المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
632. جرح كعب بن مالك فى أحد بضعة عشر جرحا
غزوۂ اُحد میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو دس سے زائد زخم آئے
حدیث نمبر: 5975
أخبرني أبو نعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفَارِي بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا زكريا بن أبي كِنَانةَ، حدثنا عبد الرحمن بن عمرو، حدثنا يحيى بن المُثنّى المَدَني، أخبرني سعدُ بن إسحاقَ بن كعب بن عُجْرةَ، عن أبيه، عن جَدِّه: أنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَ كعب بن مالك حين تِيبَ عليه وعلى أصحابه أن يُصلِّيَ سَجْدتَين (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5862 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5862 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرہ اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے باقی ساتھیوں کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ 2 رکعت نماز یا دو سجدے (بطور شکرانہ) ادا کریں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5975]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5975 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لجهالة مَن بين عَبْدان بن محمد وسعد بن إسحاق، والمحفوظ في هذا أنَّ كعب بن مالك لما بُشِّر بتوبة الله عليه خرَّ ساجدًا، كما أخرجه البخاري (4418)، ومسلم (2769) من حديثه هو، فهذا سجود الشكر فعله كعب بن مالك من تلقاء نفسِه فرحًا بالتوبة، لا أنَّ النبي ﷺ مَن أمره بصلاة ركعتين كما في هذه الرواية الغريبة التي لم نقف عليها عند غير الحاكم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ عبدان بن محمد اور سعد بن اسحاق کے درمیان راوی مجہول ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس بارے میں "محفوظ" روایت یہ ہے کہ کعب بن مالک کو جب اللہ کی طرف سے توبہ قبول ہونے کی بشارت دی گئی تو وہ سجدے میں گر پڑے، جیسا کہ بخاری (4418) اور مسلم (2769) نے انہی کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ یہ شکر کا سجدہ تھا جو کعب بن مالک نے توبہ کی خوشی میں اپنی مرضی سے کیا تھا، نہ کہ نبی ﷺ نے انہیں دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ اس "غریب" روایت میں ہے جو ہمیں حاکم کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔