المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
632. جَرْحُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فِي أُحُدٍ بِضْعَةَ عَشَرَ جُرْحًا
غزوۂ اُحد میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو دس سے زائد زخم آئے
حدیث نمبر: 5974
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا محمد بن عبد الله بن رُسْتَه، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عمر، قال: وكعب بن مالك بن أَبي كعب بن القَيْن بن كعب بن سَوَاد بن غَنْم بن كعب بن سَلِمةَ، وهو شاعرُ رسول الله ﷺ، وكان فيما قيل يُكنى أبا عبد الله، وشَهِدَ كعبٌ أحدًا، فجُرح بها بِضعةَ عشرَ جُرحًا، وارتُثَّ، ولم يَشهَد بدرًا، وشهد الخندقَ والمَشاهِدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ ما خَلَا تبوكَ؛ فإنه تَخلّف عنها، وهو أحدُ الثلاثة الذين تَخلَّفوا في غزوة تبوكَ، ثم تِيبَ عليهم، ومات كعبُ بن مالك سنة خمسين في إمارة معاوية بن أبي سفيان، وهو يومئذٍ ابن سبعٍ وسبعين سنةً (2) .
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدنا کعب بن مالک بن ابی کعب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر تھے، ان کی کنیت ”ابو عبداللہ“ بیان کی گئی ہے، انہوں نے غزوۂ احد میں شرکت کی جس میں انہیں دس سے زائد زخم آئے اور وہ شدید زخمی ہوئے، وہ غزوۂ بدر میں شریک نہیں تھے، البتہ خندق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے سوائے غزوۂ تبوک کے؛ کیونکہ وہ اس سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ ان تین صحابہ میں سے ایک ہیں جن کی توبہ اللہ نے قبول فرمائی، سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات سن 50 ہجری میں حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے دورِ امارت میں ہوئی، اس وقت ان کی عمر ستتر سال تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5974]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 5974] [ترقيم الشركة 5915]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5974 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) وهو في "الطبقات الكبرى" لابن سعد 4/ 393 و 394 و 395 عن محمد بن عمر الواقدي.
📖 حوالہ / مصدر: یہ ابن سعد کی "الطبقات الكبرى" (4/ 393، 394 اور 395) میں محمد بن عمر الواقدی سے مروی ہے۔
سليمان بن داود: هو الشاذكوني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: سلیمان بن داود سے مراد الشاذکونی ہیں۔
ارتُثَّ: افتُعِل، على ما لم يُسمَّ فاعلُه، أي: حُمل من المعركة رَثِيثًا، أي: جَريحًا وبه رَمَقٌ.
📝 نوٹ / توضیح: "ارتُثَّ": یہ فعل مجہول (ما لم یسم فاعلہ) کے طور پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسے میدان جنگ سے "رثیث" (شدید زخمی حالت میں جبکہ کچھ جان باقی ہو) اٹھایا گیا۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5974 in Urdu