المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
667. عطاء ابن عباس أبا أيوب مالا كثيرا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کثیر مال عطا کرنا
حدیث نمبر: 6049
وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان، عن ابن سِنان، عن حَبِيب بن أبي ثابت: أنَّ أبا أيوب الأنصاري قَدِمَ على ابن عبّاس البصرة، ففَرَغَ له بيتَه، وقال: لأصنَعَنَّ بك ما صنعتَ برسول الله ﷺ، وقال: كم عليكَ من الدَّين؟ قال: عشرون ألفًا، قال: فأعطاه أربعين ألفًا وعشرين مملوكًا، وقال: لك ما في البيت (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حبیب ابن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے لئے اپنا مکان خالی کروا دیا اور کہا: میں آپ کے لئے وہی طرز عمل اپناؤں گا جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنایا تھا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا کہ آپ کے ذمہ کتنا قرضہ ہے؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 20 ہزار۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو چالیس ہزار اور بیس غلام پیش کئے۔ اور کہا: اس گھر میں جو کچھ بھی ہے سب آپ کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6049]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6049 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله لا بأس بهم، إلّا أنه معضل بين حبيب بن أبي ثابت وأبي أيوب، لكن ذُكرت الواسطة بينهما، فيما سيأتي برقم (6054) بسند ضعيف. ابن سنان: هو سعيد بن سنان البُرجمي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے راویوں میں بظاہر کوئی حرج نہیں، لیکن حبیب بن ابی ثابت اور ابو ایوب کے درمیان سند "معضل" (درمیان سے دو راوی غائب) ہے، تاہم آگے حدیث نمبر (6054) میں ایک ضعیف سند کے ساتھ ان کے درمیان واسطہ ذکر کیا گیا ہے۔ ابن سنان سے مراد سعید بن سنان البرجمی ہیں۔
وأخرجه أحمد في "فضائل الصحابة" (1881)، وابن عساكر 16/ 54 و 54 - 55 من طريق إسحاق بن سليمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "فضائل الصحابہ" (1881) میں اور ابن عساکر نے (16/ 54، 55) میں اسحاق بن سلیمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
📝 نوٹ / توضیح: اس سے ماقبل کی بحث ملاحظہ کریں۔