🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
724. مخرمة كان عالما بأنساب قريش
سیدنا مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ قریش کے انساب کے بڑے عالم تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6181
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مُصعَب بن عبد الله الزُّبيري قال: مَخرَمة بن نوفل بن أُهَيب بن عبد مَنَاف بن زُهْرة بن كِلاب، وأمُّه رُقَيقة بنت [أبي] صَيفيّ بن هاشم بن عبد مَناف، وأمها [هالةُ بنت] كَلَدةً بن عبد مناف (1) ، وكان من المؤلَّفة قلوبُهم.
مصعب بن عبداللہ زبیری نے آپ کا نسب یوں بیان کیا مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبد مناف ۔ ان کا شمار مولفۃ القلوب میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6181]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6181 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من قوله: "بن زهرة" إلى هنا سقط من (ب). وتحرَّف: بن عبد مناف، فيها إلى: بنت عبد مناف، وما بين المعقوفين سقط من (ز) و (ص) و (م) واستدركنا ذلك كله من "نسب قريش" لمصعب الزبيري ص 90.
🔍 فنی نکتہ / علّت: "بن زہرہ" سے یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے، اور وہاں "بن عبد مناف" غلطی سے "بنت عبد مناف" ہو گیا ہے۔ بریکٹ والا حصہ دیگر نسخوں سے ساقط تھا جسے ہم نے مصعب زبیری کی "نسب قریش" (ص 90) سے مکمل کیا ہے۔
وعبد مناف جدُّ رقيقة: هو ابن قصي بن كلاب، وأما عبد مناف جدُّ هالة بنت كلدة: فهو ابن عبد الدار بن قصي بن كلاب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: رقیقہ کے دادا عبد مناف بن قصی بن کلاب ہیں، جبکہ ہالہ بنت کلدہ کے دادا عبد مناف بن عبد الدار بن قصی بن کلاب ہیں۔
وذكر ابن سعد في "الطبقات" 10/ 211 أنه اختلف في اسم أم رقيقة، فقيل: هالة، وقيل: تُماضر.
📝 نوٹ / توضیح: ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 211) میں ذکر کیا ہے کہ رقیقہ کی والدہ کے نام میں اختلاف ہے؛ ایک قول 'ہالہ' اور دوسرا 'تماضر' کا ہے۔