المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
681. حسن قراءة أبى موسى
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی خوش الحانی اور حسنِ قراءت کا بیان
حدیث نمبر: 6079
حَدَّثَنَا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بن هشام الكوفي، حَدَّثَنَا خالد بن نافع الأشعري، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: مرَّ النَّبِيُّ ﷺ بأبي موسى ذاتَ ليلةٍ ومعه عائشةُ، وأبو موسى يقرأ، فقاما فاستمعا لقراءتِه، ثم مَضَيا، فلما أصبَحَ أبو موسى وأتَى النَّبِيَّ ﷺ، قال النَّبِيُّ ﷺ:"مَرَرتُ بكَ يا أبا موسى البارحةَ وأنت تقرأُ، فاستَمَعْنا لِقراءتِكَ"، فقال أبو موسى: يا نبيَّ الله، لو علمتُ بمكانِكَ لحَبَّرتُ لك تحبيرًا (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5966 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5966 - صحيح
سیدنا ابوبردہ بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں: ایک رات کا واقعہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین رضی اللہ عنہا ٹھہر کر ان کی تلاوت سننے لگ گئے، اور کچھ دیر بعد چلے گئے۔ جب صبح ہوئی اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اے ابوموسیٰ! گزشتہ رات میں تمہارے قریب سے گزرا تھا تم اس وقت تلاوت کر رہے تھے، ہم نے بہت غور سے تمہاری تلاوت سنی، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے پتا چل جاتا کہ آپ میری تلاوت کو سن رہے ہیں تو میں اس سے بھی زیادہ خوبصورت لہجے میں تلاوت کرتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6079]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6079 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف خالد بن نافع الأشعري، وقد توبع. أبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري. وأخرجه مسلم (793) (236)، وابن حبان (7197) من طريق يحيى بن سعيد الأموي، عن طلحة بن يحيى، عن أبي بردة، عن أبي موسى الأشعري قال: استمع رسول الله ﷺ قراءتي من الليل، فلما أصبحتُ قال: "يا أبو موسى، استمعتُ قراءتك الليلة، لقد أُوتيتَ مِزمارًا من مزامير آل داود" قلتُ: يا رسول الله، لو علمتُ مكانك لحبّرتُ لك تحبيرًا. هذا لفظ ابن حبان، ورواية مسلم مختصرة بقول النَّبِيّ ﷺ لأبي موسى: "لو رأيتني وأنا أستمع لقراءتك البارحة، لقد أُوتيت مزمارًا من مزامير آل داود".
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح حدیث" ہے، اگرچہ خالد بن نافع الاشعرى کے ضعف کی وجہ سے یہ مخصوص سند ضعیف ہے، مگر اس کی متابعت موجود ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ابو بردہ سے مراد حضرت ابو موسیٰ اشعری کے بیٹے ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (793/ 236) اور ابن حبان (7197) نے یحییٰ بن سعید الاموی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو میں آپ کے لیے اپنی آواز کو (قرات کو) خوب سجا کر پیش کرتا"۔ امام مسلم کی روایت میں نبی ﷺ کا مختصر قول ہے: "کاش تم مجھے دیکھتے جب میں کل رات تمہاری قرات سن رہا تھا، تمہیں آلِ داؤد کی خوش الحانی (مزمار) میں سے حصہ دیا گیا ہے"۔
وقوله ﷺ: "لقد أوتيت مزمارًا من مزامير آل داود" أخرجه هكذا مختصرًا البخاري (5048)، والترمذي (3855) من طريق بريد بن عبد الله بن أبي بردة، عن أبي بردة، عن أبي موسى الأشعري مرفوعًا. وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: آپ ﷺ کا فرمان "تمہیں آلِ داؤد کے مزمار میں سے حصہ دیا گیا ہے" اسے مختصراً امام بخاری (5048) اور ترمذی (3855) نے برید بن عبد اللہ کے طریق سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن صحیح" قرار دیا ہے۔