المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
815. رأى ابن عباس جبريل فى بيت النبى
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں جبریل علیہ السلام کو دیکھا
حدیث نمبر: 6420
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عاصم بن علي، حدثتنا زينبُ بنت سليمان بن علي بن عبد الله بن عبّاس، حدثني أَبي قال: سمعت أَبي يقول؛ قال: بَعَثَ العبّاس ابنه عبد الله إلى النبي ﷺ فنام وراءَه، وعند النبي ﷺ رجلٌ، فالْتَفَت النبيُّ ﷺ فقال:"متى جئتَ يا حبيبي؟" قال: مُذْ ساعةٍ، قال:"هل رأيتَ عندي أَحدًا؟" قال: نعم، رأيتُ رجلًا، قال:"ذاك جبريلُ ﵇، ولم يَرَه خَلْقٌ إِلَّا عَمِيَ إلَّا أن يكون نبيًّا، ولكنْ أن يُجعَلَ ذلك في آخر عُمرِك"، ثم قال:"اللهمَّ علِّمه التأويلَ، وفقِّهْه في الدِّين، واجعَلْه من أهلِ الإيمان" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6287 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6287 - بل منكر
سیدنا علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سو گئے، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دوسرا شخص بھی بیٹھا ہوا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی اور پوچھا: اے میرے دوست! تم کب آئے؟ انہوں نے کہا: ابھی کچھ ہی دیر ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے میرے پاس کسی کو دیکھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں نے ایک آدمی آپ کے پس دیکھا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سیدنا جبریل امین علیہ السلام تھے۔ انبیاء کرام کے علاوہ، میرے چچا کے سوا مخلوقات میں سے کسی نے بھی ان کو نہیں دیکھا، مگر یہ کہ تمہاری زندگی کے آخر میں یہ کام کر دیا جائے۔ پھر یوں دعا فرمائی ” اے اللہ! اس کو تاویل کا علم سکھا اور اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما۔ اور اس کو اہل ایمان میں سے بنا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6420]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6420 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) منكر وإسناده ضعيف، زينب بنت سليمان العبّاسية لم يؤثر فيها جرح أو تعديل، وقد ذكر لها الخطيب البغدادي وابن عساكر في "تاريخيهما" أحاديث منكرة، ومنها هذا الحديث، وتعقَّب الذهبيُّ الحاكمَ في تصحيح إسناده فقال: بل منكر. وعاصم بن علي مختلف فيه، وهو وسطٌ، وقد ضعفه ابن معين والنسائي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "منکر" ہے اور اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راویہ زینب بنت سلیمان العباسیہ کی توثیق یا جرح منقول نہیں، اور خطیب و ابن عساکر نے ان کی چند منکر احادیث ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔ امام ذہبی نے اس سند کو صحیح قرار دینے پر امام حاکم کا تعاقب کیا اور اسے منکر کہا۔ عاصم بن علی بھی اختلافی راوی ہیں (درمیانے درجے کے)، جنہیں ابن معین اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
وأخرجه الخطيب في "تاريخ بغداد" 16/ 621 - 622، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 170 - 171 من طريق أحمد بن الخليل بن مالك، عن زينب بنت سليمان، بهذا الإسناد. وأحمد بن الخليل ضعفه الدارقطني، وقال كما في "تاريخ بغداد" 5/ 218: لا يحتج به.
📖 حوالہ / مصدر: خطیب نے "تاریخ بغداد" (16/ 621) میں اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (69/ 170) میں احمد بن الخلیل بن مالک کے واسطے سے زینب بنت سلیمان سے اسی سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: احمد بن الخلیل کو امام دارقطنی نے ضعیف کہا ہے اور بقول خطیب (5/ 218) وہ قابلِ احتجاج نہیں ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (6413).
📝 نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں گزشتہ رقم 6413 ملاحظہ کریں۔