🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. ينضح بول الغلام ويغسل بول الجارية .
لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أَبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهْدي، حَدَّثَنَا يحيى بن الوليد، حدَّثني مُحِلُّ بن خَليفة الطائي، حدَّثني أبو السَّمْح قال: كنت خادمَ النَّبِي ﷺ، فجيءَ بالحسن أو الحسين فبالَ على صدره، فأرادوا أن يَغسِلوه، فقال:"رُشُّوه رشًّا، فإنه يُغسَلُ بولُ الجارية، ويُرَشُّ بولُ الغلام" (1) . قد خرَّج الشيخان في بول الصبي حديثَ عائشة وأم قيس بنت مِحصَن: أنَّ النَّبِيّ ﷺ أمرَ بماءٍ فصُبَّ على بول الصبي (2) ، فأما ذِكرُ بول الصبيَّة فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 589 - صحيح
ابوالسمح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگ اسے دھونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر صرف پانی چھڑک دو، کیونکہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔
شیخین نے لڑکے کے پیشاب پر پانی بہانے کا ذکر تو کیا ہے لیکن لڑکی کے پیشاب کے فرق کا تذکرہ ان کی روایات میں نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 598]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 598 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد من أجل يحيى بن الوليد: وهو الطائي.
⚖️ درجۂ حدیث: یحییٰ بن الولید الطائی کی وجہ سے اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔
وأخرجه أبو داود (376)، وابن ماجه (526)، والنسائي (289) من طرق عن عبد الرحمن بن مهدي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (376)، ابن ماجہ (526) اور نسائی (289) نے عبدالرحمن بن مہدی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) حديث عائشة عند البخاريّ برقم (222) ومسلم (286)، وحديث أمّ قيس عند البخاريّ برقم (223) ومسلم (287).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بخاری (222) اور مسلم (286) میں ہے، جبکہ ام قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بخاری (223) اور مسلم (287) میں موجود ہے۔