المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
667. عطاء ابن عباس أبا أيوب مالا كثيرا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کثیر مال عطا کرنا
حدیث نمبر: 6048
أخبرني أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أنس، حَدَّثَنَا الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم: أنَّ أبا أيوب أتى معاويةَ، فذكر له حاجةً، قال: ألستَ صاحبَ عثمان؟ قال: أما إنَّ رسول الله ﷺ قد خبَّرَنا أنه سَيُصيبُنا بعدَه أَثَرةٌ، قال: وما أَمَرَكُم؟ قال: أمَرَنا أن نَصبِرَ حتَّى نَرِدَ عليه الحوض، قال: فاصبِروا، قال: فغضب أبو أيوب وحَلَفَ أن لا يُكلِّمَه أبدًا. ثم إنَّ أبا أيوب أتى عبدَ الله بنَ عبّاس فَذَكَرَ له، فخَرَجَ له عن بيتِه كما خَرَجَ أبو أيوب الرسول الله ﷺ عن بيته، قال: أَيشٍ تريد؟ قال: أربعةَ غِلْمةٍ يكونون في مَحلِّي، قال: لك عندي عشرون غلامًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5935 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5935 - صحيح
سیدنا مقسم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنی حاجت کا ذکر کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے معاملات ہمیں پہلے ہی نہیں بتا دئیے تھے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہ ہم صبر کریں گے حتیٰ کہ ہم حوض کوثر پر اکٹھے ہوں۔ سیدنا معاویہ نے کہا: ٹھیک ہے پھر صبر ہی کرو، اس پر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: اور قسم کھا لی کہ ان سے کبھی بھی بات نہیں کریں گے۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور سارا معاملہ ان کو بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے، جس طرح سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے گھر سے باہر آئے تھے۔ گھر سے باہر آ کر انہوں نے پوچھا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے قرض خواہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے لئے چار غلام درکار ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں آپ کو بیس غلام پیش کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6048]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6048 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم إلّا أنَّ مقسمًا - وهو ابن بُجرة ويقال له: مولى ابن عباس للزومه إياه - لم يسمع أبا أيوب ولا معاوية، فروايته للقصة مرسلة. وسيأتي الحديث من وجه آخر عن ابن عبّاس برقم (6054).
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں کوئی حرج نہیں سوائے اس کے کہ مِقسَم (ابن بُجرہ، جنہیں ابن عباس کا قرب حاصل ہونے کی وجہ سے ان کا مولیٰ کہا جاتا ہے) کا سماع حضرت ابو ایوب اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں، لہذا ان کی یہ روایت "مرسل" ہے۔ یہی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسرے طریق سے آگے نمبر (6054) پر آئے گی۔
أبو حاتم الرازي: هو محمد بن إدريس الحافظ، وإبراهيم بن موسى: هو ابن يزيد الرازي، والأعمش: هو سليمان بن مهران، والحكم هو ابن عتيبة.
📌 اہم نکتہ: راویوں کی پہچان: ابو حاتم الرازی سے مراد حافظ محمد بن ادریس ہیں، ابراہیم بن موسیٰ سے مراد ابن یزید الرازی ہیں، الاعمش سے مراد سلیمان بن مہران ہیں، اور الحکم سے مراد ابن عتیبہ ہیں۔
وانظر ما بعده، وما سيأتي برقم (6063).
📝 نوٹ / توضیح: اس کے بعد والی روایت اور آگے حدیث نمبر (6063) ملاحظہ فرمائیں۔
وفي باب قوله: إنه سيصيبنا بعده أثرة، وأمرنا أن نصبر حتَّى نرد عليه الحوض، عن أنس بن مالك عند أحمد 19/ (12085)، والبخاري (2376)، ومسلم (1059)، مرفوعًا بلفظ: "سترون بعدي أَثرة، فاصبروا حتَّى تلقَوني"؛ يعني الأنصار.
📖 حوالہ / مصدر: اس باب میں کہ "نبی ﷺ کے بعد ہمیں خود غرضی (حق تلفی) کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہمیں صبر کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہم حوضِ کوثر پر آپ ﷺ سے جا ملیں"، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت امام احمد (19/ 12085)، بخاری (2376) اور مسلم (1059) میں موجود ہے، جس کے مرفوع الفاظ ہیں: "تم میرے بعد حق تلفی دیکھو گے، پس صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آ ملو"؛ اس سے مراد انصار ہیں۔
وعن أُسيد بن حضير عند أحمد 31/ (19092)، والبخاري (3792)، ومسلم (1845).
📖 حوالہ / مصدر: یہی مفہوم حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے جو امام احمد (31/ 19092)، بخاری (3792) اور مسلم (1845) میں مذکور ہے۔
وعن عبد الله بن زيد المازني عند أحمد 26 / (16470)، والبخاري (4330)، ومسلم (1061).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عبد اللہ بن زید المازنی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، مراجع: احمد (26/ 16470)، بخاری (4330) اور مسلم (1061)۔
وعن البراء بن عازب عند أحمد 30/ (18582).
📖 حوالہ / مصدر: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی روایت امام احمد (30/ 18582) میں موجود ہے۔