🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
746. لأرقم آخر أهل بدر وفاة
سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ اہل بدر میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6247
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد، حَدَّثَنَا أبي، حَدَّثَنَا ابن لَهِيعة، حَدَّثَنَا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير، في تسمية من شَهِدَ بدرًا من قُريش ثم من بني مَخزُوم: الأرقمُ بنُ أبي الأرقمُ، واسم أبي الأرقم عبدُ مَناف بنُ عبد الله بن عمر بن مخزوم، وكان الأرقم يُكْنى أبا خِندِف (1) .
عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ قریش سے تعلق رکھنے والے قبیلہ بنی مخزوم کی جانب سے غزوہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سیدنا ارقم بن ابی ارقم مخزومی رضی اللہ عنہ شامل ہیں۔ ابوالارقم کے والد کا نام عبد مناف بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم ہے۔ آپ بدری صحابی ہیں۔ آپ، سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ اکٹھے مسلمان ہوئے تھے۔ اور سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بدری صحابہ کرام میں سب سے آخر میں فوت ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6247]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6247 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م): جندب.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں یہ نام 'جندب' مذکور ہے۔
ورواه عن محمد بن عمرو بن خالد أيضًا الطبراني في "الكبير" (905)، وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (1017)، وفي روايته واسم أبي الأرقم عبد مناف ويكنى أبا خندف، فجعل الكنية لأبي الأرقم وليس للأرقم كما وقع للمصنف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے 'الکبیر' (905) میں محمد بن عمرو بن خالد سے روایت کیا ہے، اور ان سے ابو نعیم نے 'معرفۃ الصحابہ' (1017) میں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں ابو الارقم کا نام عبد مناف اور کنیت 'ابو خندف' بتائی گئی ہے، یعنی کنیت الارقم کے بجائے ان کے والد (ابو الارقم) کی قرار دی گئی ہے۔
وجعل محمد بن سعد في "طبقاته" 3/ 223 هذه الكنية لجده أسد بن عبد الله، إلّا أنه وقع عنده: أبو جندب، وكنى الأرقم أبا عبد الله، وتبعه على ذلك كل من ترجم للأرقم كأبي نعيم وغيره، وهو المشهور عندهم.
🔍 ناموں کی تحقیق: ابن سعد نے 'الطبقات' (3/ 223) میں یہ کنیت ان کے دادا اسد بن عبد اللہ کے لیے لکھی ہے مگر ان کے ہاں یہ 'ابو جندب' ہے۔ 📌 اہم نکتہ: مشہور یہی ہے کہ الارقم کی کنیت 'ابو عبد اللہ' ہے، جیسا کہ ابو نعیم اور دیگر تذکرہ نگاروں نے لکھا ہے۔