المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
825. تفسير آية عن ابن عباس
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک آیت کی تفسیر
حدیث نمبر: 6439
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بن محمد بن سَوّار، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، أخبرنا جرير، عن سالم بن أبي حَفْصة، عن عبد الله بن مُلَيْل العِجْلي قال: سمعتُ ابن عبّاس قبل موته بثلاثٍ يقول: اللهمَّ إني أتوبُ إليك ممّا كنت أُفتي الناسَ في الصَّرْف (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو من أجلِّ مناقبِ عبد الله بن عبّاس: أنه رَجَعَ عن فتوى لم يُنقَمْ عليه في شيءٍ غيرِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6306 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو من أجلِّ مناقبِ عبد الله بن عبّاس: أنه رَجَعَ عن فتوى لم يُنقَمْ عليه في شيءٍ غيرِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6306 - صحيح
عبداللہ بن ملیک بجلی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی وفات سے صرف تین دن پہلے ان کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے کہ ” اے اللہ! میں لوگوں کو جو فتوے دیا کرتا تھا، میں اس سے توبہ کرتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اس حدیث میں آپ کی یہ سب سے بڑی فضیلت موجود ہے کہ آپ نے فتویٰ سے رجوع فرما لیا تھا۔ (آپ کی ذات پر اس ایک بات کے علاوہ اور کوئی اعتراض نہیں) [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6439]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6439 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل سالم بن أبي حفصة وشيخه ابن مُليل جرير: هو ابن عبد الحميد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، تاہم سالم بن ابی حفصہ اور ان کے شیخ ابن ملیل کی وجہ سے یہ مخصوص سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "جریر" سے مراد جریر بن عبدالحمید ہیں۔
وروى نحوه عن ابن عبّاس أبو الشعثاء جابر بن زيد عند الطبراني (456) و (457) بإسناد جيد. ورواه مفصَّلًا عن ابن عبّاس أبو الجوزاء الربعي عند أحمد 18/ (11479) - وهو عند ابن ماجه مختصرًا (2258) - قال: سألتُ ابن عباس عن الصرف، يدًا بيد، فقال: لا بأس بذلك اثنين بواحدٍ، أكثر من ذلك وأقل، قال أبو الجوزاء: ثم حججتُ مرة أخرى والشيخُ حي - يعني ابن عبّاس - فأتيته فسألته عن الصرف، فقال: وزنًا بوزنٍ فقلت: إنك قد أفتيتني اثنين بواحد، فلم أزل أُفتي به منذ أفتيتني، فقال: إنَّ ذلك كان عن رأيي، وهذا أبو سعيد الخدري يحدِّث عن رسول الله ﷺ، فتركتُ رأيي إلى حديث رسول الله ﷺ.
⚖️ درجۂ حدیث: اسی طرح کی روایت ابو الشعثاء جابر بن زید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے طبرانی (456، 457) میں "جید" سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ابو الجوزاء الربعی نے مسند احمد (18/ 11479) میں اسے تفصیل سے نقل کیا ہے (اور ابن ماجہ 2258 میں یہ مختصراً ہے) کہ انہوں نے ابن عباس سے صرافہ (کرنسی کے تبادلے) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے دو کے بدلے ایک کی اجازت دی؛ لیکن دوبارہ حج پر ملاقات ہوئی تو ابن عباس نے فرمایا کہ تبادلہ برابر وزن پر ہونا چاہیے۔ جب ابو الجوزاء نے پچھلے فتوے کا ذکر کیا تو ابن عباس نے تاریخی کلمات کہے: "وہ میری اپنی رائے تھی، لیکن اب ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں، لہٰذا میں نے اپنی رائے چھوڑ کر حدیثِ رسول ﷺ کو اختیار کر لیا ہے"۔
وانظر رواية أبي مجلز المطوّلة في قصة ابن عبّاس وأبي سعيد السالفة عند المصنف برقم (2313).
📌 اہم نکتہ: اس حوالے سے ابو مجلز کی طویل روایت جو ابن عباس اور ابو سعید خدری کے قصے پر مشتمل ہے، مصنف کے ہاں پیچھے رقم (2313) پر ملاحظہ کریں۔