🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
819. ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ
علم کے حصول میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی محنت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6428
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحَجّاج، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة: أنَّ ناسًا ارتدُّوا على عهد عليٍّ فأحرَقَهم بالنار، فبلغ ذلك ابن عبّاس، فقال: لو كنتُ أنا كنتُ قاتِلَهم، لقول رسول الله ﷺ:"من بدَّلَ دينَه فاقتُلوه"، ولم أكن أُحرِّقُهم، لأني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لا تُعذِّبوا بعذابِ الله". فبلغ ذلك عليًّا فقال: وَيْحَ ابنِ عبّاس (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو انہوں نے انہیں آگ سے جلا دیا، جب یہ خبر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں انہیں (تلوار سے) قتل کر دیتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو، اور میں انہیں آگ سے ہرگز نہ جلاتا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: تم اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔ جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچائی گئی تو انہوں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی علمی بصیرت پر تعجب کرتے ہوئے) فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھلا ہو (یا ابن عباس نے سچ کہا)۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6428]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6428] [ترقيم الشركة 6354] [ترقيم العلميه 6295]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6428 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1871) و 4 / (2551) و (2552)، والبخاري (3017) و (6922)، وأبو داود (4351)، والترمذي، (1458)، والنسائي (3509)، وابن حبان (5606) من طرق عن أيوب السختياني، عن عِكْرمة به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1871، 4/ 2551)، بخاری (3017، 6922)، ابوداود (4351)، ترمذی (1458)، نسائی (3509) اور ابن حبان (5606) نے ایوب السختیانی کے واسطے سے عکرمہ سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحاح میں موجود ہے۔
وأخرج أحمد 5/ (2966)، والنسائي (3514) من طريق قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ عليًا أتي بأناس … فذكر نحوه مختصرًا.
🧩 متابعات و شواہد: امام احمد (5/ 2966) اور نسائی (3514) نے قتادہ کے طریق سے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے... آگے اسی طرح کی روایت مختصراً مذکور ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 6428 in Urdu