المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
791. ذكر روايات الضحاك بن قيس عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم
نبی کریم ﷺ سے ضحاک بن قیس کی روایات کا ذکر
حدیث نمبر: 6360
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا شَبَاب العُصفُري، حدثنا الوليد بن هشام القَحذَمي، عن أبيه، عن جدِّه، وأبو اليَقْظان (1) وغيرهما، قالوا: قَدِمَ ابن زيادٍ الشام وقد بايعَ أهلُ الشام عبدَ الله بن الزُّبير ما خلا أهلّ الجابيَةِ، فبايع ابنُ زياد ومَن كان هناك من بني أُميَّة ومَوالِيهم مروانَ بنَ الحَكَم ومِن بعده لخالد بن يزيد بن معاوية، وذلك للنصف من ذي القَعْدة سنة أربع وستين، ثم سار إلى الضحاك بن قيس فالتقَوْا بِمَرْج راهِطٍ فاقتتلوا عشرين يومًا، ثم كانت الهزيمةُ على الضحاك بن قيس وأصحابه، وذلك في ذي الحِجَّة من سنة أربع وستين، فقُتِل الضحاكُ بن قيس وناسٌ كثير من قيس.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6231 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6231 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
ولید بن ہشام قحذمی اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے اور ابوالیقظان اور دیگر راوی روایت کرتے ہیں کہ ابن زیاد شام میں آیا، جب اہل شام سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر چکے تھے، صرف اہل جابیہ نے ان کی بیعت نہیں کی تھی۔ ان لوگوں نے ابن زیاد کی بیعت کی۔ وہاں پر بنو امیہ اور ان کے موالی کی جانب سے مروان بن حکم موجود تھا۔ (جابیہ کے لوگوں نے مروان کی بیعت کی اور) اس کے بعد خالد بن یزید بن معاویہ کی۔ یہ واقعہ 64 ہجری، ذی القعدہ کے درمیان پیش آیا۔ پھر ان لوگوں نے ضحاک بن قیس کی جانب پیش قدمی کی۔ اور مرج راہط میں دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہو گئی۔ بیس دن تک ان کے درمیان سخت جنگ ہوتی رہی، اس کے بعد ضحاک بن قیس اور اس کے ساتھیوں کو شکست ہوئی۔ یہ واقعہ 64 ہجری ذی الحجہ میں پیش آیا۔ اس جنگ میں ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے بہت سارے ساتھی شہید ہوئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6360]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6360 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في نسخنا الخطية: وأبي اليقظان، عطفًا على جدّ الوليد، وهذا خطأ، فإنَّ أبا اليقظان هذا هو شيخ خليفة بن خياط الملقَّب بشَبَاب، فيكون أبو اليقظان معطوفًا في الإسناد على الوليد بن هشام، وقد روى خليفة في "تاريخه" بهذا الإسناد عدة أخبار. ونحو هذا الخبر في "تاريخ خليفة" ص 259 لكن بلا إسناد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں 'ابو الیقظان' کا عطف غلط ہے؛ اصل میں ابو الیقظان خلیفہ بن خیاط کے استاد ہیں، لہٰذا سند میں ان کا عطف ولید بن ہشام پر ہونا چاہیے۔ خلیفہ بن خیاط نے اپنی "تاریخ" میں اس سند سے کئی خبریں روایت کی ہیں۔
لكن رواه من طريقه بهذا الإسناد ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 57/ 256 من طريق أحمد بن عمران، عن موسى بن زكريا عنه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر (57/ 256) نے احمد بن عمران عن موسیٰ بن زکریا کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد سلف بيان حال الوليد بن هشام وأبيه وجده فيما تقدَّم عند المصنف برقم (5162)، وأبو اليقظان: اسمه عامر بن حفص التميمي النسّابة الأخباري ويلقَّب بسحيم كما في "نزهة الألباب في الألقاب" لابن حجر (1471).
🔍 ناموں کی تحقیق: ولید بن ہشام اور ان کے آباؤ اجداد کے حالات رقم (5162) پر گزر چکے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابو الیقظان کا نام عامر بن حفص التمیمی ہے، وہ مشہور ماہرِ انساب و تاریخ تھے اور ان کا لقب 'سحیم' تھا۔