المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
70. عدم الغسل للجنابة فى شدة البرد
سخت سردی میں جنابت کا غسل نہ کرنے کی رخصت۔
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، حدَّثني عمرو بن الحارث ورجلٌ آخر، عن يزيد بن أبي حبيب، عن عِمران بن أبي أنس، عن عبد الرحمن بن جُبَير، عن أبي قيس مولى عمرو بن العاص: أنَّ عمرو بن العاص كان على سَرِيَّة، وأنهم أصابهم بردٌ شديد لم يُرَ مثلُه، فخرج لصلاة الصبح فقال: والله لقد احتلمتُ البارحةَ، ولكني والله ما رأيتُ بردًا مثلَ هذا، هل مرَّ على وجوهكم مثلُه؟ قالوا: لا، فغسل مَغابِنَه وتوضَّأَ وضوءَه للصلاة ثم صلى بهم، فلما قَدِمَ على رسول الله ﷺ، سألَ رسولُ الله ﷺ:"كيف وجدتُم عَمْرًا وصحابتَه؟" فأثَنْوا عليه خيرًا وقالوا: يا رسول الله، صلَّى بنا وهو جُنُبٌ، فأرسل رسول الله ﷺ إلى عمرو فسأله، فأخبره بذلك وبالذي لَقِيَ من البرد، فقال: يا رسول الله، إنَّ الله قال: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [النساء: 29] ولو اغتسلتُ مُتُّ، فضَحِكَ رسول الله ﷺ إلى عمرو (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما عَلَّلاه بحديث جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 628 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، والذي عندي أنهما عَلَّلاه بحديث جرير بن حازم عن يحيى بن أيوب عن يزيد بن أبي حبيب الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 628 - على شرطهما
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو قیس سے مروی ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص ایک لشکر کے امیر تھے اور انہیں اتنی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا کہ ویسی پہلے کبھی نہ دیکھی تھی، جب وہ صبح کی نماز کے لیے نکلے تو فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے رات کو احتلام ہو گیا تھا، لیکن اللہ کی قسم میں نے ایسی سردی کبھی نہیں دیکھی، کیا آپ لوگوں کو بھی ایسی سردی لگی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں،“ تو انہوں نے اپنے مخصوص اعضاء دھوئے، نماز والا وضو کیا اور انہیں نماز پڑھا دی، جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم نے عمرو اور اس کے ساتھیوں کو کیسا پایا؟“ انہوں نے تعریف کی اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! انہوں نے ہمیں جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی،“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر پوچھا تو انہوں نے شدید سردی کا بتایا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! اللہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ﴾ [النساء: 29] اور اگر میں غسل کرتا تو مر جاتا،“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطهارة/حدیث: 638]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 638 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح على خلاف في إسناده وبعض ألفاظ متنه، كما هو مبيَّن في "مسند أحمد" 29/ (17812)، وهذا إسناد رجاله ثقات عن آخرهم إلّا أنَّ صورته صورة المرسل، فإنَّ أبا قيس من التابعين ولم يشهد هذه القصة، لكن في الغالب أنه سمعه من مولاه عمرو بن العاص، والله تعالى أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس کی سند اور متن کے بعض الفاظ میں اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ "مسند احمد" 29/ (17812) میں اس کی وضاحت موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم اس کی ظاہری صورت "مرسل" کی ہے، کیونکہ ابو قیس (عمرو بن العاص کے مولیٰ) تابعی ہیں اور وہ اس قصے کے وقت موجود نہیں تھے، لیکن غالب گمان یہی ہے کہ انہوں نے یہ اپنے آقا عمرو بن العاص سے ہی سنی ہوگی۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه أبو داود (335)، وابن حبان (1315) من طريقين عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت کو امام ابو داؤد (335) اور امام ابن حبان (1315) نے ابن وہب کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقرن أبو داود بابن وهبٍ ابنَ لهيعة، وحديث ابن لهيعة عند أحمد 29/ (17812) لكن من رواية عبد الرحمن بن جبير عن عمرو بن العاص بإسقاط أبي قيس، وفيها ذكر التيمم مكان الوضوء كما في رواية يحيى بن أيوب التالية.
🧩 متابعات و شواہد: امام ابو داؤد نے ابن وہب کے ساتھ ابن لہیعہ کو بھی ذکر کیا ہے، اور ابن لہیعہ کی روایت "مسند احمد" 29/ (17812) میں موجود ہے، مگر وہ عبد الرحمن بن جبیر عن عمرو بن العاص کی سند سے ہے جس میں ابو قیس کا واسطہ ساقط ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس روایت میں وضو کی جگہ تیمم کا ذکر ہے، جیسا کہ یحییٰ بن ایوب کی اگلی روایت میں آئے گا۔