🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
820. سؤالات عمر عن ابن عباس فى المسائل المعضلة
امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے مشکل مسائل میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6428
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحَجّاج، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة: أنَّ ناسًا ارتدُّوا على عهد عليٍّ فأحرَقَهم بالنار، فبلغ ذلك ابن عبّاس، فقال: لو كنتُ أنا كنتُ قاتِلَهم، لقول رسول الله ﷺ:"من بدَّلَ دينَه فاقتُلوه"، ولم أكن أُحرِّقُهم، لأني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا تُعذِّبوا بعذابِ الله". فبلغ ذلك عليًّا فقال: وَيْحَ ابنِ عبّاس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
سیدنا عکرمہ فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو آگ میں جلوا دیا، اس بات کی خبر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو میں ان کو سادہ طریقے سے قتل کروا دیتا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ جس نے اپنا دین بدل لیا اس کو قتل کر دو، میں ان کو جلانے سے گریز کرتا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سن رکھا ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا عذاب نہ دو۔ اس بات کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6428]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6428 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1871) و 4 / (2551) و (2552)، والبخاري (3017) و (6922)، وأبو داود (4351)، والترمذي، (1458)، والنسائي (3509)، وابن حبان (5606) من طرق عن أيوب السختياني، عن عِكْرمة به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1871، 4/ 2551)، بخاری (3017، 6922)، ابوداود (4351)، ترمذی (1458)، نسائی (3509) اور ابن حبان (5606) نے ایوب السختیانی کے واسطے سے عکرمہ سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحاح میں موجود ہے۔
وأخرج أحمد 5/ (2966)، والنسائي (3514) من طريق قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ عليًا أتي بأناس … فذكر نحوه مختصرًا.
🧩 متابعات و شواہد: امام احمد (5/ 2966) اور نسائی (3514) نے قتادہ کے طریق سے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے... آگے اسی طرح کی روایت مختصراً مذکور ہے۔