المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
660. ذكر مناقب عبد الله بن هشام بن زهرة القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا عبد الله بن هشام بن زہرة قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6033
أخبرني أحمد بن يعقوب حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خَيّاط، قال: عبد الله بن هشام بن زُهْرة بن عُثمان بن عمرو بن كعب بن سعْد بن تَيْم بن مُرّة، أنه امرأةٌ من بني أسَد بن خُزَيمة يقال: اسمُها أَمَةُ الله بنت عبد شمس بن عبد يالِيلَ بن ناشِب بن غِيَرةَ (2) بن سعْد بن لَيث بن بَكْر بن عبد مَنَاةَ، ذهبتْ به أمُّه إلى النَّبِيِّ ﷺ وهو صغيرٌ، فمَسَح رأسَه، ولم يُبايِعْه (3) .
خلیفہ بن خیاط نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” عبداللہ بن ہشام بن زہرہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ “۔ ان کی والدہ ” بنی اسد بن خزیمہ بن سعد بن لیث بن بکر بن عبد مناۃ “ سے تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔ بچپن میں ان کی والدہ ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا۔ ان کی بیعت نہیں لی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6033]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6033 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرّف في نسخنا إلى: عدي والمثبت على الصواب من "طبقات خليفة" وغيره من كتب التراجم والأنساب.
🔍 فنی نکتہ: ہمارے نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عدی" بن گیا تھا۔ درست نام "طبقات خلیفہ" اور دیگر کتبِ تراجم و انساب کی مدد سے یہاں ثبت کیا گیا ہے۔
(3) وهو في "الطبقات" لخليفة بن خياط ص 18. وقد جاء عند البخاري (7210) تسمية أمّه: زينب بنت حميد، فهذا أصحُّ، وهي قُرَشيّة أسَديّة.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "طبقات خلیفہ بن خیاط" (صفحہ 18) میں موجود ہے۔ 🔍 تحقیقِ نسب: صحیح بخاری (رقم 7210) میں ان کی والدہ کا نام "زینب بنت حمید" آیا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، وہ قریشیہ اسدیہ تھیں۔