🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
820. سؤالات عمر عن ابن عباس فى المسائل المعضلة
امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے مشکل مسائل میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوالات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6429
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرير وأبو داود قالا: حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس قال: كان عمرُ يسألُني مع أصحاب النبي ﷺ، فقال له عبدُ الرحمن بن عَوْف: أتسألُه ولنا بَنُونَ مثله؟! قال: فقال عمر: إنَّه من حيثُ تَعلَمُ، قال: فسألهم عن ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال: فقلت: هو أَجَلُ رسولِ الله ﷺ؛ وقرأَ السورةَ إلى آخرها ﴿إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾، قال: فقال عمر: والله ما أعلمُ منها إلَّا ما تَعلَمُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6296 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مجھ سے مسائل پوچھا کرتے تھے، حالانکہ کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے مسائل پوچھتے ہو، وہ ہمارے بچوں کے برابر ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تمہارے اپنے علم کے لحاظ سے (تمہیں بچہ نظر آتا ہے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سورۃ اذا جاء نصر اللہ و الفتح کے بارے میں پوچھا تو کچھ لوگوں نے کہا: اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی حمد بیان کریں اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کریں۔ کچھ نے کہا: ہمیں اس کا علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھے کہا: اے ابن عباس! اس سورۃ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر دلالت کرتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے انہ کان توابا تک پوری سورت پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خدا کی قسم! اس سورت کے بارے میں، میں وہی جانتا ہوں، جو آپ جانتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6429]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6429 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية. وأخرجه الترمذي (3362) عن عبد بن حميد، عن أبي داود سليمان بن داود وحده، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابو داود سے مراد سلیمان بن داود الطیالسی اور ابو بشر سے مراد جعفر بن ابی وحشیہ ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: ترمذی (3362) نے اسے عبد بن حمید کے واسطے سے صرف سلیمان بن داود سے روایت کیا ہے اور اسے "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔
وأخرجه البخاري (3627) و (4430)، والترمذي (3362 م) من طريقين عن شعبة، به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (3627، 4430) اور ترمذی (3362) نے شعبہ کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا سہو ہے کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3127)، والبخاري (4294) و (4970) من طريقين عن أبي بشر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 3127) اور بخاری (4294، 4970) نے ابو بشر کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (4969)، والنسائي (7040) و (11647) من طريقين عن سعيد بن جبير، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسی مفہوم کو امام بخاری (4969) اور نسائی (7040، 11647) نے سعید بن جبیر کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔