🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
746. لأرقم آخر أهل بدر وفاة
سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6246
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد القَبّاني وإبراهيم بن أبي طالب قالا: حَدَّثَنَا عِمرانُ بن موسى القزَّاز، حَدَّثَنَا عبد الوارث بن سعيد، حَدَّثَنَا محمد بن جُحَادة، عن نُعيم بن أبي هند، عن أبي حازم، عن حُسين بن خارجةَ قال: لما جاءت الفتنةُ الأُولى أَشكلَتْ عليَّ، فقلت: اللهمَّ أرِني من الحق أمرًا أتمسَّكُ به، فأُرِيتُ فيما يَرى النائمُ الدنيا والآخرة، وكان بينهما حائطٌ غيرُ طويل، وإذا أنا تحتَه، فقلت: لو تسلَّقتُ هذا الحائط حتَّى أنظرَ إلى قتلى أشجَعَ فيُخبِروني، قال: فانهبَطتُ بأرضٍ ذاتِ شجر، فإذا بنفرٍ جلوسٍ، فقلت: أنتم الشهداءُ؟ قالوا: نحن الملائكة، قلت: فأين الشهداءُ؟ قالوا: تقدَّم إلى الدَّرَجات، فارتفعتُ درجةً، الله أعلمُ بها من الحُسْن والسَّعَة، فإذا أنا بمحمدٍ ﷺ، وإذا إبراهيمُ شيخٌ، وإذا هو يقول لإبراهيم: استغفِرْ لأمَّتي، وإبراهيم يقول: إنك لا تدري ما أحدَثُوا بعدك، أَهراقوا دماءَهم، وقتلوا إمَامَهم، فهَلَّا فعلوا كما فعل سعدٌ خليلي! فقلت: والله لقد رأيتُ رُؤْيا لعلَّ الله ينفعُني بها، أذهبُ فأَنظرُ مكانَ سعدٍ فأكونُ معه. فأتيتُ سعدًا فقَصَصتُ عليه القصة، قال: فما أكثرَ بها فَرَحًا، وقال: لقد خابَ من لم يكن إبراهيمُ خليلَه، قلت: مع أيِّ الطائفتينِ أنت؟ قال: ما أنا مع واحدةٍ منهما، قال: قلت: فما تأمرُني؟ قال: ألك غنمٌ؟ قلت: لا، قال: فاشتَرِ شاءً (1) فكن فيها حتَّى تَنجَليَ (2) . أخبرنا الشيخ أبو بكر محمد بن عبد العزيز بن أحمد بن محمد بن شاذانَ الجَوهَري ﵀ بقِراءتي عليه سنةَ تسعٍ وأربعين وأربع مئة، قال: أنبأَني الحاكمُ الإمام أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمدَوَيهِ الحافظُ ﵁، قال: ذكرُ الأَرقَم بن أبي الأَرقَم المخزومي ﵁ -
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6126 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حسین بن خارجہ فرماتے ہیں کہ جب پہلا فتنہ آیا تو میں (نظریاتی طور پر) بہت مشکل میں مبتلا ہو گیا، میں نے دعا مانگی کہ یا اللہ! مجھے حق کا وہ راستہ دکھا جس پر میں مضبوطی سے گامزن ہو جاؤں۔ مجھے خواب میں دنیا اور آخرت دکھائی گئی، دونوں کے درمیان ایک چھوٹی سی دیوار ہوتی ہے، اور میں اس کے نیچے ہوتا ہوں، میں سوچتا ہوں کہ کاش کسی طریقے سے میں اس کے اوپر چڑھ جاؤں، اور اشجع کے مقتولوں کو دیکھوں (کہ وہ کس حالت میں ہیں) اور وہ مجھے اپنے حالات بتائیں۔ آپ فرماتے ہیں: پھر مجھے ایک ایسی جگہ اتارا گیا جہاں کافی درخت تھے، وہاں میں نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا، میں نے پوچھا: کیا تم شہداء ہو؟ انہوں نے کہا: ہم فرشتے ہیں۔ میں نے کہا: تو شہداء کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: اگلے درجات میں جائیے، میں ایک درجہ اوپر چڑھ گیا، اس کے حسن اور وسعت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، وہاں میں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زیارت کی۔ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے کہا: آپ میری امت کے لئے بخشش کی دعا فرمائیے، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا کیا فسادات کئے، انہوں نے خون بہائے، انہوں نے اپنے اماموں کو شہید کیا، انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ جیسا میرے دوست سعد نے کیا۔ (اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی) میں نے سوچا کہ میں نے جو خواب دیکھی ہے اللہ تعالیٰ مجھے اس سے فائدہ دے گا۔ میں جاؤں گا اور سیدنا سعد کا مکان دیکھوں گا، اور انہی کے پاس رہوں گا۔ چنانچہ میں (صبح اٹھ کر) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان کو رات والا خواب سنایا۔ خواب سن کر وہ بہت خوش ہوئے، اور بولے: وہ شخص خسارے میں ہے جس کے دوست ابراہیم علیہ السلام نہیں ہیں۔ میں نے پوچھا: آپ کس جماعت کے ساتھ ہیں؟ انہوں نے کہا: میں دونوں جماعتوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نہیں ہوں۔ میں نے کہا: آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا تیرے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: ایک بکری خرید لو اور اس میں مصروف ہو جاؤ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6246]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6246 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في نسخنا الخطية: شيا، والجادة ما أثبتناه، وهو جمع: شاةٍ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "شیا" لکھا ہے جبکہ درست "شیاہ" (آخر میں ہ کے ساتھ) ہے جو کہ 'شاة' (بکری) کی جمع ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل حسين بن خارجة، فقد تفرَّد بالرواية عنه أبو حازم سلمان الأشجعي، وهو تابعيّ كبير ذكره الحافظ ابن حجر في القسم الثالث من "الإصابة" 2/ 172، وهم الذين لهم إدراك للنبي ﷺ ولو لم يروه، وذكره ابن حبان في "الثقات" 4/ 155، وباقي رجال الإسناد ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: حسین بن خارجہ کی وجہ سے اس سند میں 'تحسین' (حسن ہونے) کا احتمال ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ان سے صرف ابو حازم سلمان الاشجعی نے روایت کی ہے، جو کہ ایک کبار تابعی ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کا زمانہ پایا مگر ملاقات ثابت نہیں۔ باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔
وأخرجه ابن عساكر 20/ 372 من طريق أبي معمر عبد الله بن عمرو المقعَد، عن عبد الوارث بن سعيد بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (20/ 372) نے ابو معمر عبد اللہ بن عمرو المقعد عن عبد الوارث بن سعید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنّف برقم (8600) من طريق سعيد بن هبيرة عن عبد الوارث.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے مصنف کے ہاں رقم (8600) پر سعید بن ہبیرہ عن عبد الوارث کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه عمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 4/ 1252، وابن أبي الدنيا في "المنامات" (172)، وابن عبد الباقي في "التمهيد" 19/ 222 من طريقين عن محمد بن جحادة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عمر بن شبہ "تاریخ المدینہ" (4/ 1252)، ابن ابی الدنیا "المنامات" (172) اور ابن عبد الباقی نے "التمہید" (19/ 222) میں محمد بن جحادہ کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن شبة 4/ 1251، وابن عساكر 20/ 372 - 373 من طريق فايد بن ناجية، عن نعيم بن أبي هند، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن شبہ اور ابن عساکر نے فاید بن ناجیہ عن نعیم بن ابی ہند کی سند سے روایت کیا ہے۔
تنبيهٌ: وقع في حاشية (ز) هنا ما يفيد أنَّ هذا الخبر آخر ما أملاه الحاكم من كتابه هذا على أصحابه إملاءً، ونص الحاشية: حكاية ما على الأصل: إلى هنا انتهى الإملاء ولم يقع السماع لما بعده إلى تمام الكتاب … ثم توفي الحاكم ﵁ بعد … سنة خمس وأربع مئة، آخر الجزء السابع والعشرين.
📝 نوٹ / توضیح: تنبيه: نسخہ (ز) کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ یہ خبر اس کتاب کا وہ آخری حصہ ہے جو امام حاکم نے اپنے شاگردوں کو املاء کروایا۔ اس کے بعد کتاب کے اختتام تک کا حصہ سنا نہیں جا سکا کیونکہ امام حاکم کا انتقال 405ھ میں ہو گیا تھا۔ یہ 27ویں جزء کا اختتام ہے۔