🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
632. جَرْحُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ فِي أُحُدٍ بِضْعَةَ عَشَرَ جُرْحًا
غزوۂ اُحد میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو دس سے زائد زخم آئے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5975
أخبرني أبو نعيم محمد بن عبد الرحمن الغِفَارِي بمَرُو، حدثنا عَبْدان بن محمد بن عيسى الحافظ، حدثنا زكريا بن أبي كِنَانةَ، حدثنا عبد الرحمن بن عمرو، حدثنا يحيى بن المُثنّى المَدَني، أخبرني سعدُ بن إسحاقَ بن كعب بن عُجْرةَ، عن أبيه، عن جَدِّه: أنَّ رسول الله ﷺ أَمَرَ كعب بن مالك حين تِيبَ عليه وعلى أصحابه أن يُصلِّيَ سَجْدتَين (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5862 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد اور دادا کے واسطے سے روایت ہے کہ جب سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو رکعت (یا دو سجدے) پڑھنے کا حکم فرمایا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 5975]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة مَن بين عَبْدان بن محمد وسعد بن إسحاق، والمحفوظ في هذا أنَّ كعب بن مالك لما بُشِّر بتوبة الله عليه خرَّ ساجدًا، كما أخرجه البخاري (4418)، ومسلم (2769) من حديثه هو، فهذا سجود الشكر فعله كعب بن مالك من تلقاء نفسِه فرحًا بالتوبة، لا أنَّ النبي ﷺ ...» [ترقيم الرساله 5975] [ترقيم الشركة 5916] [ترقيم العلميه 5862]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة مَن بين عَبْدان بن محمد وسعد بن إسحاق

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 5975 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده ضعيف لجهالة مَن بين عَبْدان بن محمد وسعد بن إسحاق، والمحفوظ في هذا أنَّ كعب بن مالك لما بُشِّر بتوبة الله عليه خرَّ ساجدًا، كما أخرجه البخاري (4418)، ومسلم (2769) من حديثه هو، فهذا سجود الشكر فعله كعب بن مالك من تلقاء نفسِه فرحًا بالتوبة، لا أنَّ النبي ﷺ مَن أمره بصلاة ركعتين كما في هذه الرواية الغريبة التي لم نقف عليها عند غير الحاكم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ عبدان بن محمد اور سعد بن اسحاق کے درمیان راوی مجہول ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس بارے میں "محفوظ" روایت یہ ہے کہ کعب بن مالک کو جب اللہ کی طرف سے توبہ قبول ہونے کی بشارت دی گئی تو وہ سجدے میں گر پڑے، جیسا کہ بخاری (4418) اور مسلم (2769) نے انہی کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ یہ شکر کا سجدہ تھا جو کعب بن مالک نے توبہ کی خوشی میں اپنی مرضی سے کیا تھا، نہ کہ نبی ﷺ نے انہیں دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا تھا جیسا کہ اس "غریب" روایت میں ہے جو ہمیں حاکم کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 5975 in Urdu