🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
717. يد السائل أسفل الأيدي
مانگنے والے کا ہاتھ دینے والوں کے ہاتھوں سے نیچا ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6165
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه، حَدَّثَنَا عثمان بن سعيد الدارمي، حَدَّثَنَا أبو صالح، حدثني الليث، حدثني عُبيد الله بن المغيرة، عن عِرَاك بن مالك، أنَّ حَكِيم بن حِزَام قال: كان محمدٌ النبيُّ أحبَّ الناس إليَّ في الجاهلية، فلما تنبَّأَ وخرج إلى المدينة فشَهِدَ حكيمُ بن حِزام الموسمَ، فوجد حُلَّةً لِذِي يَزَن تُباع بخمسين درهمًا، فاشتراها ليُهدِيَها إلى رسول الله ﷺ، فقَدِمَ بها عليه، وأَرادَه على قبضِها، فأَبَى عليه؛ قال عُبيدُ الله: حَسِبتُ أنه قال:"إِنَّا لا نَقبلُ من المشركين شيئًا، ولكن إن شئتَ أخذناها بالثَّمن"، فأعطيتُها إياه حتَّى أتَى المدينة (1) ، فلَبِسها، فرأيتُها عليه على المنبر، فلم أَرَ شيئًا قطُّ أحسنَ منه فيها يومئذٍ، ثم أعطاها أسامةَ بنَ زيد فرآها حكيمٌ على أسامة فقال: يا أسامةُ، أنتَ تَلْبَسُ حُلَّةَ ذِي يَزَن؟! قال: نعم، لأنا خيرٌ من ذي يَزَن، ولأَبي خيرٌ من أبيه، ولأُمِّي خيرٌ من أُمِّه. قال حكيم: فانطلقتُ إلى مكة أُعجِّبُهم بقول أسامة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6050 - صحيح
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں، سب لوگوں سے زیادہ مجھے محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا اور مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کر گئے۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ حج کے لئے آئے، انہوں نے ذی یزن کا ایک بہت خوبصورت جبہ دیکھا جو کہ پچاس درہم کا فروخت ہو رہا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ دینے کے لئے وہ جبہ خرید لیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ کے طور پر پیش کیا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ قبول کرنے سے انکار کر دیا اور (عبیداللہ فرماتے ہیں میرا خیال ہے کہ اس موقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ہم مشرکین کا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے، البتہ ہم یہ خرید لیتے ہیں۔ (سیدنا حکیم) فرماتے ہیں: میں نے وہ جبہ قیمتاً پیش کر دیا (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ خرید لیا، سیدنا حکیم فرماتے ہیں) پھر جب میں ہجرت کر کے مدینہ منورہ آیا تو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ جبہ پہنے ہوئے منبر پر جلوہ فرما دیکھا، اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جتنے خوبصورت لگ رہے تھے میں نے ان سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز نہیں دیکھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جبہ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرما دیا تھا۔ سیدنا حکیم نے سیدنا اسامہ پر یہ جبہ دیکھا تو فرمایا: اے اسامہ! تم ذی یزن کا جبہ پہنے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اس لئے کہ میں ذی یزن سے بہتر ہوں اور میرا والد اس کے والد سے بہتر ہے اور میری والدہ اس کی والدہ سے بہتر ہے۔ سیدنا حکیم فرماتے ہیں: پھر میں مکہ کی جانب آیا اور لوگوں کو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کی یہ بات بہت خوشی کے ساتھ سنایا کرتا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6165]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6165 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا وقعت هذه العبارة في أصولنا الخطية: "حتَّى أتى المدينة" وهو تحريف، والصواب ما في مصادر التخريج: "حين أبي عليَّ الهديّةَ"، وهذا هو الأنسب في المعنى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں عبارت "حتیٰ اتیٰ المدینہ" تحریف ہے، درست عبارت "حين أبي عليَّ الهديّةَ" (جب انہوں نے مجھ سے ہدیہ لینے سے انکار کیا) ہے، جو سیاق و سباق کے لحاظ سے زیادہ موزوں ہے۔
(2) حديث صحيح، دون قوله: "فرأيتها عليه على المنبر … " إلى آخره، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبي صالح، وهو عبد الله بن صالح، كاتب الليث بن سعد، وقد تفرَّد بالقول المشار إليه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "صحیح حدیث" ہے، البتہ اس کا آخری حصہ کہ "میں نے اسے منبر پر آپ ﷺ کے جسم مبارک پر دیکھا" ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں عبد اللہ بن صالح (کاتبِ لیث) موجود ہیں جنہوں نے اس جملے کی روایت میں تفرد کیا ہے، اس لیے یہ حصہ ضعیف قرار پاتا ہے۔
وأخرجه بطوله في "الكبير" (3125)، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 15/ 101 عن مطلب بن شعيب الأزدي، عن عبد الله بن صالح، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (3125) میں اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (15/ 101) میں عبد اللہ بن صالح کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بدون هذه الزيادة أحمد في "المسند" 24/ (15323) عن عتاب بن زياد، عن عبد الله بن المبارك، عن الليث بن سعد، به. وهذا إسناد صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "مسند" (24/ 15323) میں اس اضافے کے بغیر عبد اللہ بن المبارک عن لیث بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ سند "صحیح" ہے۔