المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
682. جزاء من يعطش لله فى يوم صائف
گرمی کے دن اللہ کے لیے پیاس برداشت کرنے والے کا اجر
حدیث نمبر: 6080
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا الفضل بن عبد الجبار، حَدَّثَنَا النَّضر بن شُمَيل، أخبرنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي بُرْدةَ قال: قال لي ابن عمر: أَتدري ما قال أبي لأبيك؟ قلتُ: لا، قال: قال أبي لأبيك: هل يَسرُّك أنَّ إسلامنا مع رسول الله ﷺ وهجرَتَنا معه وجهادَنا معه وعَمَلَنا معه بَرَدَ (1) لنا، وإنَّ كلَّ عملٍ عَمِلناه بعدَه نجونا منه كَفافًا رأسًا برأس؟ قال أبوك لأبي: لا والله، لقد جاهَدْنا بعدَ رسول الله ﷺ وصلَّينا وصُمنا وعَمِلْنا خيرًا كثيرًا، وإنا لنَرجو ذلك، قال: فقال أبي لأبيك: والذي نفسي بيدِه، لَوَدِدْتُ أَنه بَرَدَ لي، وإِنَّ كلَّ شيءٍ بعدَ ذلك نجونا منه رأسًا برأس، قال: قلتُ: إنَّ أباك خيرٌ من أبي (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5967 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5967 - صحيح
سیدنا ابوبردہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: تمہیں معلوم ہے کہ میرے والد نے تمہارے والد کو کیا کہا؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے والد نے تمہارے والد سے کہا ہے کہ کیا تمہیں اس بات سے خوشی ہوتی ہے کہ ہمارا اسلام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہے، ہماری ہجرت ان کے ساتھ ہے، ہمارا جہاد ان کے ہمراہ ہے، ہمارے تمام اعمال ان کے ہمراہ ہیں، ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جہاد میں حصہ لیا ہے، کیا ہمارے وہ اعمال (ہمارے نامہ اعمال میں) پکے ہو چکے ہیں اور اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم جو بھی عمل کرتے ہیں (اگر ان میں کوئی کمی کوتاہی رہ جاتی ہے تو)، ہمارے پہلے اعمال کی بناء پر یہ معاف ہو جائیں گے؟ تمہارے والد نے میرے والد سے کہا: نہیں۔ خدا کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تو جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت نیکیاں کیں۔ اور ہم اس کی امید رکھتے ہیں کہ وہ مقبول ہوں گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پھر میرے والد نے تمہارے والد سے کہا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری رائے یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد والے اعمال کی کمی کوتاہی ہمارے پہلے اعمال کی وجہ سے معاف کر دی جائے گی۔ سیدنا ابوبردہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تمہارے والد میرے والد سے بہتر ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6080]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6080 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) برد، بفتح الباء الموحدة والراء، أي: ثبت وخلص لنا، يقال: بَرَدَ لي على الغريم حق، أي: ثبت. وفي رواية: خلص بدلٌ "برد". انظر "فتح الباري" 11/ 485.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "بَرَدَ" (باء اور راء کے فتحہ کے ساتھ) کا معنی ہے "ثابت ہوا اور ہمارے لیے خالص ہو گیا"؛ جیسا کہ عربی میں کہا جاتا ہے کہ میرا حق قرض دار پر ثابت (بَرَدَ) ہو گیا۔ بعض روایات میں اس کی جگہ "خلص" کا لفظ بھی آیا ہے۔ (دیکھئے: فتح الباری 11/ 485)۔
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري (3915) من طريق روح بن عبادة، عن عوف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے (3915) میں روح بن عبادہ عن عوف کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔