسیٰ عن یحییٰ بن سلیم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا 5/ (3485)، وابن حبان (6502) من طريقين عن ابن خثيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 3485) اور ابن حبان (6502) نے عبداللہ بن عثمان ابن خثیم کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي مختصرًا برقم (4797) من طريق أبي بكر بن عياش عن ابن خثيم.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (4797) پر ابوبکر بن عیاش کے طریق سے مختصراً آئے گی۔