المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
824. ذكر الكلام بين ابن عباس ومعاوية فى استلام الركنين
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان رکنوں کے استلام پر گفتگو
حدیث نمبر: 6437
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُعلَّى (2) بن مَهديّ، حدثنا أبو شِهاب أخبرنا عيسى بن محمد القُرشي، عن ابن أبي مُلَيكة، عن ابن عبّاس قال: قال لي رسول الله ﷺ:"احفظِ اللهَ يَحفَظْك، احفظِ الله تَجِدْه أمامك، تعرَّفْ إلى الله في الرَّخاء يَعرِفْك في الشِّدة، واعلم أنَّ ما أصابك لم يكن ليُخطئك، وما أخطأَكَ لم يكن ليُصيبَك، واعلم أنَّ الخلائقَ لو اجتمعوا أن يُعطوك شيئًا لم يُرِدِ الله أن يُعطيَك، لم يَقدِروا عليه، ولو اجتمعوا أن يَصرِفوا عنك شيئًا أراد اللهُ أن يُصيبَك به، لم يَقدِروا على ذلك، فإذا سألتَ فاسألِ الله، وإذا استعنتَ فاستَعِنْ بالله، واعلم أنَّ النصرَ مع الصَّبْر، وأنَّ الفَرَجَ مع الكَرْب، وأنَّ مع العُسرِ يُسرًا، واعلم أن القلم قد جَرَى بما هو كائن" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6304 - عيسى بن محمد القرشي ليس بمعتمد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6304 - عيسى بن محمد القرشي ليس بمعتمد
مذکورہ اسناد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو (حدود) اللہ کی حفاظت کر، اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا، تو اللہ تعالیٰ (کے دین) کی حفاظت کر تو اس (کی مدد) کو اپنے سامنے پائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو آسودگی میں یاد کیا کر، اللہ تعالیٰ تنگی میں تجھے یاد رکھے گا، اور اس بات کا یقین رکھو کہ جو معاملہ تجھے پیش آیا ہے، وہ آنا ہی تھا، وہ ٹل نہیں سکتا تھا۔ اور جو تجھے نہیں مل سکا، وہ ملنا ہی نہیں تھا۔ یہ بھی یقین رکھو کہ اگر ساری دنیا مل کر تجھے اس چیز کا فائدہ دینا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے نصیب میں نہیں لکھی، تو یہ تجھے کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ اور ساری دنیا مل کر تجھے اس چیز کا نقصان دینا چاہے جو اللہ تعالیٰ نے تیری قسمت میں نہیں لکھا تو یہ تجھے کچھ بھی نقصان نہیں دے سکتی۔ جب بھی مانگنا ہو، اللہ سے مانگو اور جب بھی مدد طلب کرنی ہو تو اللہ تعالیٰ سے کرو۔ اور جان لو کہ صبر کے ساتھ ہی مدد ہے۔ اور جان لو کہ ہر تکلیف کے بعد کشادگی ہوتی ہے۔ اور جان لو کہ ہر تنگی کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ اور جان لو کہ (تقدیر کے) قلم نے وہ سب لکھ دیا ہے جو قیامت تک ہونے والا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6437]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6437 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: يعلى.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف (غلطی) کی وجہ سے "یعلیٰ" لکھا گیا ہے۔
(3) حديث قوي بمجموع طرقه كما ذكرنا في الحديث السابق، وهذا إسناد ضعيف، عيسى بن محمد القرشي قال أبو حاتم الرازي كما في "الجرح والتعديل" 6/ 286: ليس بقوي، وقال العقيلي في "الضعفاء": مجهول بالنقل لا يعرف إلَّا به؛ يعني هذا الحديث، وقال الذهبي في "تلخيص المستدرك": عيسى ليس بمعتمد.
⚖️ درجۂ حدیث: گزشتہ حدیث کی طرح یہ بھی مجموعی طرق سے "قوی" ہے، اگرچہ یہ مخصوص سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عیسیٰ بن محمد القرشی کے بارے میں ابو حاتم رازی نے کہا کہ وہ "قوی نہیں ہیں"؛ عقیلی نے انہیں "مجہول" کہا ہے، اور امام ذہبی نے صراحت کی ہے کہ عیسیٰ قابلِ اعتماد (معتمد) نہیں ہیں۔
أبو شِهاب: هو عبد ربه بن نافع الحناط، وابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں ابو شہاب سے مراد عبد ربہ بن نافع الحناط ہیں، اور ابن ابی ملیکہ سے مراد عبداللہ بن عبید اللہ ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (11243)، وفي "الدعاء" (41)، والقضاعي في "مسند الشهاب" (454) من طريق علي بن عبد العزيز البغوي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (11243) اور "الدعاء" (41) میں، اور قضاعی نے "مسند الشہاب" (454) میں علی بن عبدالعزیز البغوی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه جعفر الفريابي في "القدر" (154)، والعقيلي في "الضعفاء" (1387)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4284)، والبيهقي في "الآداب" (933)، والشجري في "أماليه" 2/ 194 - 195 من طريقين عن أبي شهاب الحناط، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے جعفر الفریابی "القدر" (154)، عقیلی "الضعفاء" (1387)، ابونعیم "معرفة الصحابہ" (4284)، بیہقی "الآداب" (933) اور شجری نے اپنی "امالی" میں ابو شہاب الحناط کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔