المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
819. ذكر ابن عباس فى طلب العلم
علم کے حصول میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی محنت
حدیث نمبر: 6427
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْوٍ، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا يزيد بن هارون، أخبرني جَرِير بن حازم، عن يعلى بن حَكيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: لما مات رسولُ الله ﷺ قلت لرجلٍ من الأنصار: هَلُمَّ يا فلانُ فلنطلُبْ، فإنَّ أصحابَ رسول الله ﷺ أحياءٌ، قال: عجبًا لك يا ابنَ عبّاس، تَرَى الناسَ يحتاجون إليك وفي الناسِ من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاكَ وأقبلتُ أطلُبُ، إن كان الحديثُ لَيبلُغُني عن الرجل من أصحابِ رسول الله ﷺ، قد سَمِعَه من رسول الله، فآتِيهِ فأجلسُ ببابه فتَسفِقُ الريحُ على وجهي فيخرج إليَّ فيقول: يا ابنَ عمِّ رسولِ الله ﷺ، ما جاءَ بك؟ ما حاجَتُك؟ فأقولُ: حديثٌ بَلَغَني عنك تَرويهِ عن رسول الله ﷺ، فيقول: ألَا أرسلت إليَّ؟ فأقولُ: أنا أحقُّ أن آتيَكَ. قال: فبقيَ ذلك الرجلُ حتى إنَّ الناسَ اجتَمَعوا عليَّ فقال: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وصال فرما گئے تو میں نے ایک انصاری شخص سے کہا: اے فلاں شخص تم آؤ، ہم علم طلب کر لیں کیونکہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب زندہ ہیں۔ اس نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما مجھے تو تم پر حیرانگی ہو رہی ہے، تم دیکھتے ہو کہ لوگ علم میں تمہارے محتاج ہیں، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کون ہیں؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے وہ سلسلہ چھوڑ دیا ہے اور علم حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ مجھے پتا چلا کہ فلاں شخص کے پاس ایک حدیث موجود ہے جو کہ اس نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں جا کر اس کے دروازے کے باہر بیٹھ گیا، ہواؤں نے گرد و غبار اڑا اڑا کر میرے چہرے پر ڈال دیا تھا، اس آدمی نے جب باہر نکل کر مجھے دیکھا تو وہ کہنے لگا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد! آپ کس لئے تشریف لائے ہیں؟ آپ کو ہم سے کیا کام ہے؟ میں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے جو تم بیان کرتے ہو۔ (میں وہ حدیث سننے کے لئے آیا ہوں) اس آدمی نے کہا: آپ مجھے پیغام بھیج دیتے، میں خود آپ کے پاس چلا آتا، تو میں نے کہا: میرا زیادہ حق بنتا ہے کہ میں چل کر آپ کے پاس آؤں، وہ آدمی ابھی زندہ تھا کہ لوگ میرے پاس جمع ہونے لگ گئے، تو وہ آدمی کہا کرتا تھا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6427]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6427 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، إلَّا أنَّ ذكر سعيد بن جبير فيه وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية يعلى بن حكيم عن عكرمة، هكذا قال كلُّ من رواه عن يزيد بن هارون، وقد سلف من طريقه على الصواب برقم (368).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، مگر اس میں سعید بن جبیر کا ذکر "وہم" (غلطی) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محفوظ بات یہ ہے کہ یہ "یعلٰی بن حکیم" کی عکرمہ سے روایت ہے، اور یزید بن ہارون سے روایت کرنے والے تمام راویوں نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ مصنف کے ہاں رقم (368) پر یہ روایت درست طریقے سے پہلے گزر چکی ہے۔
قوله: فتسفق، أي: تضرب وتلطم، وسلف بلفظ: تَسفي الريح، أي: تذرّ وتنثر.
📝 نوٹ / توضیح: قول "فتسفق" کا مطلب مارنا یا تھپڑ مارنا ہے؛ جبکہ پہلے یہ "تسفی الریح" کے الفاظ سے گزرا ہے جس کا مطلب ہوا کا اڑانا یا بکھیرنا ہے۔