المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
683. ذكر مناقب عقبة بن عامر أبى عمرو الجهني - رضى الله عنه -
سیدنا عقبہ بن عامر ابو عمرو جہنی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان — اور خلافت کے بارے میں امیر معاویہ اور ابن عباس کے درمیان گفتگو
حدیث نمبر: 6082
أخبرني محمد بن أحمد بن تَمِيم الحَنظلي ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن العبّاس الكابُلِي (2) ، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة حدثني زيد بن الحُبَاب، عن عبد الله ابن لَهِيعة قال: حدثني أبو الأسْوَد، عن عُرْوة: أنَّ معاوية استَعمل على مصر بعد وفاة أخيه عَنبَسة بن أبي سفيان عُقبةَ بنَ عامرٍ الجُهَني، وذلك سنة أربع وأربعين، فأقام الحجَّ فيها معاويةُ. قال أبو بكر (1) : فحدَّثني أبو بكر بنُ عيّاش، حَدَّثَنَا معروف بن يزيد (2) المكي، قال: بَيْنا عبدُ الله بن عبّاس جالسٌ في المسجد الحرام ونحن بين يديه، إذ أقبل معاويةُ فجلس إليه، فأعرَضَ عنه ابن عبّاس، فقال له معاوية: ما لي أراك مُعرِضًا؟ ألستَ تعلمُ أنِّي أحقُّ بهذا الأمر من ابن عمِّك؟ قال: لِمَ؟ قال: لأنَّهُ كان مسلمًا، وكنتَ كافرًا؟ قال: لا، ولكنِّي ابن عمِّ عثمان، قال: فابنُ عمِّه خيرٌ من ابن عمِّك، قال: إنَّ عثمان قُتِل مظلومًا، قال: وعندهما ابن عمر، فقال ابن عَبَّاس: فإنَّ هذا واللهِ أحقُّ بالأمر منك، فقال معاوية: إنَّ عمر قَتَله كافرٌ وعثمانَ قَتَلَه مسلمٌ، فقال ابن عَبَّاس: ذاك واللهِ أَدْحَضُ لحُجَّتِك (3) .
سیدنا عروہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عتبہ بن ابی سفیان کی وفات کے بعد سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو مصر کا گورنر بنایا تھا۔ یہ بات 44 ہجری کی ہے۔ اسی سال سیدنا معاویہ نے حج قائم فرمایا۔ معروف بن خربوذ مکی فرماتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ اس کے اردگرد موجود تھے، سیدنا معاویہ آئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے، لیکن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے منہ پھیر لیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے منہ پھیرنے کی وجہ پوچھتے ہوئے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے چچا زاد بھائی سے زیادہ اس منصب کا میں مستحق ہوں؟ سیدنا عبداللہ نے پوچھا: وہ کیسے؟ سیدنا معاویہ نے کہا: اس لئے نہیں کہ وہ مسلمان تھے اور میں کافر تھا۔ بلکہ اس لئے کہ میں سیدنا عثمان کے چچا کا بیٹا ہوں۔ سیدنا عبداللہ نے فرمایا: پھر بھی میرا چچا تمہارے چچا کے بیٹے سے بہتر ہے۔ انہوں نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ظلماً شہید کیا گیا حالانکہ اس وقت ان کے پاس سیدنا عمر کے دو بیٹے موجود تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خدا کی قسم! وہ تم سے زیادہ اس منصب کا حقدار ہے۔ سیدنا معاویہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک کافر نے شہید کیا جبکہ سیدنا عثمان کو مسلمان نے شہید کیا۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خدا کی قسم! یہی بات تو تمہاری دلیل کو باطل کر دیتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6082]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6082 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّفت في (ص) و (م) و (ب) إلى: الكاملي، بالميم، والصواب كما في (ز) بالباء، وكما في مصادر ترجمته.
📌 اہم نکتہ: نسخہ (ص، م، ب) میں یہاں "الکاملی" (میم کے ساتھ) تحریف ہو گئی ہے، جبکہ درست لفظ "الکابلی" (باء کے ساتھ) ہے جیسا کہ نسخہ (ز) اور راوی کے تراجم میں موجود ہے۔
(1) يعني: ابن أبي شيبة.
📌 اہم نکتہ: ابوبکر سے یہاں مراد مشہور محدث "ابن ابی شیبہ" ہیں۔
(2) في النسخ الخطية: معروف بن يزيد وليس في الرواة من اسمه كذلك، وشيخ أبي بكر بن عياش إنما هو معروف بن خرَّبوذ.
📌 اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں "معروف بن یزید" لکھا ہے جبکہ راویوں میں اس نام کا کوئی شخص نہیں؛ ابوبکر بن عیاش کے اصل شیخ "معروف بن خربوذ" ہیں۔
(3) إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وشيخه معروف إن كان معروفٌ سمعه من ابن عباس، فإنَّ في إدراكه له وقفة.
⚖️ درجۂ حدیث: ابوبکر بن عیاش اور ان کے شیخ معروف کی وجہ سے یہ سند "حسن" ہے، بشرطیکہ معروف کا حضرت ابن عباس سے سماع ثابت ہو جائے، کیونکہ ان کے ادراکِ صحابی میں کلام (وقفہ) ہے۔