🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
676. ذكر مناقب أبى موسى عبد الله بن قيس الأشعري - رضى الله عنه -
سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6066
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن أحمد الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أبو موسى الأشعري اسمه عبد الله بن قيس بن سُليم بن حَضَّار بن حَرْب (2) بن عامر بن بَكْر بن عامر بن عَذَر بن وائل بن ناجية بن الجُماهِر بن الأشعَر، وهو نَبْت بن أُدَد بن يَشْجُب بن يَعْرُب بن قَحْطان. وأم أبي موسى ظَبْيةُ بنت وَهْب بن عَتِيك، وقد كانت أسلمت، وماتت بالمدينة. وكان أبو موسى قَدِمَ مكة فحالف أبا أُحَيْحة سعيدَ بن العاص، وأسلم بمكة، وهاجر إلى أرض الحبشة، ثم قَدِمَ مع أهل السَّفينتين (3) ورسول الله ﷺ بخَيبر (4) .
محمد بن عمر فرماتے ہیں: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن ایس بن سلیم بن حضار بن حریث بن عامر بن بکر بن عامر بن عذر بن وائل بن ناجیہ بن مہاجر بن اشعری اور وہ نبت بن ادد بن یشجب بن یعرب بن قحطان تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی والدہ طیبہ بنت وہب بن عتیک تھیں۔ انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا اور مدینہ منورہ میں ان کا انتقال ہوا۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ مکہ آئے تھے اور ابواحیحہ سعید بن العاص کے حلیف بنے تھے۔ مکہ شریف میں ہی ایمان لائے اور حبشہ کی جانب ہجرت کی۔ پھر دو کشتیوں والوں کے ہمراہ واپس آ گئے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6066]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6066 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) إلى: حريب، وهي مرسومة كذلك في (ص) و (م) لكنها بدون نقط، وصوَّبناه من مصادر ترجمته.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ز) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حریب" ہو گیا ہے، اور نسخہ (ص) و (م) میں بھی اسی طرح ہے مگر بغیر نقطوں کے۔ ہم نے راوی کے تراجم کے مصادر کی روشنی میں اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(3) تحرَّف في (ز) و (ب) إلى التسعين، وفي (ص) و (م) إلى السبعين، وصوَّبناه من مصادر التخريج ومصادر الترجمة.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "التسعین" (نوے) ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ (ص) اور (م) میں "السبعین" (ستر) لکھا گیا ہے۔ ہم نے تخریج اور تراجم کے مستند مآخذ کی روشنی میں اس کی تصحیح کر دی ہے۔
(4) هذا الخبر أخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 98، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 32/ 25 عن محمد بن عمر، وهو الواقدي. لكن قوله: وكان أبو موسى قدم مكة، إلى آخره مخالف لما رواه ابن سعد نفسه 4/ 99 عن الواقدي عن خالد بن إلياس عن أبي بكر بن عبد الله ابن أبي الجهم - وكان علّامة نسّابة - قال: ليس أبو موسى من مهاجرة الحبشة، وليس له حلف في قريش، وقد كان أسلم بمكة قديمًا، ثم رجع إلى بلاد قومه، فلم يزل بها حتَّى قدم هو وناسٌ من الأشعريين على رسول الله ﷺ، فوافق قدومهم قدوم أهل السفينتين جعفرٍ وأصحابه من أرض الحبشة، ووافقوا رسول الله ﷺ بخيبر، فقالوا: قدم أبو موسى مع أهل السفينتين، وكان الأمر على ما ذكرنا أنه وافق قدومُه قدومهم.
📖 حوالہ / مصدر: اس خبر کو امام ابن سعد نے "الطبقات" (4/ 98) میں روایت کیا ہے، اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (32/ 25) میں محمد بن عمر (الواقدی) کے واسطے سے نقل کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: واقدی کا یہ قول کہ "ابو موسیٰ مکہ آئے" وغیرہ، ابن سعد کی اپنی دوسری روایت (4/ 99) کے مخالف ہے جو انہوں نے واقدی عن خالد بن الیاس عن ابی بکر بن عبد اللہ کے طریق سے نقل کی ہے۔ اس دوسری روایت کے مطابق ابو موسیٰ ہجرتِ حبشہ کرنے والوں میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی قریش میں ان کا کوئی حلیف تھا، بلکہ وہ مکہ میں اسلام لائے، پھر اپنے علاقے (یمن) چلے گئے اور وہیں رہے، یہاں تک کہ وہ اور دیگر اشعری لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے؛ ان کی آمد اسی وقت ہوئی جب حبشہ سے جعفر طیار اور ان کے ساتھی دو کشتیوں میں پہنچے تھے، اور یہ سب خیبر کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ لہذا لوگوں نے سمجھا کہ ابو موسیٰ اہل السفینتین کے ساتھ آئے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ان کی آمد محض ان کے ساتھ واقع ہوئی تھی۔
قلنا: والصحيح في قصة قدوم أبي موسى ما أخرجه البخاري (3136) و (3876) و (4230)، ومسلم (2502)، وأبو داود (2725) من طريق أبي بردة عن أبيه أبي موسى الأشعري قال: بَلَغنا مخرجُ النَّبِيّ ﷺ ونحن باليمن، فخرجنا مهاجرين إليه أنا وأخَوان لي، أنا أصغرهم، أحدهما أبو بردة، والآخر أبو رُهم، إما قال: في بضع، وإما قال في ثلاث وخمسين أو اثنين وخمسين رجلًا من قومي، فركبنا سفينةً، فألقتنا سفينتنا إلى النجاشي بالحبشة، ووافقنا جعفرَ بنَ أبي طالب وأصحابه عنده، فقال جعفر: إنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَنا هاهنا وأمرنا بالإقامة، فأقيموا معنا، فأقمنا معه حتَّى قدمنا جميعًا، فوافقْنا النَّبِيَّ حين افتتح خيبر، فأسهم لنا - أو قال: فأعطانا منها - وما قسم لأحد غاب عن فتح خيبر منها شيئًا إلا لمن شهد معه إلّا أصحاب سفينتنا مع جعفر وأصحابه، قسم لهم معهم. لفظ البخاري.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آمد کا صحیح قصہ وہ ہے جسے امام بخاری (3136، 3876، 4230)، مسلم (2502) اور ابو داؤد (2725) نے ابو بردہ عن ابی موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حضرت ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ جب ہمیں یمن میں نبی ﷺ کے ظہور کی خبر ملی تو میں اپنے دو بھائیوں (ابو بردہ اور ابو رُہم) اور اپنی قوم کے تقریباً 52 یا 53 آدمیوں کے ساتھ ہجرت کے لیے نکلا۔ ہم کشتی میں سوار ہوئے مگر ہماری کشتی (رُخ بدل کر) ہمیں حبشہ میں نجاشی کے پاس لے گئی۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں سے ہوئی، انہوں نے ہمیں اپنے پاس ٹھہرا لیا یہاں تک کہ ہم سب اکٹھے نکلے اور خیبر کی فتح کے وقت نبی ﷺ کے پاس پہنچے۔ آپ ﷺ نے خیبر کے مالِ غنیمت میں سے ہمارا حصہ بھی لگایا، حالانکہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو حصہ نہیں دیا تھا جو فتح کے وقت موجود نہ تھے، سوائے جعفر اور کشتی والوں کے (جنہیں غائب ہونے کے باوجود حصہ ملا)۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔