🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

667. عَطَاءُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَبَا أَيُّوبَ مَالًا كَثِيرًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو کثیر مال عطا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6048
أخبرني أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أنس، حَدَّثَنَا الأعمش، عن الحَكَم، عن مِقْسَم: أنَّ أبا أيوب أتى معاويةَ، فذكر له حاجةً، قال: ألستَ صاحبَ عثمان؟ قال: أما إنَّ رسول الله ﷺ قد خبَّرَنا أنه سَيُصيبُنا بعدَه أَثَرةٌ، قال: وما أَمَرَكُم؟ قال: أمَرَنا أن نَصبِرَ حتَّى نَرِدَ عليه الحوض، قال: فاصبِروا، قال: فغضب أبو أيوب وحَلَفَ أن لا يُكلِّمَه أبدًا. ثم إنَّ أبا أيوب أتى عبدَ الله بنَ عبّاس فَذَكَرَ له، فخَرَجَ له عن بيتِه كما خَرَجَ أبو أيوب الرسول الله ﷺ عن بيته، قال: أَيشٍ تريد؟ قال: أربعةَ غِلْمةٍ يكونون في مَحلِّي، قال: لك عندي عشرون غلامًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5935 - صحيح
سیدنا مقسم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور اپنی حاجت کا ذکر کیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آنے والے معاملات ہمیں پہلے ہی نہیں بتا دئیے تھے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کہ ہم صبر کریں گے حتیٰ کہ ہم حوض کوثر پر اکٹھے ہوں۔ سیدنا معاویہ نے کہا: ٹھیک ہے پھر صبر ہی کرو، اس پر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: اور قسم کھا لی کہ ان سے کبھی بھی بات نہیں کریں گے۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے اور سارا معاملہ ان کو بتایا، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے لیے گھر سے باہر تشریف لائے، جس طرح سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے گھر سے باہر آئے تھے۔ گھر سے باہر آ کر انہوں نے پوچھا: آپ کیا چاہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے قرض خواہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے لئے چار غلام درکار ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں آپ کو بیس غلام پیش کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6048]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6049
وقد حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان، عن ابن سِنان، عن حَبِيب بن أبي ثابت: أنَّ أبا أيوب الأنصاري قَدِمَ على ابن عبّاس البصرة، ففَرَغَ له بيتَه، وقال: لأصنَعَنَّ بك ما صنعتَ برسول الله ﷺ، وقال: كم عليكَ من الدَّين؟ قال: عشرون ألفًا، قال: فأعطاه أربعين ألفًا وعشرين مملوكًا، وقال: لك ما في البيت (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5936 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حبیب ابن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بصرہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے لئے اپنا مکان خالی کروا دیا اور کہا: میں آپ کے لئے وہی طرز عمل اپناؤں گا جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنایا تھا۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا کہ آپ کے ذمہ کتنا قرضہ ہے؟ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 20 ہزار۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو چالیس ہزار اور بیس غلام پیش کئے۔ اور کہا: اس گھر میں جو کچھ بھی ہے سب آپ کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6049]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں