المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
824. ذكر الكلام بين ابن عباس ومعاوية فى استلام الركنين
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان رکنوں کے استلام پر گفتگو
حدیث نمبر: 6438
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير بن معاوية حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، حدثني أبو الطُّفيل: أنه رأى معاويةَ يطوفُ بالكعبة وعن يساره عبدُ الله بن عبّاس وأنا أَتلُوهما في ظُهورهما أسمعُ كلامَهما، فطَفِقَ معاويةُ يستلمُ رُكنَي الحِجْر، فيقول له ابن عبّاس: إنَّ رسولَ الله ﷺ لم يكن يستلمُ هذين الرُّكنَين، فيقول معاوية: يا ابنَ عبّاس، فإنه ليس شيءٌ منها مهجورًا، فطَفِقَ ابنُ عبّاس لا يَذَرُه كلَّما وَضَعَ يده على شيء من الرُّكنين إلَّا قال له ذلك ابنُ عبّاس (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6305 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6305 - صحيح
ابوالطفیل فرماتے ہیں: انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ کی بائیں جانب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، میں ان کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، اور ان کی گفتگو کی آواز مجھے آ رہی تھی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کے دونوں رکنوں کا استلام کیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو کہا: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان رکنوں کا استلام نہیں کیا کرتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: اے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما! یہاں پر کوئی بھی عمل چھوڑنے کے قابل نہیں ہے۔ اس کے بعد جب بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کسی رکن پر ہاتھ رکھتے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کی وہ بات دہراتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6438]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6438 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل ابن خثيم. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة، صحابي صغير.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن خثیم (عبد اللہ بن عثمان) کی وجہ سے سند قوی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الطفیل سے مراد عامر بن واثلہ ہیں، جو کہ صغارِ صحابہ (کم عمر صحابہ) میں سے ہیں۔
وأخرجه أحمد 4 / (2210) عن حسن بن موسى، عن أبي خيثمة زهير بن معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے مسند (4/ 2210) میں حسن بن موسیٰ کے طریق سے، انہوں نے ابو خثیمہ زہیر بن معاویہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ 3074، والترمذي (858) من طريق سفيان الثوري ومعمر، عن ابن خثيم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 3074) اور امام ترمذی (858) نے سفیان الثوری اور معمر بن راشد کے طریق سے ابن خثیم کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 5/ (3532)، ومسلم (1269) من طريق قتادة، عن أبي الطفيل. ورواية مسلم مختصرة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (5/ 3532) اور امام مسلم (1269) نے قتادہ کے طریق سے ابو الطفیل سے روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام مسلم کی روایت مختصر الفاظ پر مشتمل ہے۔