🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
723. ذكر مناقب مخرمة بن نوفل القرشي - رضى الله عنه -
سیدنا مخرمہ بن نوفل قرشی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6180
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا محمد بن أحمد بن أنس، حَدَّثَنَا عبد الله بن بكر السَّهْمي، حَدَّثَنَا حاتم بن أبي صَغيرة أبو يونس القُشَيري، عن سِماك بن حَرْب، رَفَعَ الحديثَ. وعن حاتم (1) ، عن السُّدِي، عن البَراء بن عازبٍ: أنَّ رسول الله ﷺ أُتيَ فقيل: يا رسول الله، إنَّ أبا سفيان بن الحارث بن عبد المطَّلب يَهجُوك، فقام ابن رَوَاحة فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، فقال:"أنت الذي تقول: يُثبِّتُ اللهُ؟ قال: نعم، قلت يا رسول الله: يُثبِّتُ اللهُ ما أعطاك من حَسَنٍ … تثبيتَ موسى ونَصرًا مثل ما نُصِرا قال:"وأنت يفعلُ اللهُ بك خيرًا مثل ذلك". قال: ثم وَثَبَ كعبٌ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، قال:"أنت الذي تقول: هَمَّتْ؟" قال: نعم يا رسول الله: هَمَّتْ سَخِينةُ أن تُغالبَ ربَّها … فَلَيُغلَبنَّ مُغالِبُ الغُلَّابِ قال:"أمَا إِنَّ الله لم يَنسَ ذلك لك" (2) . قال: ثم قام حسّانُ فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي فيه، وأخرج لسانًا له أسودَ، فقال: يا رسول الله، ائذَنْ لي إن شئتُ أفرَيتُ به المَزادَ، فقال:"اذهبْ إلى أبي بكرٍ ليحدِّثَك حديثَ القوم وأيامَهم وأحسابَهم، واهجُهُمْ وجِبريلُ معك" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. إنما أخرجه مسلم بطوله من حديث الليث بن سعد عن خالد بن يزيد. ذكرُ مناقب مَخرَمة بن نَوفَل القُرشي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6065 - صحيح
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کی برائیاں بیان کرتا ہے۔ تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جواب دینے کی مجھے اجازت عطا فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وہی ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ثبت اللہ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھلائی آپ کو عطا فرمائی ہے، وہ قائم رکھے جیسے موسیٰ علیہ السلام کی بھلائیوں کو قائم رکھا اور اللہ تعالیٰ آپ کی بھی اسی طرح مدد فرمائے جیسے ان لوگوں کی مدد کی گئی۔ ان کے بعد سیدنا کعب کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی جواب دینے کی اجازت عنایت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت عطا فرمائی تو انہوں نے یہ شہر کہا۔ * سخینہ اپنے شوہر پر غالب آنا چاہتی ہے، تو مغلوب لوگ، غالبوں پر غالب آ جائیں گے۔ پھر سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اٹھ کھڑے ہوئے اور عرض کی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اس کا جواب دینے کی اجازت دیجئے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کی بہت زیادہ مذمت بیان کر سکتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ابوبکر کے پاس چلے جاؤ اور اس سے ان کے حالات و واقعات، ان کے حسب نسب اور خاندانی معاملات کے بارے میں معلومات لے کر آؤ پھر ان کی مذمت بیان کرو، جبریل امین علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو لیث بن سعد کے واسطے سے خالد بن یزید کی اسناد کے ہمراہ مفصل بیان کیا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ بیان نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6180]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6180 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: جابر، والصواب أنه حاتم، وهو ابن أبي صغيرة المذكور، ويؤيده ما في "طبقات ابن سعد".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر 'جابر' ہو گیا ہے جبکہ درست نام 'حاتم' ہے، اور یہ حاتم بن ابی صغیرہ ہیں جن کا ذکر ہوا، اس کی تائید "طبقات ابن سعد" سے بھی ہوتی ہے۔
(2) قوله: "قال: أما إنَّ الله لم ينس ذلك لك" ليس في (ص) و (م)، وهو ثابت في (ز) و (ب) إلَّا أنه كتب فوقه في (ز): لا … إلى، وذلك إشارة إلى حذفه وأثبتناه موافقة لنسخة (ب) ولأنه في رواية ابن سعد في "الطبقات".
📝 نوٹ / توضیح: جملہ "اللہ تمہارے لیے اسے نہیں بھولے گا" نسخہ (ص) اور (م) میں نہیں ہے، جبکہ (ز) اور (ب) میں موجود ہے۔ نسخہ (ز) میں اس پر حذف کا اشارہ تھا مگر ہم نے نسخہ (ب) اور "طبقات ابن سعد" کے مطابق اسے برقرار رکھا ہے۔
(3) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أما من جهة سماك بن حرب فلإرساله، وأما من جهة السدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - فلانقطاعه، فأغلب الظن أنه لم يسمع من البراء، والله تعالى أعلم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 325، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 12/ 504 عن عبد الله بن بكر السهمي، بالإسنادين.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت 'حسن لغیرہ' ہے، اگرچہ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سماک بن حرب کی جانب سے 'ارسال' ہے اور سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) کی جانب سے 'انقطاع' ہے کیونکہ غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے حضرت براء بن عازب سے نہیں سنا۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے 'الطبقات' (4/ 325) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' (12/ 504) میں عبد اللہ بن بکر السہمی سے دونوں سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقوله الحسان: "اهجهم وجبريل معك" صحيح، قد ثبت عن البراء من غير هذا الوجه، انظر ما سبق برقم (6133).
📌 اہم نکتہ: حضرت حسان کے لیے یہ جملہ کہ "ان کی ہجو کرو اور جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں" بالکل صحیح ہے، اور یہ حضرت براء سے دوسرے طرق سے ثابت ہے (دیکھیں سابقہ حدیث رقم 6133)۔
وفي الباب ما يشهد لطوله بمعناه عند مسلم (2490) من حديث الليث عن خالد بن يزيد بإسناده إلى عائشة، وليس هو من حديث البراء بن عازب كما يُفهم من كلام المصنّف بإثر الحديث.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں امام مسلم (2490) کی لیث عن خالد بن یزید والی طویل روایت حضرت عائشہ سے مروی ہے جو اس کے معنی کی شاہد ہے، یہ حضرت براء کی حدیث نہیں ہے جیسا کہ مصنف کے کلام سے شبہ ہوتا ہے۔