🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. يُنْضَحُ بَوْلُ الْغُلَامِ وَيُغْسَلُ بَوْلُ الْجَارِيَةِ .
لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جائیں گے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
حَدَّثَنَا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حَدَّثَنَا معاذ بن هشام، حدَّثني أَبي، عن قَتَادة، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود [عن أبيه] (3) عن علي بن أبي طالب، أنَّ رسول الله ﷺ قال في بول الرّضيع:"يُنضَحُ بولُ الغلام، ويُغسل بولُ الجارية" (1) .
هذا حديث صحيح، فإنَّ أبا الأسود الديلي صحيح سماعُه من عليٍّ، وهو على شرطهما صحيح، ولم يُخرجاه. وله شاهدان صحيحان، أمَّا أحدهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 587 - على شرطهما
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیر خوار بچے کے پیشاب کے بارے میں فرمایا: لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جائے گا اور لڑکی کا پیشاب (دھو کر) صاف کیا جائے گا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 596]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا الرَّبيع بن سليمان، حَدَّثَنَا أَسَد بن موسى، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص، عن سِمَاك بن حرب، عن قابوس بن أبي المُخارِق، عن لُبابةَ بنت الحارث قالت: بالَ الحسينُ في حَجْرِ النَّبِيّ ﷺ، فقلت: هاتِ ثوبَك حتَّى أغسِلَه، فقال:"إنما يُغسَلُ بولُ الأنثى، ويُنضَحُ بولُ الذَّكر" (2) . والشاهد الثاني:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 588 - صحيح
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، میں نے عرض کیا: اپنا کپڑا دیں تاکہ میں اسے دھو دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 597]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أَبي، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن مَهْدي، حَدَّثَنَا يحيى بن الوليد، حدَّثني مُحِلُّ بن خَليفة الطائي، حدَّثني أبو السَّمْح قال: كنت خادمَ النَّبِي ﷺ، فجيءَ بالحسن أو الحسين فبالَ على صدره، فأرادوا أن يَغسِلوه، فقال:"رُشُّوه رشًّا، فإنه يُغسَلُ بولُ الجارية، ويُرَشُّ بولُ الغلام" (1) . قد خرَّج الشيخان في بول الصبي حديثَ عائشة وأم قيس بنت مِحصَن: أنَّ النَّبِيّ ﷺ أمرَ بماءٍ فصُبَّ على بول الصبي (2) ، فأما ذِكرُ بول الصبيَّة فإنهما لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 589 - صحيح
ابوالسمح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم تھا، سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کو لایا گیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر پیشاب کر دیا، لوگ اسے دھونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر صرف پانی چھڑک دو، کیونکہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹے مارے جاتے ہیں۔
شیخین نے لڑکے کے پیشاب پر پانی بہانے کا ذکر تو کیا ہے لیکن لڑکی کے پیشاب کے فرق کا تذکرہ ان کی روایات میں نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 598]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں