🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. أول من تبع النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - أبو بكر وبلال رضي الله عنهما
سب سے پہلے رسولُ اللہ ﷺ کی پیروی کرنے والے سیدنا ابو بکر اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہما تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
أخبرَناه أبو محمد عبدُ الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا أبو تَوْبة الرَّبيع بن نافع، حَدَّثَنَا محمد بن المهاجر، عن العباس بن سالم، عن أبي سَلَّام، عن أبي أُمامة، عن عمرو بن عَبَسة قال: أتيتُ رسول الله ﷺ في أول ما بُعِثَ وهو بمكة وهو حينئذٍ مستخف فقلت: ما أنت؟ قال:"أنا نبيٌّ" قلت: وما نبيٌّ؟ قال:"رسولُ الله" قلت: اللهُ أرسلك؟ قال:"نعم" قلت: بما أرسلك؟ قال:"أن تعبدَ الله، وتَكسِرَ الأوثان والأديان، وتُوصِلَ الأرحام قلت: نِعمَ ما أرسلك به، قلت: فمن تَبِعَك على هذا؟ قال:"عبدٌ وحرٌّ" - يعني أبا بكر وبلالًا - فكان عمرو يقول: لقد رأيتُني وأنا رُبعُ - أو رابع - الإسلام، قال: فأسلمتُ، قلت: أتبعُك يا رسول الله؟ قال:"لا، ولكن الحَقْ بقومك، فإذا أُخبِرتَ أني قد خرجتُ فاتبعني" قال: فلَحِقتُ بقومي وجعلت أتوقَّعُ خبرَه وخروجَه حتَّى أقبلت رُفْقةٌ من يثربَ فلَقِيتُهم فسألتهم عن الخبر، فقالوا: قد خرج رسولُ الله ﷺ من مكة إلى المدينة، قلت: وقد أتاها؟ قالوا: نعم، قال: فارتحلتُ حتَّى أتيتُه، قلت: أتعرفُني يا رسول الله؟ قال:"نعم، أنت الرجلُ الذي أتاني بمكة". فجعلتُ أتحيَّنُ خَلْوتَه، فلما خَلَا قلت: يا رسول الله، علِّمني مما علَّمك الله وأَجهَلُ، قال:"فسَلْ عمَّ شئتَ"، قلت: أيُّ الليل أَسمَعُ؟ قال:"جوفُ الليلِ الآخِر، فصلِّ ما شئتَ، فإنَّ الصلاةَ مشهودةٌ مكتوبةٌ حتَّى تصليَ الصبح، ثم أقصِرْ حتَّى تَطلُعَ الشمس فترتفعَ قِيدَ رمح أو رمحين، فإنها تَطلُع بين قَرْنَي شيطان، وتصلي لها الكفار، ثم صلِّ ما شئتَ، فإنَّ الصلاةَ مشهودةٌ مكتوبةٌ حتَّى يَعدِلَ الرمحُ ظِلَّه، ثم أقصِرْ فَإِنَّ جهنم تُسجر وتفتح أبوابها، فإذا زالت الشمس فصلِّ ما شئتَ، فإنَّ الصلاةَ مشهودةٌ مكتوبةٌ، ثم صلّ حتَّى تصلي العصرَ، ثم أقصِرْ حتَّى تَغرُب الشمس، فإنها تَغرُبَ بين قَرنَي شيطان وتصلي لها الكفار. وإذا توضأتَ فاغسِلْ يديك، فإنك إذا غسلتَ يديك خرجَتْ خطاياك من أظفار أنامِلِك، ثم إذا غسلتَ وجهك خرجَتْ خطاياك من وجهك، ثم إذا مضمضت واستَنثرت خرجت خطاياك من مَناخِرِك، ثم إذا غسلتَ يديك خرجت خطاياك من ذِراعَيك، ثم إذا مسحتَ برأسك خرجت خطاياك من أطرافِ شعرك، ثم إذا غسلتَ رجليك خرجت خطاياك من رجليك، فإن ثَبَتَّ في مجلسك كان لك حظًّا من وضوئك، وإن قمتَ فذكرتَ ربَّك وحَمَدتَه، ورَكَعته ركعتين مُقبِلًا عليهما بقلبك، كنتَ من خطاياك كيوم وَلَدَتكَ أمُّك". قال: قلت: يا عمرو، اعلَمْ ما تقول، فإنك تقول أمرًا عظيمًا، فقال: والله لقد كَبِرَت سنِّي ودنا أَجَلي، وإني لغنيٌّ عن الكذب، ولو لم أسمعه من رسول الله ﷺ إلّا مرةٌ أو مرتين ما حدَّثتُه، ولكن قد سمعتُه أكثرَ من ذلك. هكذا حدَّثني أبو سَلَّام عن أبي أمامة، إلا أن أُخطئَ شيئًا أو أزِيدَه، وأستغفر الله وأتوب إليه (1) . قد خرَّج مسلمٌ بعض هذه الألفاظ من حديث النَّضْر بن محمد الجُرَشي عن عِكْرمة بن عمّار عن شدَّاد بن عبد الله عن أبي أُمامة قال: قال عمرو بن عَبَسة، وحديث العباس بن سالم هذا أشفى وأتمُّ من حديث عكرمة.
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں بعثت کے ابتدائی دور میں مکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روپوش تھے، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ فرمایا: میں نبی ہوں، میں نے پوچھا: نبی کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: اللہ کا رسول، میں نے پوچھا: کیا اللہ نے آپ کو بھیجا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے پوچھا: کس پیغام کے ساتھ؟ فرمایا: یہ کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے، بتوں کو توڑ دیا جائے اور صلہ رحمی کی جائے۔ میں نے پوچھا: آپ کا اتباع کس نے کیا ہے؟ فرمایا: ایک آزاد اور ایک غلام نے (یعنی ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما)۔ پھر وہ طویل حدیث بیان کرتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی فضیلت بتائی کہ: جب تم وضو کرتے ہو اور ہاتھ دھوتے ہو تو گناہ ناخنوں سے نکل جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتے ہو تو چہرے سے، جب کلی اور ناک میں پانی ڈالتے ہو تو نتھنوں سے، جب بازو دھوتے ہو تو بازوؤں سے، جب سر کا مسح کرتے ہو تو بالوں کے کناروں سے اور جب پاؤں دھوتے ہو تو پاؤں سے گناہ جھڑ جاتے ہیں، اور اگر تم خلوصِ دل سے دو رکعتیں پڑھو تو گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتے ہو جیسے اس دن تھے جب ماں نے جنا تھا۔
امام مسلم نے اس کے بعض حصے روایت کیے ہیں لیکن یہ مکمل روایت زیادہ شافی اور کامل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 593]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 593 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. محمد بن المهاجر: هو الأنصاري الشامي، وأبو سلّام: هو ممطور الحبشي، ¤ ¤ وأبو أمامة: هو صُدَي بن عجلان الصحابي ﵁.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن المہاجر سے مراد الانصاری الشامی ہیں، ابوسلام سے مراد "ممطور الحبشی" اور ابو امامہ سے مراد مشہور صحابی "صُدی بن عجلان" رضی اللہ عنہ ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1277) عن الربيع بن نافع بهذا الإسناد. ولم يسقه بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے (1277) میں ربیع بن نافع کی سند سے روایت کیا ہے، مگر مکمل متن ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه بطوله أحمد 28/ (17019)، ومسلم (832) من طريق عكرمة بن عمار، عن شداد بن عبد الله، عن أبي أمامة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مفصل طور پر امام احمد (28/ 17019) اور امام مسلم (832) نے عکرمہ بن عمار عن شداد بن عبداللہ عن ابی امامہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أوله أحمد 28/ (17016) من طريق يحيى بن أبي عمرو، عن أبي سلّام، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کا ابتدائی حصہ امام احمد نے (28/ 17016) میں یحییٰ بن ابی عمرو عن ابی سلام کی سند سے نقل کیا ہے۔
وأخرجه مقطَّعًا الترمذيّ (3579)، والنسائي (176) و (1556) من طرق عن أبي أمامة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3579) اور نسائی (176، 1556) نے مختلف مقامات پر ٹکڑوں کی صورت میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وكذلك أخرجه أحمد 28/ (17018) و (17026) و (17028)، وابن ماجه (283) و (1251) و (1364)، والنسائي (1573) من طريق عبد الرحمن بن البيلماني، عن عمرو بن عبسة. وهو عند أحمد في الموضع الثاني مطوَّل.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد (28/ 17018، 17026، 17028)، ابن ماجہ (283، 1251، 1364) اور نسائی (1573) نے عبدالرحمن بن بیلمانی کے واسطے سے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام احمد کے ہاں دوسرے مقام پر یہ روایت تفصیلی (مطول) مروی ہے۔
وأخرجه بنحوه مطولًا أحمد 32/ (19433) من طريق سليم بن عامر، و (19435) من طريق شهر بن حوشب، كلاهما عن عمرو بن عبسة.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے امام احمد نے مفصل طور پر (32/ 19433) میں سلیم بن عامر کے طریق سے، اور (19435) میں شہر بن حوشب کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں۔
وورد هذا الحديث عند المصنّف مقطَّعًا بالأرقام (459) و (1175) و (4467 - 4469) و (5329) و (6729) و (459).
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث مصنف کے ہاں مختلف مقامات پر ٹکڑوں کی صورت میں نمبر (459)، (1175)، (4467 - 4469)، (5329) اور (6729) کے تحت آئی ہے۔