المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
842. ذكر قتال ابن الزبير مع حصين بن نمير
سیدنا حصین بن نمیر کے ساتھ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتال کا ذکر
حدیث نمبر: 6475
فحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني مَسلَمةُ بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبير قال: سمعتُ أَبي يقول: أَرسلَ ابنُ الزُّبير إلى الحُصَين بن نُمير يدعوه إلى البراز، فقال الحُصين: لا يَمنعُني من لقائك جُبْنٌ، ولستُ أدري لمن يكون الظَّفَرُ، فإن كان لك كنتُ قد ضيَّعتَ مَن ورائي، وإن كان لي كنتُ قد أخطأتُ التدبير، وإن ظَفِرتُ (3) .
مسلمہ بن عبداللہ بن عروہ بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حصین بن نمیر کو پیغام بھیجا اور مبارز طلبی فرمائی (یعنی جنگ میں مقابلے کے لئے بلایا) حصین بن نمیر نے کہا: تمہارے مقابلے میں آنے سے نہ تو میں بزدلی کی وجہ سے رکا ہوا ہوں، اور نہ ہی مجھے یہ پتا ہے کہ کامیابی کس کے حصے میں آئے گی، اگر تم کامیاب رہے تو میں نے اپنے پیچھے والوں کو ضائع کر دیا اور اگر میں کامیاب ہوا تو اس میں آپ کے فیصلے کی غلطی ہو گی۔ اور اگر میں طواف کر لوں تو واپس چلا جاؤں گا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی شریف میں خیمے لگا دیئے، اس میں عورتیں تھیں، جو کہ زخمیوں کو پانی پلاتیں، اور ان کو پٹی وغیرہ کرتیں اور کھانا کھلاتی تھیں۔ اور زخمیوں کو مرہم لگاتی تھیں۔ حصین بن نمیر نے کہا: ان خیموں سے ہماری طرف ایک بہادر آدمی نکل کر آتا جیسے کوئی شیر اپنی کچھار سے نکل کر آتا ہو، کون شخص اس کا مقابلہ کرے گا؟ شام کے باشندوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں ہوں۔ جب رات ہوئی تو اس نے اپنے نیزے کے کنارے پر موم لگائی، پھر اپنا گھوڑا دوڑایا اور وہ نیزہ پھینک دیا، اس سے آگ نکلنے لگی، ان دنوں کعبہ معظمہ کے فرش پر چٹائیاں بچھائی ہوتی تھیں اور چھت گھاس پھوس کی ہوتی تھی۔ ہوا کے ساتھ اس آگ کا شعلہ کعبہ معظمہ کی چھت پر آ گرا، جس کی وجہ سے کعبہ کی چھت جل گئی، اس دن کعبے کے اندر رکھے ہوئے مینڈھے کے وہ سینگ بھی جل گئے جو سیدنا اسحاق علیہ السلام کے فدیے میں ذبح کیا گیا تھا۔ محمد بن عمر فرماتے ہیں: جب یزید بن معاویہ مر گیا تو حصین بن نمیر وہاں سے بھاگ گیا۔ یزید بن معاویہ کے مرنے کے بعد مروان بن حکم نے لوگوں سے اپنی بیعت لینا شروع کی۔ حمص، اردن اور فلسطین کے لوگوں نے اس کی بیعت کر لی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ضحاک بن قیس فہری کو ایک لاکھ کی فوج دے کر اس کی جانب روانہ کیا، مرج راہط کے مقام پر مروان کے لشکر کے ساتھ مڈبھیڑ ہو گئی، اس موقع پر مروان بنو امیہ کے پانچ ہزار افراد میں تھا، ان میں ان کے موالی اور نوکر چاکر بھی تھے۔ مروان نے اپنے آزاد کردہ غلام ” کرہ “ سے کہا: دونوں طرفوں میں سے کسی ایک طرف سے ان پر حملہ کر دے، اس نے کہا: یہ لوگ اتنے زیادہ ہیں، اتنے بڑے لشکر جرار کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کہا: ان میں سے کچھ لوگ مجبور ہیں اور کچھ مالدار ہیں۔ تو ان پر حملہ کر دے تیری ماں نہ رہے۔ نیزہ باز، چراگاہ کے متلاشی اور عمدہ لوگ تجھے کفایت کریں گے اور وہ لوگ اپنے آپ کا بچاؤ کریں گے۔ کیونکہ وہ لوگ سب کے سب دولت کے پجاری ہیں۔ اس نے حملہ کر دیا اور ان کو شکست دے دی، ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نے مزید پیش قدمی کی۔ اور سامنے والا لشکر بکھر گیا۔ اسی موقع پر زفر بن حارث نے مذکورہ اشعار کہے تھے۔ * میری عمر کی قسم! مرج راہط کے واقعہ سے مروان کے لئے پھٹن اور قید کے واقعات کی مرگی باقی بچی ہے۔ * مجھے میرے ہتھیار دو، تیرا باپ نہ رہے، میں جنگ کے وقت جنگ کی انتہاء کو پہنچتا ہوں۔ * گوبر والی تر زمین پر کھیتی اگتی ہے اور لوگوں کی پیٹھ کا درد اس طرح باقی رہتا ہے۔ حق کے مقاملے میں بحدل، یا اس کا بیٹا زندہ رہے گا یا ابن زبیر کو قتل کر دیا جائے گا۔ تم نے جھوٹ بولا ہے، بیت اللہ شریف کی قسم ہے روشن اور واضح دن میں وہ لوگ اس کو قتل نہیں کریں گے۔ پھر مروان مر گیا تو عبدالملک بن مروان نے اپنے لئے لوگوں سے بیعت لی، اہل شام نے اس کی بیعت کر لی، عبدالملک نے منبر پر چڑھ کر خطبہ دیا اور کہا: عبداللہ بن زبیر کا کام کون تمام کرے گا؟ حجاج نے کہا: اے امیرالمومنین! میں۔ عبدالملک نے اس کو چپ کروا دیا، اس نے اپنی بات پھر دہرائی، عبدالملک نے اس کو پھر خاموش کرا دیا۔ اس نے پھر دہرائی، عبدالملک نے پھر چپ کرا دیا، اس نے پھر کہا: اے امیرالمومنین! میں نے رات خواب میں دیکھا ہے گویا کہ میں نے ڈھال اتاری ہے اور پھر اس کو پہن لیا ہے، عبدالملک نے یہ ذمہ داری حجاج کو دے دی، اور اس کو ایک لشکر جرار دے کر مکہ مکرمہ (اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس کی حفاظت فرمائے) کی طرف روانہ کر دیا۔ حجاج نے لشکر کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کر دی، عبداللہ بن زبیر کے ساتھ بہت سخت جنگ ہوئی، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ سے کہا: ان دونوں پہاڑوں کی حفاظت کرو، کیونکہ جب تک وہ لوگ ان دونوں پہاڑوں کو فتح نہیں کر لیں گے، اس وقت تک یہ مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ لیکن زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ حجاج اور اس کے ساتھی مسجد الحرام میں داخل ہو گئے، اگلے دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو وہاں شہید کر دیا گیا، اس دن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ محترمہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اس وقت ان کی عمر 100 سال ہو چکی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کی سماعت اور بصارت بالکل قائم تھی، اور نہ ہی ان کا کوئی دانت ٹوٹا تھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حجاج کی فوجیں فلاں فلاں مقام تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ کہتے ہوئے سیدنا عبداللہ بن زبیر ہنس پڑے، اور کہا: بے شک موت میں راحت ہے۔ ان کی والدہ نے کہا: اے بیٹے میں نے یہ آرزو کی ہے کہ اس وقت تک مجھے موت نہ آئے جب تک دو کاموں میں سے ایک نہ دیکھ لوں۔ یا تو تم فتح یاب ہو جاؤ اور میری آنکھیں تمہاری فتح دیکھ کر ٹھنڈی ہو جائیں۔ یا تم قتل کر دیئے جاؤ، اور مجھے شہید کی ماں ہونے کا ثواب ملے۔ اس کے بعد ان کی والدہ نے ان کو الوداع کر دیا۔ اور رخصت کرتے ہوئے وصیت فرمائی کہ بیٹا! قتل کے خوف کی وجہ سے تمہاری کوئی بھی دینی خصلت میں تبدیلی نہیں آنی چاہیے۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے مل کر وہاں سے نکلے اور مسجد میں آ گئے، حجر اسود کے قریب دو قتل گاہیں بنائی گئی تھیں۔ صرف منجنیق نصب کرنے کی جگہ باقی بچی تھی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ زمزم شریف کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ان کے پاس آ کر کہا: اگر آپ کہیں تو ہم کعبہ کا دروازہ تمہارے لئے کھول دیتے ہیں اور تم اس کے اوپر چڑھ جاؤ، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کی جانب نگاہ اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: تم اپنے بھائی کو ہر چیز سے بچا سکتے ہو، لیکن موت سے نہیں بچا سکتے، کیا کعبہ شریف کی کوئی خاص حرمت ہے جو اس (زمزم) کے مقام میں نہیں ہے؟ (جب میں یہاں بیٹھا ہوا محفوظ نہیں ہوں تو یہ لوگ کعبہ کا کتنا لحاظ کریں گے؟) خدا کی قسم! اگر یہ لوگ تمہیں کعبہ کے پردوں میں بھی لپٹا پائیں گے تو تمہیں قتل کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔ ان سے کسی نے کہا: آپ صلح کیوں نہیں کر لیتے؟ انہوں نے کہا: یہ صلح کا موقع ہی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! اگر یہ لوگ تمہیں کعبہ کے اندر پائیں تب بھی تم سب کو ذبح کر دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے مذکورہ اشعار پڑھے (جن کا ترجمہ درج ذیل ہے) * میں عار کے بدلے زندگی خریدنے والا نہیں ہوں، اور نہ میں موت کے خوف سے سیڑھی پر چڑھوں گا۔ پھر آپ آل زبیر کی جانب متوجہ ہوئے اور ان کو سمجھانے لگے کہ ہر شخص کی تلوار اس کے سر کی طرح بلند رہنی چاہیے، ایسے نہ ہو کہ تمہاری تلواریں جھکا دی جائیں اور تم عورتوں کی طرح ہاتھوں کے ساتھ اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو جاؤ، خدا کی قسم! میں نے جب بھی کسی جنگ میں شرکت کی ہے، ہمیشہ ہر اول دستے میں رہا ہوں۔ اور میں نے زخم بھی سہے ہیں اور زخموں کی دوا بھی کی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ایک کمانڈر وہاں آ گیا اور اس کے ساتھ ستر آدمی مزید بھی تھے، ان میں سب سے آگے ایک حبشی تھا، وہ سب سے پہلے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے لڑا، آپ نے تلوار کا وار کیا اور اس کی پنڈلیاں کاٹ ڈالیں۔ اس نے بدتمیزی سے سیدنا عبداللہ بن زبیر کو ” اے زانیہ کی اولاد “ کہہ کر گالی دی۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر نے کہا: او سانڈھ کے بچے! سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو گالی مت دے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سب کو مسجد سے نکال دیا، اور خود دوبارہ مسجد میں آ گئے اور آپ نے کچھ ایسے لوگوں کو دیکھا جو باب بنی سہم سے داخل ہو رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اردن کے لوگ ہیں۔ سیدنا عبداللہ نے مذکورہ بالا اشعار پڑھتے ہوئے ان پر بھی حملہ کر دیا اور ان کو مسجد سے نکال دیا۔ * میرے لیے کسی قسم کا کوئی عہد نہیں ہے، میں تو سیل رواں کی طرح ہوں اور یہ غبار رات سے پہلے چھٹنے کا نہیں ہے۔ ان کو بھی مسجد سے نکال دیا، پھر واپس آئے تو کچھ لوگ باب بنی مخزوم سے داخل ہو رہے تھے آپ نے ان پر بھی حملہ کیا، حملہ کرتے ہوئے آپ یہ اشعار پڑھ رہے تھے * اگر میرا مدمقابل ایک ایک کر کے آئے تو میں اس کو کافی ہوں اس کو موت کے گھاٹ اتار دوں اور اس کا صفایا کر دوں۔ راوی کہتے ہیں: مسجد کی چھت پر دشمن کی فوج کے وہ لوگ براجمان تھے جو اینٹوں اور پتھروں کے ساتھ حملہ کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ نے ان پر بھی حملہ کر دیا، انہوں نے سنگ باری شروع کر دی، ان میں سے ایک اینٹ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سر پر لگی جس کی وجہ سے آپ کا سر پھٹ گیا، آپ کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہو کر یہ اشعار کہے * ہم وہ لوگ نہیں ہیں کہ ہماری ایڑھیوں پر ہمارا خون گرے، بلکہ ہم وہ لوگ ہیں جن کا خون ان کے قدموں پر گرتا ہے۔ پھر آپ زمین پر گر گئے، آپ کے دو غلام آپ پر آ کر جھک گئے اور وہ کہہ رہے تھے ” غلام اپنے آقا کی حفاظت کرتا ہے اور محفوظ ہوتا ہے، پھر لشکر نے آپ پر چڑھائی کر دی گئی اور آپ کا سر قلم کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 6475]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 6475 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) في نسخنا الخطية: وإن طفت. وهي غير مفهومة، وكتب فوقها في النسخة المحمودية كما في طبعة الميمان: ظفرت، وهو أوجه، فأثبتناها.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں میں "وإن طفت" کے الفاظ ہیں جو کہ غیر مفہوم (ناقابلِ فہم) ہیں، البتہ "نسخہ محمودیہ" میں اس کے اوپر "ظفرت" لکھا ہوا ہے جیسا کہ میمان کی طبع شدہ کتاب میں بھی ہے، اور یہی لفظ زیادہ درست و مناسب ہے، اسی لیے ہم نے اسی کو متن میں برقرار رکھا ہے۔
ومحمد بن عمر: هو الواقدي، وشيخه مسلمة ذكره ابن حبان في "الثقات" 7/ 489، ولا يعرف حاله، وأبوه ثقة معروف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں محمد بن عمر سے مراد محمد بن عمر "الواقدی" ہے، اور ان کے شیخ مسلمہ بن عبد اللہ بن ربعی السلمی کا ذکر امام ابن حبان نے "الثقات" 7/ 489 میں کیا ہے مگر ان کے (مسلمہ کے) ذاتی احوال نامعلوم ہیں، البتہ ان کے والد (عبد اللہ بن ربعی) معروف ثقہ راوی ہیں۔
(4) يعني حديث القاسم بن معن السابق، عن هشام بن عروة عن أبيه.
📝 نوٹ / توضیح: یہاں مراد "القاسم بن معن" کی وہ سابقہ حدیث ہے جو ہشام بن عروہ عن عروہ بن زبیر کے واسطے سے مروی ہے۔
(1) زيادة من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: یہ اضافہ تخریج کے دیگر مصادر سے لیا گیا ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: تهلك.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (غلطی) کی وجہ سے "تہلک" لکھا گیا ہے۔
No matching content found
📝 نوٹ / توضیح: اس نمبر کے تحت کوئی مواد دستیاب نہیں ہوا۔