🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
676. ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي مُوسَى عَبْدِ اللهِ بْنِ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيِّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ -
سیدنا ابو موسیٰ عبد اللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6067
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا أحمد بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق قال: كان أبو موسى الأشعريُّ ممَّن هاجر إلى أرض الحبشة، وأقام بها حتَّى بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ إلى النجاشيِّ عمرو بن أُميةَ الضَّمْري، فحملهم في سفينتين، فقدم بهم عليه بخَيبرَ بعد الحُديبية (1) .
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ارضِ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور وہ وہیں مقیم رہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی کی طرف بھیجا، تو وہ انہیں دو کشتیوں میں سوار کر کے لے آئے اور وہ صلحِ حدبیہ کے بعد فتحِ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6067]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 6067] [ترقيم الشركة 6009]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6067 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وانظر "سيرة ابن هشام" 1/ 324. وانظر تعليق ابن عبد البر عليه في "الاستيعاب" ص 851.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مزید تفصیل کے لیے "سیرت ابن ہشام" (1/ 324) اور ابن عبد البر کا اس پر تبصرہ "الاستیعاب" (ص 851) ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6067 in Urdu