🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
687. وصية حجر بن عدي عند قتله
سیدنا حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی وصیت جب انہیں قتل کیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6091
أخبرني أحمد بن عثمان بن يحيى المُقرئ ببغداد، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن محمد اليَزيدي، حَدَّثَنَا سليمان بن أبي شَيخ، حَدَّثَنَا محمد بن الحسن الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو مِخْنَف: أنَّ هُدْبة بن فيّاض الأعور أُمِرَ بقتل حُجْر بن عَدي، فمشى إليه بالسيف فأُرعِدَت فَرائصُه، فقال: يا حُجْرُ، أليس زعمتَ أنك لا تَجزَعُ من الموت؟ فإنا نَدَعُك (1) ، فقال: ما لي لا أَجزَعُ، وأنا أَرى قبرًا محفورًا، وكَفَنًا منشورًا، وسيفًا مشهورًا، إنَّني والله لن أقولَ ما يُسخِطُ الرَّب. قال: فقتله، وذلك في شعبان سنة إحدى وخمسين (2) (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5978 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ابومخنف فرماتے ہیں: ہدیہ بن فیاض اعور کو حکم دیا گیا کہ حجر بن عدی کو قتل کر دو، وہ اپنی تلوار لے کر ان کی جانب بڑھا، تو سیدنا حجر پر کپکپی طاری ہو گئی، ہدیہ بن فیاض نے کہا: کیا تم یہ دعویٰ نہیں کیا کرتے تھے کہ تم موت سے نہیں گھبراتے ہو؟ تاکہ ہم تجھے چھوڑ دیں۔ سیدنا حجر نے کہا: میں کیوں نہ گھبراؤں کہ مجھے کھودی ہوئی قبر نظر آ رہی ہے، مجھے بکھرا ہوا کفن دکھائی دے رہا ہے، اور تلوار سونتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور خدا کی قسم! میں وہ بات ہرگز نہیں کہہ سکتا جو اللہ تبارک و تعالیٰ کو ناراض کر دے۔ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ہدیہ بن فیاض نے ان کو شہید کر دیا۔ یہ واقعہ شعبان کے مہینے میں 51 ہجری کا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6091]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6091 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) يُفسِّر هذه العبارة ما جاء صريحًا في تاريخي الطبري وابن عساكر: فأنا أدعك فابرأ من صاحبك.
📝 نوٹ / توضیح: اس عبارت کی تفسیر ان الفاظ سے ہوتی ہے جو طبری اور ابن عساکر کی تاریخوں میں صراحت کے ساتھ آئے ہیں: "میں تمہیں چھوڑ دوں گا، بس تم اپنے ساتھی سے بیزاری کا اظہار کر دو"۔
(2) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: إحدى وستين، والتصويب من النسخة المحمودية كما في طبعة دار الميمان و"تلخيص" الذهبي، وقد جاء في مصادر ترجمته كما في "الاستيعاب" لابن عبد البر، و "أسد الغابة" لابن الأثير، و"سير أعلام النبلاء" للذهبي: أنه قتل سنة إحدى وخمسين، وفي "الثقات" و"مشاهير علماء الأمصار" لابن حبان: أنه سنة ثلاث وخمسين، وزاد في "الثقات": وقيل: سنة إحدى وخمسين في زمن عائشة، وكذا قال البخاري في "التاريخ الكبير": قتل في عهد عائشة. وعائشة إنما توفيت سنة سبع وخمسين.
📌 اہم نکتہ: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "61 ہجری" تحریف ہو گیا ہے، جبکہ درست "51 ہجری" ہے جیسا کہ نسخہ محمودیہ، طبع دار المیمان اور امام ذہبی کی "تلخیص" میں ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ابن عبد البر کی "الاستیعاب"، ابن اثیر کی "اسد الغابہ" اور ذہبی کی "سیر اعلام النبلاء" کے مطابق ان کی شہادت 51 ہجری میں ہوئی۔ ابن حبان نے 53 ہجری اور ایک قول 51 ہجری کا ذکر کیا ہے۔ امام بخاری نے "تاریخ کبیر" میں صراحت کی ہے کہ یہ واقعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے عہد میں پیش آیا، جبکہ ان کی وفات 57 ہجری میں ہوئی تھی۔
(3) أبو مخنف - واسمه لوط بن يحيى - قال الذهبي في "الميزان": أخباري تالف لا يوثق به.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو مخنف (لوط بن یحییٰ) کے بارے میں امام ذہبی "میزان الاعتدال" میں فرماتے ہیں کہ یہ "تالف" (تباہ شدہ) راوی ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
وذكر مثل هذا الخبر الطبري في "تاريخه" 5/ 76، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 8/ 26، وابن الأثير الجزري في "الكامل" 3/ 80، وابن كثير في "البداية والنهاية" 11/ 235.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح کی خبر امام طبری نے اپنی "تاریخ" (5/ 76)، ابن عساکر (8/ 26)، ابن اثیر نے "الکامل" (3/ 80) اور ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" (11/ 235) میں ذکر کی ہے۔