🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

660. ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ الْقُرَشِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا عبد الله بن هشام بن زہرة قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6033
أخبرني أحمد بن يعقوب حَدَّثَنَا موسى بن زكريا، حَدَّثَنَا خَليفة بن خَيّاط، قال: عبد الله بن هشام بن زُهْرة بن عُثمان بن عمرو بن كعب بن سعْد بن تَيْم بن مُرّة، أنه امرأةٌ من بني أسَد بن خُزَيمة يقال: اسمُها أَمَةُ الله بنت عبد شمس بن عبد يالِيلَ بن ناشِب بن غِيَرةَ (2) بن سعْد بن لَيث بن بَكْر بن عبد مَنَاةَ، ذهبتْ به أمُّه إلى النَّبِيِّ ﷺ وهو صغيرٌ، فمَسَح رأسَه، ولم يُبايِعْه (3) .
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ رضی اللہ عنہ کی والدہ (جن کا تعلق بنو اسد بن خزیمہ سے تھا اور ان کا نام امۃ اللہ بنت عبد شمس تھا) انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے کر آئیں جبکہ وہ ابھی چھوٹے بچے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر اپنا دستِ مبارک پھیرا لیکن (کم سنی کی وجہ سے) ان سے بیعت نہیں لی۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6033]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6033] [ترقيم الشركة 5975]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6034
حَدَّثَنَا الحُسين بن الحَسن بن أيوب، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حَدَّثَنَا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي أيوبَ، عن أبي عَقِيل زُهْرة بن مَعبَد، عن عبد الله بن هشام - وكان قد أدركَ النَّبِيّ ﷺ: أنَّ أمَّه أتْت به النَّبِيّ ﷺ، فمسَح رأسه ودَعَا له، فكان يُضحِّي بالشاةِ الواحدة عن جَميع أهلِه (1) .
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ (جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا) سے روایت ہے کہ ان کی والدہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے (برکت کی) دعا فرمائی، وہ اپنی تمام اہل و عیال کی طرف سے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں) ایک ہی بکری کی قربانی کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6034]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6034] [ترقيم الشركة 5976]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6035
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد (2) البغدادي، حَدَّثَنَا أبو الزِّنْباع رَوْح بن الفَرَج، حَدَّثَنَا يحيى بن بُكَير، حَدَّثَنَا رِشْدِين بن سعْد وابنُ لَهِيعة، عن زُهْرة بن مَعبَد، عن جدِّه عبد الله بن هشام، قال: كنا مع رسول الله ﷺ، وهو آخِذٌ بِيَدِ عُمر بن الخطّاب، فقال عمرُ: واللهِ يا رسولَ الله، إنَّكَ لأَحَبُّ إليَّ من كل شيءٍ إِلَّا نفْسي، فقال النَّبِيُّ ﷺ:"لا والذي نَفْسي بيده، حتَّى أكونَ أحبَّ إليك من نَفْسِك" قال عمر: فأنتَ الآن أحبُّ إليَّ من نَفْسي، فقال رسول الله ﷺ:"الآنَ يا عمرُ" (3) . ذكرُ مناقب المُنكَدِر بن عبد الله أبي مُحمدٍ القُرَشي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5922 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنی جان کے سوا دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! (ایمان تب مکمل ہوگا) جب میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہو جاؤں، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب (تمہارا ایمان درجۂ کمال کو پہنچا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6035]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسنٌ إن شاء الله، فرِشدين وابن لهيعة» [ترقيم الرساله 6035] [ترقيم الشركة 5977] [ترقيم العلميه 5922]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں