المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
726. ذكر مناقب سعيد بن يربوع المخزومي - رضى الله عنه -
سیدنا سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6192
قال محمد بن عمر: سمعتُ عبدَ الله بن جعفر يقول: جاء عمرُ بن الخطّاب إلى منزل سعيد بن يَربُوع، فعزّاه بذهاب بصرِه وقال: لا تَدَعِ الجمعةَ ولا الصلاةَ في مسجد رسول الله ﷺ قال: ليس لي قائدٌ، قال: نحن نَبعثُ إِليك بقائدٍ، قال: فبَعَثَ إليه بغلامٍ من السَّبْي (1) . قال (2) : وتُوفِّي سعيدُ بن يَربُوع بالمدينة سنة أربع وخمسين، وكان يومَ توفِّي ابنَ مئةٍ وعشرين سنة.
محمد بن عمر فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن جعفر کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا سعید بن یربوع کے گھر تشریف لائے، اور ان کی بینائی زائل ہو جانے پر ان کی تعزیت فرمائی۔ اور ان کو ہدایت کی کہ جمعہ کی نماز نہیں چھوڑنی۔ انہوں نے کہا: مجھے ساتھ لے جانے والا کوئی نہیں ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم آپ کے لئے آدمی بھیج دیا کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غلاموں میں سے ایک لڑکا ان کی جانب بھیج دیا۔ سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ 120 برس کی عمر میں 54 ہجری کو مدینہ میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6192]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6192 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده معضل، فعبد الله بن جعفر - وهو ابن عبد الرحمن بن المسور بن مخرمة - لم يدرك زمن عمر لعلّه ولد قريبًا من سنة مئة للهجرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند 'معضل' ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عبد اللہ بن جعفر (جو کہ عبد الرحمن بن مسور بن مخرمہ کے بیٹے ہیں) نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا، غالباً ان کی پیدائش ہجرت کے سو سال بعد (100ھ) کے قریب ہوئی ہے۔
ورواه عن محمد بن عمر - وهو الواقدي - ابن سعد في "الطبقات" 6/ 98، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 21/ 327.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن عمر (جو کہ الواقدی ہیں) سے ابن سعد نے 'الطبقات' (6/ 98) میں اور ان کے واسطے سے ابن عساکر نے 'تاریخ دمشق' (21/ 327) میں روایت کیا ہے۔
(2) يعني محمد بن عمر الواقدي.
🔍 ناموں کی تحقیق: اس سے مراد محمد بن عمر الواقدی ہیں۔