المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
726. ذِكْرُ مَنَاقِبِ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ الْمَخْزُومِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
سیدنا سعید بن یربوع مخزومی رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
حدیث نمبر: 6190
أخبرنا أبو محمد عبد الله بن جعفر بن دَرَستَوَيهِ الفارسي، حَدَّثَنَا يعقوب بن سفيان الفارسي، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير وسعيد بن أبي مريم وعبد الله بن صالح ويحيى بن بُكَير المِصريُّون بمِصر، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير، عن المِسوَر بن مَخرَمة الزُّهْري، عن أبيه قال: لما أَظهَرَ رسولُ الله ﷺ الإسلامَ أسلم أهلُ مكة كلُّهم، وذلك قبل أن تُفرَضَ الصلاة، حتَّى إذا كان يقرأُ السجدةَ ما يستطيع أحدُهم أن يسجد، حتَّى قَدِمَ رؤساءُ قريشٍ الوليدُ بن المغيرة وأبو جَهْل بن هشام وغيرُهما، وكانوا بالطائف في أرَضِيهم، فقالوا: تَدَعُون دينَ آبائكم؟! فكَفَروا (1) . قال يعقوب بن سفيان: ولا نعلمُ لمخرمةَ بن نوفلٍ حديثًا مسنَدًا غيرَ هذا. ذكرُ مناقب سعيد بن يَربُوعٍ المخزومي ﵁ -
مسور بن مخرمہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کا اعلان کیا تو تمام اہل مکہ نے اسلام کو قبول کر لیا، یہ نماز فرض ہونے سے پہلے کی بات ہے، حالت یہ تھی کہ جب کوئی آیت سجدہ پڑھی جاتی تو (لوگوں کی بھیڑ ہونے کی وجہ سے) سجدہ نہیں ہو پاتا تھا۔ قریش کے سرداران ولید بن مغیرہ، ابوجہل اور دیگر لوگ طائف میں اپنی زمینوں میں تھے، جب یہ لوگ واپس آئے (انہوں نے دیکھا کہ سب لوگ مسلمان ہو چکے ہیں) تو انہوں نے لوگوں کا ذہن بنایا کہ ” تم لوگوں نے اپنے آباء و اجداد کے دین کو کیوں چھوڑ دیا ہے؟ (ان کی بہت کوششوں کے بعد) وہ لوگ دوبارہ کافر ہو گئے۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں: مخرمہ بن نوفل کی اس حدیث کے علاوہ کوئی اور مسند حدیث ہمارے علم میں نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6190]
حدیث نمبر: 6191
حَدَّثَنَا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: سعيد بن يَربُوع بن عَنكَثة بن عامر بن مَخزُوم، ويُكنى أبا هُودٍ، أسلم يوم فتح مكة، وشَهِدَ مع رسول الله ﷺ حُنينًا، وأعطاه رسول الله ﷺ من غنائم حُنينٍ خمسين بعيرًا.
محمد بن عمر نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے ” سعید بن یربوع بن عنکثہ بن عامر بن مخزوم “ ان کی کنیت ” ابوہود “ ہے، آپ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جنگ حنین میں شرکت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حنین کے مال غنیمت سے پچاس اونٹ عطا فرمائے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6191]
حدیث نمبر: 6192
قال محمد بن عمر: سمعتُ عبدَ الله بن جعفر يقول: جاء عمرُ بن الخطّاب إلى منزل سعيد بن يَربُوع، فعزّاه بذهاب بصرِه وقال: لا تَدَعِ الجمعةَ ولا الصلاةَ في مسجد رسول الله ﷺ قال: ليس لي قائدٌ، قال: نحن نَبعثُ إِليك بقائدٍ، قال: فبَعَثَ إليه بغلامٍ من السَّبْي (1) . قال (2) : وتُوفِّي سعيدُ بن يَربُوع بالمدينة سنة أربع وخمسين، وكان يومَ توفِّي ابنَ مئةٍ وعشرين سنة.
محمد بن عمر فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن جعفر کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک دن سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا سعید بن یربوع کے گھر تشریف لائے، اور ان کی بینائی زائل ہو جانے پر ان کی تعزیت فرمائی۔ اور ان کو ہدایت کی کہ جمعہ کی نماز نہیں چھوڑنی۔ انہوں نے کہا: مجھے ساتھ لے جانے والا کوئی نہیں ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم آپ کے لئے آدمی بھیج دیا کریں گے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے غلاموں میں سے ایک لڑکا ان کی جانب بھیج دیا۔ سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ 120 برس کی عمر میں 54 ہجری کو مدینہ میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ/حدیث: 6192]